جمعرات , 28 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 16 April,2026

مولوی محبوب عالم صاحب گجراتی

آپ کا وطن موضع سیدا تحصیل پھالیہ ضلع گجرات پنجاب تھا۔ علوم دینیہ کی تحصیل کے لیے آپ ہندوستان گئے۔ اور فارغ التحصیل ہوکر مدرسہ اسلامیہ کرنال میں مدرس مقرر ہوئے۔ حضرت صاحب کے فقر کا آواز ہ سن کر کرنال سے حاضر خدمت ہوئے۔ اور بیعت ہوکر واپس چلے گئے۔ پھر تین مہینے کے بعد ملازمت سے مستعفی ہوکر انبالہ چلے آئے۔ یہاں آپ کے آنے پر مدرسہ توکلیہ جاری ہوا۔اور آپ گیارہ برس حضرت صاحب کی خدمت میں رہے۔ آپ سے نواحی گجرات میں بہت فیض ہوا اور بہت سے لوگ مرید ہوئے۔ آپ نے حضرت صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حالات میں کتاب ذکر خیر لکھی ہے۔ رمضان ۱۹۱۷ء میں آپ کا وصال ہوا۔ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ۔۔۔

مزید

حضرت حماد دیاس بن مسلم قدس سرہٗ

ابو عبداللہ کنیت۔ حماد بن مسلم دیاس نام۔ دیاس دوشاب فروش کو کہتے ہیں اور دوشاب انگور یا کھجور کے شیرہ کو کہتے ہیں جو باسی اور ترش ہوچکا ہو۔ اسی اعتبار سے اس کو دوش آب یعنی باسی کہا جاتا ہے۔ (نیز اس کے معنی ٹھنڈا پانی بیچنے والے کے بھی ہیں) اپنے زمانے کے پیرانِ کبار، عارفِ اسرار اور صاحبِ خوارق و کرامت میں سے تھے۔ حضرت غوثِ اعظم کے پیر بھائی تھے۔ حضرت ثقلین اکثر آپ کی خدمت میں جاتے تھے اور فوائد عظیم حاصل کرتے تھے۔ اگرچہ اَن پڑھ تھے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی عطا فرماکر دولتِ علم سے مالامال کردیا تھا۔ آپ کے کم و بیش بارہ ہزار مرید تھے۔ ایک روز فرمانے لگے میرے بارہ ہزار مرید ہیں اور ہر رات میں سب کو یاد کرتا ہوں اور ان کی ضرورتون کو خدا سے طلب کرتا ہوں۔ ان میں سے اگر کوئی گناہ کے جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کےلیے توبہ کی توفیق کی دعا مانگتا ہوں یا پھر اس کے لیے ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر نعیم بن عبداللہ عدویہ،ابونعیم اور ابوعمر نے انصاریہ لکھاہے،عبداللہ بن عقبہ نے ابوالاسود سے،انہوں نے حمید بن نافع سے،انہوں نے زینب دختر ابو سلمہ سے،انہوں نے عاتکہ سے روایت کی کہ ایک عورت حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی،اورگزارش کی کہ اس کا داماد فوت ہوگیاہے،اور اس کی لڑکی نے اس قدر گریہ زاری کی ہے،کہ مجھے اس کی بینائی کے بارے میں خطرہ پڑگیاہے،کیا وہ آنکھوں میں سرمہ ڈال سکتی ہے،آپ نے فرمایا،اس کی عدت تو صرف چار ماہ اور دس دن ہے،اور تم میں ایک عورت ایسی بھی تھی،جو سال بھر روتی رہی،اور جب سال ختم ہونے کو آیا،اور وہ گھر سے نکلی،تو بصرہ کے مقام پر وہ تیر کا نشانہ بن گئی،راوی نے روایت بیان کی،لیکن عورت کا نام نہیں لیا۔ متعددراویوں نے باسنادہم ترمذی سے،انہوں نے انصاری سے،انہوں نے معن سے ،انہوں نے مالک سے،انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن محم۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عالیہ( رضی اللہ عنہا)

عالیہ دختر طبیان بن عمرو بن عوف بن عبد بن ابوبکر بن کلاب الکلابیہ،حضورِاکرم نے ان سے نکاح کیا،اور کچھ عرصہ آپ کے پاس رہیں،پھر انہیں طلاق ہوگئی،اور بہت کم علمأ نے ان کا ذکر کیا ہے،یہ ابو عمر کا قول ہے،لیکن ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہےکہ آپ نے مجامعت سے پہلے ہی اس خاتون کو طلاق دےدی تھی،اور عالیہ نے اپنے عمزادے آیت تحریمہ کے نزول سے پہلے نکاح کرلیا تھا اور جب انکے جسم پر برص کے نشان دیکھے تھے،توطلاق دے دی تھی،ابو نعیم نے یہ روایت سعید بن ابوعروہ سے بیان کی،اور زہری سے مروی ہے،کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ظبیان سے عمرو کی لڑکی کو طلاق دی،تو آیت تحریم کے نزول سے پہلے انہوں نے اپنے عمزاد سے نکاح کرلیا،یحییٰ بن کثیر کی روایت ہےکہ حضورِاکرم نے عالیہ دختر ظبیان کے شبِ اول ہی طلاق دے دی تھی، لیکن عبداللہ بن محمد بن عقیل لکھتے ہیں کہ حضور نے بنو عمروبن ک۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عکناء(رضی اللہ عنہا)

عکناء یا عکثاء دختر ابو صفر اور مہلب کی ہمشیرہ،ہشام بن سفیان نے عبداللہ بن عبیداللہ سے،انہوں نے ابواشعشاء سے روایت کی کہ عکثاء نے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے محرم کی دس تاریخ کو عاشورا کا روزہ رکھنے کا حکم دیا،میں نے ابوالشعشاء کے بارے میں رائے دریافت کی،کہا، کہ شیخ مجہول ہے اور یہ شخص جابر بن زید نہیں ہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

محمد بن سیرین

محمد بن سیرین آپ کا نام محمد ، کنیت ابو بکر اور والد کا نام سیرین تھا ۔ آپ خادم رسول اللہﷺحضرت انس بن مالک کے آزادکردہ غلام ہیں ۔ آپ کے والد سیرین جرجرایا (عراق ) کے باشندے تھے۔ فن تعبیر خواب کے بہت ماہر تھے فضل وکمال: آپ ایک لمبے عرصے تک حضرت انس بن مالک کے زیر تربیت رہے ۔ انس بن مالک کے علاوہ اکابر صحابہ میں انہوں نے ابو ہریرہ کی زیادہ صحبت اٹھائی تھی اور ان کے اصحاب میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ آپ کے پاس اس قدر وسیع علم تھا مگر اس کے باوجود آپ بڑے محتاط تھے اور سماع اور روایت دونوں میں انتہائی احتیاط برتتے تھے ۔ معمولی درجہ کے اشخاص سے تحصیلِ علم اور اخذ حدیث خلافِ احتیاط سمجھتے تھے ۔ چنانچہ فرماتے تھے کہ علم دین ہے اس لئے اس کو حاصل کرنے سے پہلے اس شخص کو اچھی طرح سے پرکھ لو ۔ جس سے اس کو حاصل کرنا ہے ۔  روایت میں اتنا محتاط تھے کہ احادیث کو ان کے اپنے الفاظ سے روایت کرتے تھے تنہا معن۔۔۔

مزید

طلحہ بن عبید اللہ

طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ طلحہ بن عبید اللہ ابومحمد کنیت،فیاض اورخیرلقب،والد کا نام عبیداللہ اوروالدہ کا نام صعبہ تھا، اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابی تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔ غزوہ احد اور جنگ جمل میں انکا خاص کردار رہا۔ حضرت طلحہکا نسب چھٹی ساتویں پشت میں حضرت سرورکائنات ﷺ سے مل جاتا ہے۔ قبول ِاسلام:حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کوشش سے مشرف با اسلام ہوئے۔ فضائل ومناقب:غزوۂ احد میں فدویت جان نثاری اورشجاعت کے جو بے مثل جوہردکھائے یقناً تمام اقوامِ عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے،تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا،حضرت ابوبکر صدیقنے ان کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔ درباررسالتﷺ سے اسی جان بازی کے صلہ میں “خیر" کا لقب مرحمت ہوا، صحابہکو واقعہ ا۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عالیہ( رضی اللہ عنہا)

عالیہ دختر طبیان بن عمرو بن عوف بن عبد بن ابوبکر بن کلاب الکلابیہ،حضورِاکرم نے ان سے نکاح کیا،اور کچھ عرصہ آپ کے پاس رہیں،پھر انہیں طلاق ہوگئی،اور بہت کم علمأ نے ان کا ذکر کیا ہے،یہ ابو عمر کا قول ہے،لیکن ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہےکہ آپ نے مجامعت سے پہلے ہی اس خاتون کو طلاق دےدی تھی،اور عالیہ نے اپنے عمزادے آیت تحریمہ کے نزول سے پہلے نکاح کرلیا تھا اور جب انکے جسم پر برص کے نشان دیکھے تھے،توطلاق دے دی تھی،ابو نعیم نے یہ روایت سعید بن ابوعروہ سے بیان کی،اور زہری سے مروی ہے،کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ظبیان سے عمرو کی لڑکی کو طلاق دی،تو آیت تحریم کے نزول سے پہلے انہوں نے اپنے عمزاد سے نکاح کرلیا،یحییٰ بن کثیر کی روایت ہےکہ حضورِاکرم نے عالیہ دختر ظبیان کے شبِ اول ہی طلاق دے دی تھی، لیکن عبداللہ بن محمد بن عقیل لکھتے ہیں کہ حضور نے بنو عمروبن ک۔۔۔

مزید

ابوحاطب بن عمرو بن عبدشمس رضی اللہ عنہ

ابوحاطب بن عمرو بن عبدشمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی،قرشی،عامری، سہیل بن عمر کے بھائی تھے،مہاجرین حبشہ میں ان کا نمبر پہلاتھا،ابوعمراور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہےاور ان دونوں نے اسحاق سے ان کا ذکر کیا ہے،اور یونس بن بکیر نے ابنِ اسحاق سے جن کا ذکر ہے،ان کا نام حاطب ہےاور اسماء میں ہم ان کا ترجمہ لکھ آئے ہیں،زبیر بن بکار اور ہشام بن کلبی نے ان کایہی نام لکھاہے اور ابن ہشام نے بکائی سے،انہوں نے ابن اسحاق سےابوحاطب روایت کیاہے اورسلمہ نے بھی ابنِ اسحاق سے یہی نام روایت کیا ہے،ابوعمر اور ابواسحاق نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

زیاد بن الیاس فرغانی

حضرت شیخ۔۔۔

مزید