اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

سیدنا محمّد الانصاری رضی اللہ عنہ

سلام بن ابی الصہباء نے ثابت سے روایت کی کہ مَیں حض کو گیا اور ایک ایسے علاقے میں جانکلا جہاں دو بھائی جن میں ایک کا نام محمّد تھا بیٹھے ہوئے تھے اور وسواس کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے ابو موسیٰ ے اس کی تخریج کرکے ابنِ مندہ پر استدراک کیا ہے، لیکن ابنِ مندہ نے اس کی تخریج کی ہے، اس لیے استدراک کی کوئی ضرورت نہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ

ان کے نسب کا ذکر ان کےو الد کے ترجمے میں کیا جا چُکا ہے یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے جب حضور کے سامنے لائے گئے تو آپ نے ان کا نام محمد رکھا اور انھیں کھجور کی گھٹی دی انھوں نے مدینے ہی میں سکونت رکھی اور یزید کے عہد میں ایامِ حرہ میں قتل کردیے گئے۔ اسماعیل بن محمّد بن ثابت بن قیس بن شماس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ان کے والد ثابت بن قیس نے اس کی ماں جمیلہ بنت ابی سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس وقت محمّد اس کے پیٹ میں تھا۔ جب وضع حمل ہوا تو جمیلہ نے قسم کھائی کہ وہ ہرگز اسے دودھ نہیں پلائے گی اس پر ثابت بچّے کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضور اکرم کی خدمت میں لائے اور واقعہ بیان کیا حضور نے فرمایا: اسے میرے قریب لاؤ چنانچہ مَیں بچّے کو حضور کے قریب لے گیا اس کے بعد حضور اکرم نے بچّے کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا محمّد نام رکھا اور کھجور کی گ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

یہ صاحب حضرت جعفر طیار کے صاحبزادے تھے۔ ان کی پیدائش حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئی وہ حبشہ میں پیدا ہوئے اور جب مدینے میں آئے تو بچّے تھے جب حضور کو جنگ موتہ کے نتیجے میں حضرت جعفر کی شہادت کی خبر ملی۔ تو آپ ان کے گھر تشریف لائے، فرمایا میرے بھائی کے بچّوں کو میرے پاس لاؤ، چنانچہ عبد اللہ، محمد اور عون کو اٹھائے اور حضور نے انھیں اپنی رانوں پر بٹھایا۔ دعا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ مَیں دُنیا اور آخرت میں اِن کا ولی ہوں۔ نیز فرمایا کہ محمد شکل و شبہات میں اپنے چچا ابو طالب سے ملتا جُلتا ہے یہ وہی محمّد ہیں جنھوں نے حضرت علی کی صاحبزادی ام کلثوم سے، حضرت عمر کی شہادت کے بعد نکاح کرلیا تھا۔ بقولِ واقدی جناب محمّد کی کنّیت ابو القاسم تھی۔ ایک روایت کے مطابق وہ بمقام نستر شہید ہوئے تھے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن ابی جہم رضی اللہ عنہ

بن حزیفہ بن غانم بن عامر بن عبد اللہ بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب بن لوئی القرشی العدوی: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے اور ایامِ حرہ میں بمقام مدینہ ۶۳ برس کی عمر میں فوت ہوئے۔ ابو نعیم لکھتا ہے۔ ہمیں ابو موسیٰ نے اسے ابو علی نے اسے ابع نعیم نے اسے محمّد بن احمد بن حسین نے اسے محمّد بن عثمان بن ابی شیبہ نے، اسے احمد بن عیسیٰ نے اسے عبد اللہ بن وہب نے اسے ابن لہیعہ نے، خالد بن یزید سے، اس نے سعید بن ابی بلال سے اس نے محمّد بن ابی الجہم سےسُنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اونٹ چرانے کے لیے ملازم رکھا۔ اتفاقاً ایک آدمی کا وہاں سے گُزر ہوا، اس نے دیکھا کہ اس نے اپنی شرمگاہ کو ننگا کیا ہوا تھا، حضور کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ جس شخص کو علی الاعلان خدا سے شرم نہیں آئی وہ اس سے علیحدگی میں کیونکہ شرمائے گا اس لیے اس کی مزدوری ادا کرک۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن حاطب رضی اللہ عنہ

بن حارث بن معمر بن حبیب بن وہب بن حزافہ بن جمح القرشی الجمعی: یہ صاحب حبشہ میں پیدا ہُوئے انکی والدہ کا نام اَمّ جمیل بن فاطمہ بنت مجلل یا جویریہ تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق اسماء بنتِ مجلل بن عبد اللہ بن ابی قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی قرشیہ عامریہ نام تھا بیوی نے اپنے شوہر حاطب کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی اور وہاں محمّد اور حارث اس کے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ محمّد کی کنیت ابو القاسم یا ابو ابراہیم تھی اور یہ پہلے آدمی ہیں جب کا نام بعد از بعثت محمّد رکھا گیا ایک روایت میں ہے کہ جب اس کے باپ نے حبشہ کو ہجرت کی تو محمّد چھوٹے سے لڑکے تھے۔ ہمیں ابو یاسر نے یہ سند خود عبد اللہ سے، اس نے اپنے والد سے، اُس نے ابراہیم بن ابو العباس اور یونس بن محمّد سے سُنا، انھیں عبد الرحمان بن عثمان بن ابراہیم بن محمّد بن حاطب نے اپنی ماں کی زبانی بیان کیا کہ مَیں تجھے۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن حبیب المصری رضی اللہ عنہ

ایک روایت میں نصری آیا ہے، لیکن مصری درست ہے ہمیں یحییٰ بن محمود نے ادتاً بہ سند خود ابن ابی عاصم سے اسے حوطی نے انھیں ابو المغیرہ نے انھیں ولید بن سلیمان بن ابی سائب نے انھیں لیسر بن عبید اللہ بن محیریز نے اسے عبید اللہ بن سعدی نے اسے محمّد بن حبیب نے بتایا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تک کفّار مارے جاتے رہیں گے یا جب تک کفّار سے جنگیں ہوتی رہیں گی، ہجرت ختم نہیں ہوگی۔ اور حسان بن ضمری نے ابن سعدی سے اور انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ابن مندہ کہتا ہےکہ یہ اسناد درست ہے کیونکہ محمّد بن حبیب نہ تو شامیوں میں تھا نہ مصریوں میں سوائے اس محمّد بن حبیب کے، جو ابو رزین العقیلی سے روایت کرتا ہے ۔ واللہ اعلم، تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن حمید بن عبد الرحمٰن الغفاری رضی اللہ عنہ

علی بن سعید العسکری نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے ابن اسحاق نے محمّد بن یحییٰ بن حبان سے، اس نے اعراج سے، اس نے حمید بن عبد الرحمٰن الغفاری سے روایت کی کہ میں ایک سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میں نے دل میں خیال کیا کہ میں حضور اکرم کی نماز بہ نظر غائر ملاحظہ کروں گا۔ چنانچہ آپ نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی حضور نے اونٹنی کا پالان زمین پر بچھایا اپنی بعض چھوٹی موٹی اشیاء اختیار سے باندھیں پھر رات کے چند گھنٹوں کے لیے سوگئے تھوڑی دیر بعد آپ جاگ اُٹھے انگڑائی لی اور آسمان کو دیکھ کر آلِ عمران کی(ان فی خلق السمٰوات) پانچ آیات تلاوت فرمائیں پھر مسواک لے کر دانت صاف کیے، وضو کیا اور چار رکعت نماز ادا کی۔ اس طریقے سے کہ رکوع سجود اور قیام کم و بیش برابر تھے۔ پھر بیٹھ گئے اور آسمان کو دیکھ کر پھر مذکورہ بالا آیات تین مرتبہ تلاوت فرمائیں پھر رکوع کیا اور ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن عمرو رضی اللہ عنہ

بن حزم الانصاری: ان کا نسب ہم ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں ان کی کنیت ابو القاسم یا ابو سلیمان تھی۔ ایک روایت میں ابو عبد الملک آیا ہے ان کی پیدائش ہجرت کے دسویں برس بخران میں ہوئی ان کے والد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہاں کے عامل تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی پیدائش رسولِ اکرم کی وفات سے دو سال پہلے ہوئی والدہ نے محمد نام اور ابو سلیمان کنیّت رکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی حضور نے نام تو وہی رہنے دیا لیکن کنیّت بدل کر عبد المالک کردی محمد بن عمرو امّت مسلمہ کے عالم اور فقہہ شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے اپنے والد اور بعض صحابہ سے بھی روایت کی ہے اور خود ان سے کئی فقہائے مدینہ نے روایت ی ہے اور جناب محمد بن عمرو ۳۳ ہجری میں یزید کے عہد میں ایامِ حرہ میں قتل کیے گئے۔ مدائنی لکھتا ہے کہ ایک شامی نے خواب میں دیکھا کہ وہ لڑائی میں محمد ۔۔۔

مزید

سیّدنا مبرح بن شہاب الدین رضی اللہ عنہ

بن حارث بن ربیعہ بن بحیث بن شرحبیل الیافعی: یہ ابنِ مندہ اور ابونعیم کا قول ہے۔ ابو عمر نے ان کا سلسلۂ نسب یوں لکھا ہے: مبرح بن شہاب بن حارث الرعینی۔ یہ بنورعین کے ان لوگوں میں شامل تھے، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ یہ صحابی فتح مصر کے موقع پر حضرت عمرو بن العاص کے میسرہ کے کماندار تھے۔ ابوسعید بن یونس کا قول ہے کہ ان کی سکونت فسطاط کے نواح میں تھی۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا متمم بن نویرہ تمیمی رضی اللہ عنہ

ہم ان کا تذکرہ ان کے بھائی مالک کے سلسلے میں کرچکے ہیں۔ یہ صحابی شاعر تھے۔ طبری لکھتا ہے کہ مالک بن نویرہ بن حمزہ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو یربوع کے یہاں زکات وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ مالک اور ان کے بھائی دونوں مسلمان ہوچکے تھے۔ ابو عمر کہتا ہے کہ مالک کو خالد بن ولید نے قتل کردیا۔ صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں ان کے اسلام کے متعلق اچھا خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہرحال جناب متمم کے اسلام کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہ صاحب بہت اچھے شاعر تھے، بالخصوص ان کے وہ مرثیے لاجواب ہیں۔ جو انہوں نے اپنے بھائی کی موت پر کہے تھے۔ ۱۔ ہم سالہا سال اپنے قبیلے جذیمہ میں دو مخلص ندیموں کی طرح اکٹھے رہے، یہاں تک کہ لوگوں میں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ یہ کبھی جدا نہیں ہوں گے۔ ۲۔ باوجود اس طول طویل قرب کے جب ہم دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے۔ تو اب یوں معلوم ہوتا ۔۔۔

مزید