حضرت مولانا شاہ مخلص الرحمن چاٹگامی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسم گرامی:حضرت مولانا سید شاہ مخلص الرحمن۔لقب:جہانگیرشاہ،شیخ العارفین،بانیِ سلسلہ جہانگیریہ۔سلسلۂ نسب:مولانا شاہ مخلص الرحمن بن مولانا سید غلام علی علیہما الرحمہ۔مولاناسیدغلام علیسادات وعلاقائی شرفاء میں سےتھے۔سلسلہ ٔ معاش وکالت،اور زمینداری سےتھا۔آپ کےجد اعلیٰ سرزمین عرب سےوارد ہندوستان ہوئے۔ملازمت شاہی کےسلسلہ میں کافی عرصےتک دہلی میں رہے۔جب سلاطین دیلی نےفتوحات کارخ بنگال کی طرف موڑا اور مسلمانوں کےلشکرکےہاتھوں یہاں اسلام کاجھنڈانصب ہوا، تو اس لشکر کےساتھ ساداتِ بنی فاطمہ کےدوبزرگ بھی تھے۔وہ چاٹگام میں ہی میں آباد ہوگئے۔بےشمار غیرمسلم اقوام ان کےہاتھوں مشرف بااسلام ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نےان کی نسل میں ایسی برکت رکھی کہ بستیاں آبادہوگئیں،یہ دونوں بزرگ آج بھی بڑےمیاں اور چھوٹے میاں کےنام سےمعروف ِ زمانہ ہیں۔(سیرتِ فخرالعار۔۔۔
مزید
بن عبد نہم اور ایک روایت میں ابو نہم بن عفیف بن سحیم بن ربیعہ بن عدی اور بردایتے عبد ثعلبہ مزنی آیا ہے ہم ان کا نسب ان کے بیٹے عبد اللہ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں اور مغفل ذو البجادین مزنی کے بھائی ہیں۔ اور مغفل فتح مکہ کے سال ۸ ہجری میں براہِ مکّہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ یہ طبریٰ کا بیان ہے ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین کے فرزند دو، ۱۳۰۶ھ سال پیدائش، والد ماجد کے م رید وشاگرد، حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری اور حضرت مولانا عبدالغفار خاں صاحب رام پوری سے تکمیل و تحصیل علم کیا، زہد وتقویٰ میں اپنے اسلاف کے قدم بقدم اور خلیق و متواضع تھے، والد ماجد کے مرید وخلیفہ حضرت مولانا شاہ عنایت اللہ خاں سے خلافت پائی، مدرسۂ ارشادیہ کی عالی شان عمارت تعمیر کرائی، خود بھی درس دیتے تھے، ایک عرصہ تک لاہور کی شاہی جامع مسجد کے امام وخطیب و مفتی رہے، اکابر علماء میں آپ کا شمار تھا وہابیوں اور دیوبندیوں کے رد کی طرف خصوصی توجہ تھی۔ (تذکرہ کاملان رامپور)۔۔۔
مزید
جڑدھا حاجی پور وطن، مدرسہ حنفیہ جڑوھا حاجی پور ضلع مظفر پور میں مدرس تھے، مجلس علمائے اہلسنت کے رکن خاص اور مفاسد جلس ندوہ کے دور کرنے والوں میں تھے، حضرت مولانا قاضی عبد الوحید فردوسی سے خصوصی تعلقات تھے، شاید کچھ قرابت بھی تھی۔ ۔۔۔
مزید
صاحب گنج گیا کے رہنے والے، حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڈھی کے ممتاز تلمیذ رشید، بہار کےمشاہیر علماء میں تھے، مفاسد ندوۃ العلماء کے کے دور کرنے والوں میں تھے، وعظ و تدریس اور رشدو ہدایت میں عمر گذری، سال وفات معلوم نہ ہوسکا۔۔۔۔
مزید
زبدۃ المحدثین حضرت شاہ نور الحق[1] ابن امام عبد الحق محدث کے سو پوتے حضرت مولانا شاہ محمد فخر الدین محدث قدس سرہم کے پوتے اور اپنے زمانے کے مشہور محدث تھے،دہلی سے ترک وطن کر کےر ام پور جابسے تھے، محدث رامپوری کے نام سے مشہور تھے۔حدائق الحنفیہ میں مرقوم ہے کہ آپ فقیہہ فاضل،محدث کامل،مفسر متجر علامۂ عصر،محقق اور مدقق تھے،عربی زبان میں مطالب علمیہ کی تحریر پر کامل دستگاہ تھی،درس و تدریس،رشدو ہدایت دو مشغلۂ حیات تھے،۔۔۔تصانیف میں مؤطا کی شرح ‘‘محلی’’ آپ کے دفور علم پر شاہد عدل ہے،جلالین کا حاشیہ کمالین ۱۲۲۹ھ میں نجتبائی پریس سے چھپ چھپ کر شائع ہوا،فارسی زبان میں بخاری کی شرح بھی آپ نے لکھی، ماہ جمادہ الاخریٰ بوقت شام ۱۲۲۹ھ میں عمر طبع پاکر فوت ہوئے،زبدۃ الاولیاء شاہ عبداللہ بغدادی قدس سرہٗ کی درگاہ کے احاطہ میں مسجد کے قریب جانب جنوب دفن ہوئے۔ (تذکرہ علمائے ہند۔۔۔
مزید
محمد مختار تاریخی نام، ۱۳۲۳ھ سال ولادت، عالم ربانی حضرت مولانا سید شاہ احمد اشرف ابن حضرت قطب المشائخ بحر الاسرار مخدوم شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہما کے فرزند ارجمند، گھر پر حضرت مولانا عماد الدین سنبھلی سے میزان سے شرح وقایہ تک پڑھا، اور حضرت مولانا مفتی عبد الرشید فتح پوری سے فنون کا درس لیا، بعدہٗ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین سے دورۂ حدیث کیا، اور جد امجد سے مرید ہوکر سلوک کے مراحل طے کیے انہوں نے ۲۵؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۷ھ میں آپ کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا، آپ اس دورِ الحاد دبے بے دینی میں طریقت و شریعت کے پشت پناہ ہیں، اکابر ومشائخ اشرفیہ کی یادگار، اور صاحب کشف و کرامات و مقامات بزرگ ہیں، بلا وعرب و عجم میں بکثرت افراد آپ کے سلسلۂ فیض سے وابستہ ہیں، حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ سید اظہار اشرف مدظلہٗ علوم اسلامیہ کے فاضل اور آبائی خوبی۔۔۔
مزید
صوبہ بہار ضلع دربھنگہ کے موضع ‘‘راجو’’ کے ساکن، محمد عبد الحمید نام، ابو سعید کنیت، ۱۳۰۰ھ پیدائش قرآن مجید کے حافظ، درس نظامی کی کتابیں چند مدرسین سے پڑھیں، خیر آباد کے مدرسہ نیاز یہ میں تعلیم پائی، ٹونک میں کئی سال امام المعقولات مولانا حکیم سید برکات احمد کے درس میں بیٹھے اور تکمیل کی، تدریس کا آغاز مدرسہ سُبحانیہ الہ آباد سے ہوا، تقریباً ۱۲؍برس مدرسہ سُبحانیہ میں مدرس اول رہے، پھر شہر دربھنگہ کے مدرسہ حمدیہ کا ۱۳۳۵ھ میں احیاء کیا اور ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے، تاحین حیات مدرسہ حمیدیہ کے ناظم رہے اور درس دیتے رہے، صوبہ بہار کے قابل فخر صاحب تدریس عالم تھے، ۱۳۴۹ھ میں فوت ہوئے، شاہی جامع مسجد قلعہ گھاٹ کے پہلے دروازہ کے جانب جنوب دفن کیے گئے، مدرسہ حمیدیہ کا قیام ۱۳۰۱ھ میں مولوی حسن علی مرحوم کی کوشش سے ہوا۔ ۔۔۔
مزید
۱۹۰۰ء میں اپنے نانی ہاں خاصہ ضلع امرت سر میں پیدا ہوئے، جامعہ نعمانیہ لاہور، جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور، مدرسہ کریمیہ جالندھر کے علماء مولانا مہر محمد وغیرہ سے فنون پڑھا دارالعلوم حزب الاحناف میں شیخ المحدثین حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ الوری اور اُن کے صاحبزادے علامہ ابو البرکات سے دورۂ حدیث کر کے ۱۳۴۶ھ میں سند فراغت حاصل کی، ۱۹۵۴ء میں دار العلوم طب جدیدمشرقی شاہد رہ لاہور سے ‘‘افتخار الاطباء’’ کی سند حاصل کی، ۱۹۳۸ء میں ہرسہ کوٹ لائل پور میں حضرت پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری سے مرید ہوئے، آپ نے گیارہ برس دار العلوم حزب الاحناف، تین برس جامعہ نعمانیہ میں درس دیا آپ کے تلامذہ میں سلطان الواعظین علامہ محمد بشیر ایڈیٹر ماہ طیبہ کوٹلی لوھاران، ولانا سید محمود احمد رضوی شارح بخاری ایڈیٹر رضوان لاہور، پیر زادہ علامہ اقبال احمد فاروقی ناظم مکتبہ نبویہ لاہور وغیرہ مشہ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ عبد الحامد بد ایونی علیہ الرحمۃ حضرت مولانا حکیم شاہ عبد القیوم شہید کےچھوٹے صاحبزادے، ۱۳۱۸ھ میں دہلی میں اپنی نانہال میں پیدا ہوئے، ‘‘محمد ذوالفقار حق’’ تاریخی نام، والدہ ماجدہ کا سلسلۂ نسب حضرت غوث اعظم سےہے، حضرت مولانا شاہ عبدالقدیر بد ایونی اور اساتذہ مدرسہ خانقاہ قادریہ سے تعلیم پائی، وعظ وتقریر خصوصی ملکہ تھا، کبھی نامور بزرگ بھائی کے ساتھ اور کبھی تنہا ہندوستان کے بلادو امصار میں مجالس میلاد، سیاسی کانفرنسوں میں شریک ہوتے، انتظامی صلاحیتوں سے آراستہ تھے، برادر بزرگ کی زندگی میں جامعہ شمس العلوم کے نائب مہتمم اور اُن کے معاون وسکریٹری رہے، بعد میں جامعہ شمس العلوم کے مہتمم ہوگئے، تحریک مسلم لیگ اور پاکستان کے قیام کےمطالبہ میں آپ کا ممتاز کردار رہا، تقسیم کے بعد کراچی تشریف لے گئے، کراچی میں مقیم تھے، ایک عرصہ تک ریڈیو پاکستان سے تفس۔۔۔
مزید