منگل , 02 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 19 May,2026

سیدنا امام مالک بن انس

سیدنا امام مالک بن انس حضرت سیِّدُناحافظ ابو عمر بن عبدالبَر علیہ رحمۃاللہ الاکبر نے اپنی کتاب""الاَ نْسَاب"" میں تحریر فرمایاہے کہ حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَس بن ابی عامر اَصْبَحِیْ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینۃالرسول عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے امام ہیں ۔یہیں سے حق ظاہر اور غالب ہوا۔ یہیں سے دین کی ابتداہوئی اور اسے شہرت ملی۔یہیں سے شہر فتح کئے گئے اور مسلسل مدد ملی۔ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ""عالِمِ مدینہ"" کہا جاتاہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علم کی شہرت ہر طرف پھیلی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اکتسابِ علم کے لئے لوگوں نے دور دراز کے سفر طے کئے۔ (سیر اعلام النبلاء، الرقم۱۱۸0، مالک الامام،ج۷،ص۳۸۸،مفھوماً)فتاویٰ نویسی:حضرت سیِّدُنا امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سترہ (17)برس کی عمر میں تدریسِ علم کی مسند پر تشریف فرما ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسا۔۔۔

مزید

امام سفیان ثوری

امام سفیان ثوری علیہ الرحمۃ   آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور والد کا نام سعید تھا۔ کوفی الاصل تھے۔ ظاہری اور باطنی علوم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی توبہ کا آغاز اس واقعہ سے ہوا کہ ایک دن مسجد میں داخل ہوتے ہوئے لاپروائی سے بایاں قدم اندر رکھا غیب سے آواز آئی اے سفیان! کیا تم ثور ہو یعنی چوپایا ہو۔ یہ بات سنتے ہی بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو افسوس سے اپنے منہ پر طمانچہ مارتے اور کہتے تم نے چوپایوں کی طرح مسجد میں بایاں قدم رکھا تمہیں ادب نہیں تو تیرا نام انسانوں میں کیسے رکھا جاسکتا ہے۔ ایک دن خلیفہ وقت نماز   کی جماعت کرا رہا تھا۔ مگر دوران نماز خلیفہ نے بے خیالی سے اپنے کپڑوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ آپ نے فرمایا: تمہاری یہ نماز تو نماز نہیں۔ قیامت کے دن ایسی نماز کو منہ پر مارا جائے گا۔ خلیفہ وقت نے کہا: بات آہستگی سے کریں مگر آپ نے فرمایا کہ میں ایسے کلمہ ۔۔۔

مزید

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ

  امامِ اعظم ابو حنیفہ، نعمان بن ثابت     نام :                   نعمان۔ کنیت:                 ابو حنیفہ۔ اَلقاب:                        امامِ اعظم،سراج الامّہ،کاشف الغمہ۔ نسب:         سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت امام ِاعظم نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان بن ثابت بن قیس بن یزدگرد بن شہر یار بن پرویز بن نوشیرواں عادل۔ (حدائق الحنفیہ، ص42؛ خزینۃ الاصفیاء، ص 90)   وجہِ کنیتِ ’’ابوحنیفہ‘‘: ’’ابوحنیفہ‘‘ &nbs۔۔۔

مزید

امام محمد بن حسن شیبانی

امام محمد بن حسن شیبانی  نام ونسب: کنیت ابو عبداللہ اسم گرامی محمد، سلسلۂ نسب اسطرح ہے ،محمد بن حسن بن فرقد شیبانی، قبیلہ شیبان کی طرف نسبت ولاء کی وجہ سے شیبانی کہلائے۔ تاریخِ ولادت:امام محمد132ھ میں " واسط " میں پیدا ہوئے۔ پھر والدین نے "کوفہ "کو وطن بنایا اور یہیں آپکی پرورش ہوئی۔ تحصیلِ علم:امام محمد علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریبی مکتب یا معلّمِ خاص (جیساکہ اہلِ ثروت کے ہاں گھر میں پڑھانے کیلئے استاذ آتا ہے)سے حاصل کی ۔چودہ سال کی عمر میں امام الائمہ سراج الامہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔امام صاحب کے وصال کے بعد حضرت امام ابو یوسف سے مزید تعلیم اورفقہ میں مہارت حاصل کی ۔علمِ حدیث میں مہارت ِ تامہ حاصل کرنے کیلئے امام دارلہجرہ حضرت امام انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ان کے علاوہ متعدد شیوخ سے علمی وروحانی استفادہ فر۔۔۔

مزید

امام شعبہ بن حجاج

شیخ الاسلام امام شعبہ بن حجاج کنیت :                ابو بسطام لقب :                شیخ الاسلام سلسلہ نسب :             شعبہ بن حجاج بن ورد عتکی ازدی، قبیلہ ازد کے ایک شخص جہضم بن عتیک کے غلام تھے اسی نسبت سے ازدی اور عتکی کہلاتے ہیں۔ ولادت: اصل وطن واسط  جہاں بقول ابن حبان 83ھ میں ولادت  ہوئی ۔ پروان چڑھے پھر بصرہ آکر آباد ہوگئے ۔ تحصیل علم:             امام شعبہ نے واسط ہی میں تحصیل علم کا آغاز کیا ابتداء میں وہ شعروشاعری کی جانب متوجہ رہے اور اس میں کمال پیدا کیا مشہور شاعر طرماح بن حکیم ط۔۔۔

مزید

امام وکیع بن جراح رواسی کوفی

امام وکیع بن جراح رواسی کوفی            وکیع بن جراح بن ملیح عدی کوفی : فقہ وحدیث کے امام اور حافظ وثقہ ، زاہد عابد، اکابر تبع تابعین میں سے امام  شافعی و امام احمد کے شیخ تھے، ابو سفیان کنیت تھی ، اصل کے نیسا پوراور بقول بعض سندھ کے باشندہ تھے،فقہ کا علم امام ابو حنیفہ سے حاصل کیا اور حدیث کو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف وزفر و ابن جریح و سفیان ثوری و سفیان بن عینیہ و اور زاعی و اعمش وغیر ہم سے سنااور آپ سے عبد اللہ بن مبارک ویحییٰ بن اکتم وامام احمد بن حنبل ویحییٰ بن معین وعلی بن مدینی و ابن راہویہ و احمد بن منبع اور آپ کے بیٹے سفیان وغیرہ محدثین نے سنا اور اصحاب صحاح ستہ نے آپ سے تخریج کی۔           ابن اکتم کہتے ہیں کہ میں نے حضر و سفر میں آپ کی صحبت کی ۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھنے اور ہر۔۔۔

مزید

امام حفص بن غیاث

    امام حفص بن غیاث      حفص بن غیاث بن[1]طلق بن معٰویہ النخعی الکلوفی : اپنے زمانہ کے عالم ،محدث ،ثقہ ،زاہد ، پرہیز گار تھے اور امام ابو حنیفہ کے ان اصحاب میں سے تھے جن کے حق میں امام موصوف ’’انتم [2] مسالہ قلبی وجلاء حزنی‘‘ کا جملہ فرمایا کرتے تھے، کنیت ابو عمر تھی ۔فقہ امام ابو حنیفہ سے حاصل کی اور حدیث کو امام ابو یوسف اور سفیان ثوری اور اعمش اور ابن جریح بن سعید انصاری اور اسمٰعیل بن ابی خالد اورعاصم الاحول اور ہشام بن عروہ وغیر ہم سے سنا اور روایت کیا اور آپ سے آپ کے بیٹے عمر و اور امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین اور علی بن المدینی اور ابن متعق اور یحییٰ الفظان وغیرہ اہل عراق نے سنا اور روایت کیا اور اصحاب صحاح ستہ نے اپنی اپنی صحاح میں آپ سے تخریج کی ۔ ابن ابی شیہ سے روایت ہے کہ آپ کوفہ میں تیرہ سال اور بغداد میں دو برس تک دار القضاء۔۔۔

مزید

امام ابن جریج

امام ابن جریجنام ونسب :      امام عبد الملک بن عبد العزیز ابن جریج القرشی الاموی ۔ولادت: آپ  80ھ میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔یہ وہ مبارک دور تھا جب مکہ میں ابھی بعض صحابہ کرام کے آثار باقی تھے اور تابعینِ عظام کی علمی مجالس جوبن پر تھیں۔آبائی وطن:آپ کے دادا 'جریج' رومی نژاد تھے، جنہیں بنو امیہ کے دور میں قیدی بنا کر لایا گیا تھا۔ وہ آلِ زبیر بن العوام کے غلام بنے اور پھر آزاد ہوئے۔ اسی نسبت سے آپ کو 'القرشی' کہا جاتا ہے۔ تحصیلِ علم امام ابن جریج نے علم کی خاطر اپنی جوانی وقف کر دی تھی۔ آپ کے علمی سفر کی سب سے خاص بات طویل رفاقت ہے۔امام عطاء بن ابی رباح: آپ نے ان کی صحبت میں 18 سال گزارے۔ آپ خود فرماتے ہیں: "میں نے 17 سال تک عطاء کی مجلس میں کسی دوسرے کی طرف رخ نہیں کیا، پھر ایک سال مزید ان کی خدمت میں رہا۔" مکہ کے فتاویٰ کا جتنا علم عطاء کے پاس ۔۔۔

مزید

امام معمر بن راشد

امام معمر بن راشدولادت :آپ کی ولادت :  ۹۵ھ ، رمضان المبارک  بصرہ میں ہوئی۔کنیت:        ابو عروہ۔نام:          معمر بن راشد۔آپ  بنو ازد کے مولیٰ عبدالسلام بن عبدالقدوس بصری کے غلام تھے، اسی لیے "بالواسطہ ازدی" کہلائے۔تحصیلِ علمبصرہ میں آغازجو اس وقت علم کا مرکز تھا۔ غلام ہونے کے باوجود آپ نے علمی فیض حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ذہانت و بصیرت آپ غیر معمولی قوتِ حفظ، ضبط اور فہم و فراست کے مالک تھے۔علم کے شوق میں آپ نے بصرہ کے علاوہ دوسرے علمی مراکز کا رخ کیا اور اپنے وقت کے عظیم محدث اور شیخ بن گئے۔امام احمد بن حنبل کی گواہی: امام احمد بن حنبل آپ کے علمی ذوق کے بارے میں فرماتے ہیںکان من اطلب اھل زمانہ للعلم (وہ اپنے زمانے میں سب سے بڑھ کر علم طلب کرنے والے تھے)۔مدینہ منورہ کا سفر:آپ کا علمی ذو۔۔۔

مزید

امام حماد بن سلمہ

۔۔۔

مزید