پیر , 25 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 13 April,2026

حضرت خواجہ عبدالصمد خان المعروف حضور جی

حضرت خواجہ عبدالصمد خان المعروف حضور جی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت سید محمد طفیل اتردلوی

حضرت سید محمد طفیل اتردلوی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ ابوالفضل ظہیر الدین محمد پناہ عطا عرف میاں جی

حضرت شاہ ابوالفضل ظہیر الدین محمد پناہ عطا عرف میاں جی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ حسین گجراتی

حضرت شاہ حسین گجراتی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت اخون شاہ سُدَنی

حضرت اخون شاہ سُدَنی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بایزید بغدادی

حضرت شیخ  بایزید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالرؤف (مورو)

حضرت شیخ عبدالرؤف (مورو) رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ عبدالغفار

حضرت شاہ عبدالغفار رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

شیخ الاسلام علامہ نور محمد شہداد کوٹی

شیخ الاسلام علامہ نور محمد شہداد کوٹی  علیہ الرحمۃ مولانا علامہ نور محمد شہداد کوٹی بن مولانا میاں غلام محمد فاروقی ۱۲۰۶ھ کو گوٹھ کنڈا تحصیل بھاگ ناری ضلع کچھی ( بلوچستان ) میں تولد ہوئے۔ آپ کے آباء واجد اد تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں عرب سے عراق پھر ریاست بہاولپور میں سمرسٹہ سے ہوتے ہوئے بلوچستان آئے ۔ تعلیم و تربیت: تعلیم کاآغاز گھر سے کیا۔ اپنے والد ماجد کی درسگاہ میں والد ماجد سے اور مدرسہ کے شیخ الحدیث حضرت علامہ عبدالحلیم کنڈوی ؒ ( مد فون روہڑی ) سے تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔ قاضی القضاۃ : وہیں اپنی درسگاہ میں درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی سے وابستہ رہے آپ کی علمی شہرت دور دور تک پہنچ چکی تھی ، اس سے متاثر ہو کر والی قلات خدائیداد خان بروہی جو کہ آپ کے شاگرد بھی تھے آپ کو قلات کا قاضی القضاۃ ( اسلامی علالت کے چیف جسٹس) کا منصب جلیل عطا کیا۔ آپ نے اس منصب پررہ کر ثاب۔۔۔

مزید

حضرت مولانا خادم احمد

حضرت مولانا خادم احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ            مولانا خادم احمد بن مولانامحمد مبین: جامعِ معقول و منقول،حاوئ فروع واصول،علامۂ زمانہ تھے۔اکثر علوم اپنے والد سے پڑھے اور درس و تدریس اور نشر علوم میں مشغول رہے،دو رسالہ عربی و فارسی دربارہ بحث دائرہ ہندیہ واقع شرح وقایہ تصنیف کیے اور متفرق حواشی شرح وقایہ پر لکھے اور نیز ایک رسالہ متعلق بہ بحث حاصل و محصول واقع فوائد ضیائیہ تصنیف کیا اور ۱۲؍ذی الحجہ ۱۲۷۱؁ھ میں وفات پائی۔’’فاضلِ عصر‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید