حضرت سیّد یحییٰ زاہد رحمۃ اللہ علیہ ۱۷ / شعبان المعظم ۳۴۰ھ کو مدائن میں پیدا ہوئے۔ ۳۷۰ھ میں اپنے پدر بزرگوار سے خلافت حاصل کی ۲۴ / رمضان المبارک ۴۲۰ھ میں وصال فرمایا۔ مزار بغداد قدیم میں ہے۔ (شریفُ التواریخ)۔۔۔
مزید
حضرت سید ابو زکریا یحییٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت غوث الاعظم کے صاحبزادوں سے ہیں۔ علومِ فقہ و حدیث اپنے پدر بزرگوار سے حاصل کیے۔ اپنے وقت کے فاضل اور مقتدائے زمانہ گزرے ہیں۔ ولادت ۶؍ربیع الاول ۵۵۰ھ میں ہوئی اور وفات ۶۰۰ھ میں پائی۔ مزار بغداد میں اپنے بھائی شیخِ عبدالوہاب کے مزار کے متصل ہے۔ قطعۂ تاریخِ ولادت و وفات: شیخ زکریا ابویحیےٰ کہ بود قبلۂ حاجات و عارف حق نما عصمت آمد سالِ ترحیلش دگر ۶۰۰ھ شاہِ عالی قرۂ چشمِ علی سالِ تولیدش نوشتم اے اخی عارفِ حق سیّد طیّب ولی ۶۰۰ھ (خزینۃ الاصفیا قادریہ)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ ابوبکر زکریا یحییٰ بن غوثِ اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چھٹی ربیع الاول ۵۵۰ھ میں متولد ہوئے، اپنے والد ماجد اور محمد بن عبد الباقی رحمۃ اللہ علیہ سے تفقہ حاصل کیا اور حدیث سنی، حسنِ سیرت و مکارمِ اخلاق میں یگانہ اور انکسار و ایثار نفس میں منفرد تھے۔ بہت سے لوگ اِن سے مستفید ہوئے۔ صغر سنی میں ہی مصر چلے گئے۔ پھر کبر سنی میں معہ اپنے فرزند سید عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ کے واپس بغداد تشریف لائے اور شبِ برات ۶۰۰ھ میں انتقال کیا اور اپنے برادر مکرم سید عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ (شریف التواریخ)۔۔۔
مزید
حضرت علامہ غلام ترنّم امرتسری رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا غلام محمد ترنم امر تسری کے ایک غریب کشمیری گھرانے میں ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام عبد العزیزی تھا، آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد غربت وافلاس کی وجہ سے شال اور قالین بانی کافن سیکھا، پھر قالینوں کے ڈیزائنر ہوگئے، تحصیل علم کی وجہ سے اپنے استاذ حکیم فریزو الدین فیروز طفرائی کی خدمت میں پہونچا دیا، حکیم طغرائی کی توجہ سے منشی فاضل، ادیب فاضل کےامتحان میں کامیاب ہوئے، عربی کی ابتدائی کتابیں پروفیسر مولانا عبد الرحیم سے مطالعہ کیں، فقہ کی تحصیل فقیہہ عصر مولانا لمشی عبدالصمد خاں کشمیری مرحوم اور مشہور عربی ادیب،نامور عالم و محقق حضرت علامہ محمد عالم آسی امر تسری علیہما الرحمۃ سے کی اور یونیورسٹی کےمولوی فاضل کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کیے، حکیم حاجی محمد علی، حکیم محبوب عالم اور حکیم فتح چند سے طب کے اسباق پڑھے، اور لاہور ک۔۔۔
مزید
حضرت عمدۃ المدرسین مولانا محمد فرید رضوی گوجرانوالہ علیہ الرحمۃ فاضل جلیل عمدۃ المدرسین حضرت ابو الریاض الحاج مولانا محمد فرید رضوی ہزاروی بن الحاج مولانا عبد الجلیل بن مولانا امیر غلام ۵؍ شعبان ۱۳۵۶ھ / ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو موضع جھاڑ مضافات تربیلہ (ہزارہ) میں پیدا ہوئے۔ مشہور پٹھان قوم عیسیٰ خیل کے مورثِ اعلیٰ عیسیٰ خان آپ کے جدِّ اعلیٰ تھے۔ ایک اور جدِّ اعلیٰ عبدالرشید خان قندھار کے حاکمِ اعلیٰ ہو گزرے ہیں۔ آپ عِلمی و رُوحانی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ والد ماجد مولانا الحاج عبدالجلیل کے شب و روز تبلیغِ دین میں گزرتے ہیں۔ آپ کے جدِّ امجد کے حقیقی بھائی پیرِ طریقت علامہ امیر محمود اپنے علاقہ کے مرکزِ رشد و ہدایت ہیں، سینکڑوں طلباء نے ان سے اکتسابِ فیض کیا، نہایت سادہ منش اور پابندِ شریعت بزرگ ہیں۔ نہ صرف اپنی اولاد کو علومِ دینیہ سے بہرہ ور کیا، بلکہ دامادی کے لیے بھی اصحابِ علومِ اسلامیہ کا۔۔۔
مزید
تحسین رضا قادری، سید الاتقیاء، علامہ مولانا ولادت ماہر علوم عقلیہ نقلیہ حضرت مولانا تحسین رضا خاں قادری رضوی بن حضرت مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بن مولانا مفتی نقی علی خاں (والد ماجد امام احمد رضا بریلوی) کی ولادت ۴؍شعبان المعظم ۱۹۳۰ء کومحلہ سوداگران رضا نگر بریلی شریف میں ہوئی۔ خاندانی حالات حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی کے ج امجد مولانا حسن رضا بریلوی ۱۳۷۶ھ میں پیدا ہوئے فضل وکمال اور فقر و تصوف کو آپ کے خاندانی خصوصیات میں سمجھنا چاہیے۔ مولانا حسن رضا بریلوی نے اپنے برادر اکبر امام احمد رضا فاضل بریلوی اور پدر بزرگوار مفتی نقی علی خاں علیہ الرحمۃ کے خزائن علم و عقل سے مستفیض تھے۔ اور جواہر معافی وفضل سے بہرہ ور تھے۔ علاوہ ازیں بریلی میں اپنے اخی معظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض معنوی حاصل کیا۔ استاد زمن مولانا حسن رضا کو شعر و شاعری کا شوق ابتداء۔۔۔
مزید
تحسین رضا قادری، سید الاتقیاء، علامہ مولانا ولادت ماہر علوم عقلیہ نقلیہ حضرت مولانا تحسین رضا خاں قادری رضوی بن حضرت مولانا حسنین رضا بن استاد زمن مولانا حسن رضا بن مولانا مفتی نقی علی خاں (والد ماجد امام احمد رضا بریلوی) کی ولادت ۴؍شعبان المعظم ۱۹۳۰ء کومحلہ سوداگران رضا نگر بریلی شریف میں ہوئی۔ خاندانی حالات حضرت علامہ تحسین رضا بریلوی کے ج امجد مولانا حسن رضا بریلوی ۱۳۷۶ھ میں پیدا ہوئے فضل وکمال اور فقر و تصوف کو آپ کے خاندانی خصوصیات میں سمجھنا چاہیے۔ مولانا حسن رضا بریلوی نے اپنے برادر اکبر امام احمد رضا فاضل بریلوی اور پدر بزرگوار مفتی نقی علی خاں علیہ الرحمۃ کے خزائن علم و عقل سے مستفیض تھے۔ اور جواہر معافی وفضل سے بہرہ ور تھے۔ علاوہ ازیں بریلی میں اپنے اخی معظم اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض معنوی حاصل کیا۔ استاد زمن مولانا حسن رضا کو شعر و شاعری کا شوق ابتداء۔۔۔
مزید
حضرت شیخ غلام نقشبند لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شیخ [1]غلام نقشبند بن شیخ عطاء اللہ لکھنوی: عالمِ اجل،فاضل،اکمل،مفسر، فقیہ،حامی شریعت غراء حارس ملتِ بیضا تھے۔اوائل کتب درسیہ میر محمد شفیع دہلوی سے پڑھیں اور تحصیل کی دستار پیر محمد لکھنوی سے باندھی اور ان کے خلیفہ ہوئے۔ آپ کی تدریس و تلقین سے بہت خلقت کو فیج پہنچا۔شاہ عالم سے آپ نے ملاقات کی اور اس نے آپ کی بڑی تعظیم و تکریم کی۔سید عبدالجلیل بلگرامی نے آپ سے علم حاصل کیا۔آپ کی تصنیفات سے تفسیر ربع قرآن المسمی بہ انوار القرآن اور اس کے حواشی اور تفسیر بعض سورہ قرآنیہ اور کتاب فرقان الانوار اور اللامعۃ العرشیہ مسئلۂ وحدتِ وجاد میں اور شرح قصیدہ خزر جیہ عروض میں وغیر ذالک یادگار ہیں۔ وفات آپ کی سلخ ماہِ رجب ۱۱۲۶ھ میں ہوئی اور لکھنؤ میں دفن کیے گئے۔’’دار الفیض‘‘ ت۔۔۔
مزید