پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

سیّدنا معتب رضی اللہ عنہ

بن عمرو اسلمی: ابو مروان ان کی کنیت تھی۔ ان سے ان کے بیٹے عطا نے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ ماعز وہاں آگئے۔ اس کے بعد راوی نے حدیث بیان کی ۔ یہ امیر کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مکلبہ رضی اللہ عنہ

بن ملکان: جعفر وغیرہ نے اُنہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ مظفر بن عاصم بن اغرالعجلی نے ۳۱۱ ہجری میں مکلبہ بن ملکان سے خوارزم یہ روایت سُنی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چوبیس غزوات اور سرایا میں شریک رہے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ ایک بوڑھا آدمی جس کی بھنویں، آنکھوں پر لٹک آئی تھیں، دربارِ رسالت میں وارد ہوا سلام کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابِ سلام کے بعد فرمایا۔ کیا مَیں تجھے بڑھاپے کے فضائل میں کچھ بتاؤں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موضوع پر ایک لمبی تقریر ارشاد فرمائی۔ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے، لیکن اگر اسے نہ بیان کرتا، تو بہتر تھا۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد عمر حیدر آبادی رحمۃ اللہ علیہ

آپ کے مورث اعلیٰ حضرت سید محی الدین الحسینی قدس سرہٗ بغداد مقدس سے سلطان عادل اورنگ ریب غازی کے آخر عہد سلطنت آصفیہ آصف جاہ اول کے عہد حکومت میں جمادی الاخریٰ ۱۱۶۱؁ھ میں فوت ہوئے، اُن کی قبر اورنگ آباد میں حضرت شاہ برہان الدین غریب قدس سرہٗ کے مقبرہ کے قریب ہے، ۔۔۔۔ مولانا محمد عمر صاحب کے دادا بزرگوار سید حیدر علی سیادت پناہ نے حیدر آبادمیں فوجی ملازمت اختیار کی، اُن کو اپنے والد سے ارادت واجازت حاصل تھی، ۲۰؍جمادی الاخریٰ ۱۲۵۸؁ھ میں اُن کا انتقال ہوا، آپ کے لڑکے مولانا سید شاہ محمد بادشاہ حسینی ۱۲۳۶؁ھ میں پیدا ہوئے، اور ۱۲۸۶؁ھ میں رہگزارے عالم جاودانی ہوئے، مولانا بادشاہ حسینی علوم اسلامیہ عربی وفارسی کے متبحر علام، صاحب تصنیف اور صاحب دیوان شاعر تھے، حضرت میر شجاع الدین حسینقدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ اور داماد تھے، سید شاہ بادشاہ حسینی نے تیرہ۱۳حج کیے، اور ہر بار حرمین میں طویل قیام کیا، ب۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ مخلص الرحمن چاٹگامی

حضرت مولانا شاہ مخلص الرحمن چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسم گرامی:حضرت مولانا سید شاہ مخلص الرحمن﷫۔لقب:جہانگیرشاہ،شیخ العارفین،بانیِ سلسلہ جہانگیریہ۔سلسلۂ نسب:مولانا شاہ مخلص الرحمن بن مولانا سید غلام علی علیہما الرحمہ۔مولاناسیدغلام علی﷫سادات وعلاقائی شرفاء میں سےتھے۔سلسلہ ٔ معاش وکالت،اور زمینداری سےتھا۔آپ کےجد اعلیٰ سرزمین عرب سےوارد ہندوستان ہوئے۔ملازمت شاہی کےسلسلہ میں کافی عرصےتک دہلی میں رہے۔جب سلاطین دیلی نےفتوحات کارخ بنگال کی طرف موڑا اور مسلمانوں کےلشکرکےہاتھوں یہاں اسلام کاجھنڈانصب ہوا، تو اس لشکر کےساتھ ساداتِ بنی فاطمہ کےدوبزرگ بھی تھے۔وہ چاٹگام میں ہی میں آباد ہوگئے۔بےشمار غیرمسلم اقوام  ان کےہاتھوں مشرف بااسلام ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نےان کی نسل میں ایسی برکت رکھی کہ بستیاں آبادہوگئیں،یہ دونوں بزرگ آج بھی بڑےمیاں اور چھوٹے میاں کےنام سےمعروف ِ زمانہ ہیں۔(سیرتِ فخرالعار۔۔۔

مزید

سیّدنا مغفل رضی اللہ عنہ

بن عبد نہم اور ایک روایت میں ابو نہم بن عفیف بن سحیم بن ربیعہ بن عدی اور بردایتے عبد ثعلبہ مزنی آیا ہے ہم ان کا نسب ان کے بیٹے عبد اللہ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں اور مغفل ذو البجادین مزنی کے بھائی ہیں۔ اور مغفل فتح مکہ کے سال ۸ ہجری میں براہِ مکّہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ یہ طبریٰ کا بیان ہے ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

مرشد جان جہاں جنت رسید

حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین کے فرزند دو، ۱۳۰۶؁ھ سال پیدائش، والد ماجد کے م رید وشاگرد، حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری اور حضرت مولانا عبدالغفار خاں صاحب رام پوری سے تکمیل و تحصیل علم کیا، زہد وتقویٰ میں اپنے اسلاف کے قدم بقدم اور خلیق و متواضع تھے، والد ماجد کے مرید وخلیفہ حضرت مولانا شاہ عنایت اللہ خاں سے خلافت پائی، مدرسۂ ارشادیہ کی عالی شان عمارت تعمیر کرائی، خود بھی درس دیتے تھے، ایک عرصہ تک لاہور کی شاہی جامع مسجد کے امام وخطیب و مفتی رہے، اکابر علماء میں آپ کا شمار تھا وہابیوں اور دیوبندیوں کے رد کی طرف خصوصی توجہ تھی۔ (تذکرہ کاملان رامپور)۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبد الباری نعمانی حاجی پوری علیہ الرحمۃ

جڑدھا حاجی پور وطن، مدرسہ حنفیہ جڑوھا حاجی پور ضلع مظفر پور میں مدرس تھے، مجلس علمائے اہلسنت کے رکن خاص اور مفاسد جلس ندوہ کے دور کرنے والوں میں تھے، حضرت مولانا قاضی عبد الوحید فردوسی سے خصوصی تعلقات تھے، شاید کچھ قرابت بھی تھی۔ ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا فصاحت عالم صاحب گنجی علیہ الرحمۃ

صاحب گنج گیا کے رہنے والے، حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڈھی کے ممتاز تلمیذ رشید، بہار کےمشاہیر علماء میں تھے، مفاسد ندوۃ العلماء کے کے دور کرنے والوں میں تھے، وعظ و تدریس اور رشدو ہدایت میں عمر گذری، سال وفات معلوم نہ ہوسکا۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا سلام اللہ رامپوری قدس سرہٗ

زبدۃ المحدثین حضرت شاہ نور الحق[1] ابن امام عبد الحق محدث کے سو پوتے حضرت مولانا شاہ محمد فخر الدین محدث قدس سرہم کے پوتے اور اپنے زمانے کے مشہور محدث تھے،دہلی سے ترک وطن کر کےر ام پور جابسے تھے، محدث رامپوری کے نام سے مشہور تھے۔حدائق الحنفیہ میں مرقوم ہے کہ آپ فقیہہ فاضل،محدث کامل،مفسر متجر علامۂ عصر،محقق اور مدقق تھے،عربی زبان میں مطالب علمیہ کی تحریر پر کامل دستگاہ تھی،درس و تدریس،رشدو ہدایت دو مشغلۂ حیات تھے،۔۔۔تصانیف میں مؤطا کی شرح ‘‘محلی’’ آپ کے دفور علم پر شاہد عدل ہے،جلالین کا حاشیہ کمالین ۱۲۲۹؁ھ میں نجتبائی پریس سے چھپ چھپ کر شائع ہوا،فارسی زبان میں بخاری کی شرح بھی آپ نے لکھی، ماہ جمادہ الاخریٰ بوقت شام ۱۲۲۹؁ھ میں عمر طبع پاکر فوت ہوئے،زبدۃ الاولیاء شاہ عبداللہ بغدادی قدس سرہٗ کی درگاہ کے احاطہ میں مسجد کے قریب جانب جنوب دفن ہوئے۔ (تذکرہ علمائے ہند۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ سید محمد مختار اشرف رحمۃ اللہ علیہ

محمد مختار تاریخی نام، ۱۳۲۳؁ھ سال ولادت، عالم ربانی حضرت مولانا سید شاہ احمد اشرف ابن حضرت قطب المشائخ بحر الاسرار مخدوم شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہما کے فرزند ارجمند، گھر پر حضرت مولانا عماد الدین سنبھلی سے میزان سے شرح وقایہ تک پڑھا، اور حضرت مولانا مفتی عبد الرشید فتح پوری سے فنون کا درس لیا، بعدہٗ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین سے دورۂ حدیث کیا، اور جد امجد سے مرید ہوکر سلوک کے مراحل طے کیے انہوں نے ۲۵؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۷؁ھ میں آپ کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا، آپ اس دورِ الحاد دبے بے دینی میں طریقت و شریعت کے پشت پناہ ہیں، اکابر ومشائخ اشرفیہ کی یادگار، اور صاحب کشف و کرامات و مقامات بزرگ ہیں، بلا وعرب و عجم میں بکثرت افراد آپ کے سلسلۂ فیض سے وابستہ ہیں، حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ سید اظہار اشرف مدظلہٗ علوم اسلامیہ کے فاضل اور آبائی خوبی۔۔۔

مزید