حضرت ابو عبداللہ محمد بن فضیل سمرقندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ عصمت اللہ نوشاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت حافظ برخوردار کے پسرِ پنجم تھے۔ نہایت بزرگ، عالم و فاضل، فقیرِ کامل، متقی اورعارفِ کامل تھے۔ زہدو اتقا اور عبادت و ریاضت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ تحصیلِ علوم حافظ محمد تقی سے کی تھی۔ ابتداء میں شیخ رحیم داد فرزندِ شاہ سلیمان کی خدمت میں بھی رہے اور فوائدِ عظیم حاصل کیے، اس کے بعد شیخ پیر محمد سچیار قاضی رضی الدین و سیّد شاہ محمد خلفائے حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کی خدمت میں حاضر رہ کر اخذِ فیض کیا۔ آخر میں حضرت شیخ عبدالرحمٰن المعروف بہ پاک رحمان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تکمیلِ سلوک کی۔ صاحبِ حال و قال و وجد و سماع تھے۔ طبع عالی پر جذب و استغراق بے حد غالب تھا۔ حالتِ سُکر میں جس پہ نظر ڈالتے تھے وُہ مست و بے ہوش ہوجاتا تھا۔ کشفِ صریح کا یہ عالم تھا کہ گھر میں بیٹھے ہوئے بتادیتے تھے کہ حضرت شیخ فلاں جگہ پر اور فلاں کام کر رہے ہیں۔۔۔۔
مزید
حضرت شیخ عبدالخالق چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: اسم گرامی: شیخ عبد الخالق چشتی صابری۔لقب: شیخ العصر۔ تاریخِ ولادت: آپ کا سن ولادت کتب میں معلوم نہ ہوسکا۔ قرین قیاس یہ ہے کہ دسویں صدی ہجری کا اوائل ہی ہوگا۔ تحصیل علم: آپ جامع علوم عقلیہ و نقلیہ تھے۔ بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں حضرت شیخ نظام الدین بلخی کے خلیفہ حضرت شیخ جان اللہ چشتی صابری لاہوری کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، مجاہدات و ریاضت کےبعد خلافت سے مشرف ہوئے۔(تذکرہ اولیائے لاہور، ص358) سیرت وخصائص: شیخ العصر حضرت شیخ عبد الخالق چشتی صابری ۔ آپ اپنے وقت کے شیخ کامل و عارف باللہ تھے۔آپ کی ذات مبارکہ سے سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کو فروغ حاصل ہوا۔ حضرت شیخ جان اللہ لاہوری چشتی صابری جو کہ حضرت شیخ نظام الدین بلخی چشتی صابری کے مرید و خلیفہ تھےکہ دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔ آپ فقر و وفاقہ ترک و تجرید میں۔۔۔
مزید
حضرت سیّد قطب الدین حَیدر بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا اسم گرامی سیّد قطب الدین بخاری، عرف محمد اشرف اور لقب حیدر حسین ہے۔ آپ کی ولادت با سعادت ماوراء النہر میں ہوئی۔ ماوراء النہر ہی میں مختلف اساتذہ سے حدیث، فقہ، تفسیر اور معقولات و منقولات میں یدِ طولیٰ حاصل کیا۔ آپ عالمِ باعمل اور فاضلِ بے بدل تھے۔ کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ پیرِ کامل کی تلاش میں سرہند شریف پہنچے اور حضرت خواجہ محمد زبیر قیّوم چہارم قدس سرہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے اجازت و خلافت حاصل کی اور اپنے شیخ کے انتقال کے بعد مسندِ خلافت پر بیٹھے۔ آپ کو امراء و اغنیاء کے اختلاط سے سخت نفر تھی۔ آپ شب و روز تلاوتِ قرآن مجید، ذکر الٰہی اور درود شریف میں مشغول رہتے تھے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا فی الرّسول کے درجہ تک پہنچے ہوئے تھے۔ اور زیارتِ روضۂ انور کے لیے دن رات تڑپتے رہتے تھے۔ مسندِ شیخ پر چند سال بیٹھنے ک۔۔۔
مزید