منگل , 25 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 12 May,2026

مولانا حسام الدین بخاری

مولانا حسام الدین بخاری علیہ الرحمہ ۔۔۔

مزید

شیخ عدی بن مسافر

حضرت شیخ عدی بن مسافرشامی ہنکاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ قدمائے مشائخ سے تعلق رکھتے ہیں جناب غوث الاعظم محی الدین عبدالقادر جیلانی۔ حضرت شیخ حماد۔ شیخ دباس۔ شیخ عقیل منجی سے صحبت رکھتے تھے کرامات و خوارق میں مشہور تھے سیدنا غوث الاعظم﷫ پہلی بار سفرِ حج پر روانہ ہوئے تو آپ ہی رفیق سفر تھے ان دونوں بزرگوں نے حج کیا۔سفینۃ الاولیاء کے مصّنف نے آپ کا سالِ وفات ۵۵۷ھ لکھا ہے تذکرۃ العاشفین میں ۵۵۷ھ لکھا ہے آپ کا مزار پر انوار جبل ہنکار میں واقع ہے۔ عدی ابن مسافر پیر شامینہ دل انور منیر آمد وصالش۲۵۷ھ کہ دانش بود اہل علم و ادراکجو چشمش رفت مثل گنج در خاک(خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

حضرت ابوالقاسم اسحٰق بغدادی

حضرت ابوالقاسم اسحٰق بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

شیخ ابوالحسن فخرالاسلام علی بن محمد البزوری الحنفی

شیخ ابوالحسن فخرالاسلام علی بن محمد البزوری الحنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

امام ابو یوسف

یعقوب بن۱ابراہیم بن حبیب بن خنیس بن سعد بن عتبہ انصاری صحابی : کوفہ میں عہد ہشام بن عبد الملک میں ۱۱۳ھ؁ میں پیدا ہوئے ۔ابو یوسف کنیت تھی ۔ امام اجل ، فقیہ اکمل،عالم ماہر ، فاضل متجر ،حافظ سنن ،صاحب حدیث ،ثقہ ،مجتہدفی المذہب اور امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سب سے متقدم تھے۔آپ ہی نے پہلے پہل امام ابو حنیفہ کے مذہب پر کتابیں لکھیں اور مسائل کو املاء و نشر کیا اور ان کے مذہب کو اقطار عالم میں پھیلایا،آپ ہی سب سے پہلے قاضی القضاۃ اور افقہ العلماء وسید العلماء کے لقب سے ملقب ہوئے اور آپ نے ہی اس ہئیت کا لباس علماء کا جو آج کل مروج ہے ، یجاد کیا۔ طلٗحٰہ بن محمد کہتے ہیں کہ آپ مشہور الامر ظاہر الفضل اپنے زمانے کے افقہ تھے،کوئی آپ کے زمانہ میں آپ سے متقدم نہ تھا اور علم و حکم دریاست و قدر میں نہایت سرآمد تھے،حدیث کو امام ابو حنیفہ وابا اسحٰق شیبابی و سلیمان تیمی ویحٰی بن سعد و سلیمان اعمش و ہشام بن ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابو ذر ابوزجانی

حضرت شیخ ابو ذر ابوزجانی علیہ الرحمۃ شیخ الاسلام کہتےہیں کہمیں نے ایک شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے بوذربوزجانی کو دیکھا صیاد گور گیر کہتے ہیں کہ بونر جان میںمجھے بڑی تکلیف پہنچی تھی میں نے بہت ہی طلب کیا تب جا کر ان کو پایا میں نے بوذر کو دیکھا کہ وہ کرامات ظاہرہ والے ہیں ۔کہتے ہیں کہ بوذر جان میں ایک مدرسہ تھا جس میں کہ شیخ ابو ذر وہاں کے رہنے والوں کو اولیاء کہتے تھے۔ ایک  دن اس مدرسہ کے دروازہ پر سوتے تھے۔مدرسہ کا چپڑاسی آیا کہنے لگا کہ آج طلباء کو کھانا نہیں ملا۔اس مدرسہ میں ایک توت کا درخت تھا۔ چپڑاسی سے کہا کہ جااس درخت کو جھاڑ۔چپڑاسی نے اس درخت کو جھاڑا جو پتھر جھڑا وہ خالص سونا تھے اور شیخ کے سامنے لایا۔کہا کہ جاؤ ان کے لیے کھانا خرید لاؤ۔ایک دن سبکتگین سلطان محمود  کا باپ جس کی وفات ۳۸۷ ھ  میں ہوئی ہے آپ کی زیارت کو آیا۔آپ نے اس کوسخت نصیحتیں فرمائیں۔ سلطان محمود  ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا احمد دین گانگوی

حضرت مولانا احمد دین گانگوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

امیر المعصوم شاہ مراد بن دانیال

امیر المعصوم شاہ مراد بن دانیال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت محمد فرخ شاد وحدت

حضرت محمد فرخ شاد وحدت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ سلامت اللہ کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت شاہ سلامت اللہ کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید