منگل , 25 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 12 May,2026

حضرت شیخ الفقہ مولانا حسن الدین ہاشمی

شیخ الفقہ مولانا حسن الدین ہاشمی، بہاولپور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شیخ الفقہ والقانون حضرت علامہ مولانا حسن الدین ہاشمی بن فرید العصر مولانا فریدالدین (متوفی ۷؍شوال ۱۳۹۲ھ /۱۴؍نومبر ۱۹۷۲ء) بن حضرت مولانا احمد الدین ابن مولانا امیر حمزہ قدست اسرارہم ۲۱؍رجب المرجب ۱۳۴۹/ ۱۲؍دسمبر ۱۹۳۰ء میں قصبہ بھوئی گاڑ (ضلع کیمبپور) کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب امام محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے اور آپ کا علمی خاندان پورے علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے[۱]۔ [۱۔ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری، تذکرہ اکابر اہل سنّت، ص۳۷۵۔ ۴۱۶] آپ کے والد ماجد حضرت مولانا فریدالدین، تایا حضرت علامہ محب البنی اور جدِّ امجد مولانا احمد الدین متبحر علماء تھے۔ تحصیل علوم: آپ نے ابتدائی تعلیم بھیرہ ضلع سرگودھا میں مولانا محی الدین بھیروی سے حاصل کی پھر صرف و ۔۔۔

مزید

مولانا الحاج گل محمد شہداد کوٹی

حضرت مولانا الحاج گل محمد شہداد کوٹی ولادت: علامۃ الزماں مولانا الحاج گل محمد بن شیخ الاسلام علامہ مفتی نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس کنڈو، تحصیل بھاگ ، ریاست قلات ( بلوچستان ) میں ۲۱، رجب المرجب ۱۲۴۰ھ کو تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: کنڈو اور شہداد کوٹ میں اپنے والد ماجد کے پاس جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ میں تحصیل کی۔ اس وقت آپ کی عمر بائیس ( ۲۲) برس تھی۔ بیعت: سلسلہ عالیہ قادریہ میں عمدۃ العارفین مولانا میاں غلام حیدر قادری قدس سرہ ( درگاہ کٹبار شریف بلوچستان ) کے دست بیعت ہوئے۔ درس و تدریس : آپ کے والد ماجد کنڈو سے شہداد کوٹ نقل مکانی کر کے آئے تھے لہذا والد ماجد کی قائم کردہ درسگاہ میں تمام سندھ میں علم پھیلا ۔ سندھ میں کوئی ایسا گوٹھ نہیں تھا جس میں آپ کا شاگرد یا پھر اس کا شاگرد نہ ہو۔ ایک روایت کے مطابق آ پ کے فارغ التحصیل شاگردوں کی تعداد ۴۸۶ چ۔۔۔

مزید

زبدۃُ السالکین صوفی مولانا خالد علی خاں قادری رضوی

زبدۃُ السالکین صوفی مولانا خالد علی خاں قادری رضوی ولادت حضرت مولانا صوفی خالد علی خاں رضوی بن مولانا ساجد علی خاں بریلوی محلہ گڑھیار بریلی شریف میں ۱۸؍شعبان المعظم ۱۳۵۵ھ؍۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے۔ حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی کرائی۔ خاندانی حالات مولانا صوفی خالد علی خاں بریلوی کے والد ماجد مولانا ساجد علی خاں علیہ الرحمہ بڑے ہی متورع شخصیت تھے ان کے انتظام نے دارالعلوم مظہر اسلام بریلی کو بامِ عروج تک پہنچادیا، جد امجد وادجد علیخاں بن بخش اللہ خاں بہت بڑے زمیندار تھے۔ امستیاھر ضلع بدایوں شریف میں تقریباً چار سوبیگہ زمین کے مالک تھے۔ تعلیم وتربیت مولانا خالد علی رضوی نے قران پاک اپنے والد ماجد اور والدہ محترمہ سے گھر ہی پر پڑھا اور اسکول کی بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے والد ماجد نے اپنے مدرسہ (مظہر اسلام) میں داخل کردیا اور ابتداء س۔۔۔

مزید

حضرت حافظ اسعد اللہ انصاری محدث حیدر آبادی

حضرت حافظ اسعد اللہ انصاری محدث حیدر آبادی علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

خواجہ عبد اللہ المعروف خواجہ خورد

خواجہ عبد اللہ المعروف خواجہ خورد علیہ الرحمہ خواجہ عبد اللہ جوخواجہ خورد خواجہ عبد اللہ جوخواجہ خورد کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ وہ دوسری زوجہ محترمہ  کے بطن سے تھے۔اور اپنے بڑے بھائی سے صرف چار ماہ چھوٹے تھے، شکل و شباہت اور سیرت میں اپنے والد بزرگوار کی ہو بہو تصویر تھے۔ والد بزرگوار کے وصال کے بعد خواجہ عبد اللہ کی کی ابتدائی تعلیم وتربیت بھی خواجہ حسام الدین نے کی جو اپنے مرشد کی وفات کے بعد ان کی درگاہ اور تمام خاندان کے نگران تھے۔ جب آپ سنِ شعور کو پہنچے تو انھیں بھی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کےپاس سرہند شریف بھیجا گیا ، وہاں انھوں نے باطنی اور روحانی تعلیم کے ساتھ ساتھ علم کلام ، تصوف کی اعلیٰ کتابیں بھی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ علم ِکلام اور فلسفہ و تصوف کے بہت بڑے عالم ہو گئے۔ آپ قرآن کریم کے ح۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ محمد نور

حضرت خواجہ محمد نور علیہ الرحمہ           خواجہ محمد نور کے متعلق بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بھی آپ خلیفہ تھے۔ جب خواجہ بزرگ دہلی میں مستقل طور پر مقیم ہوگئے تھے تو خواجہ نور کبھی کبھی حاضر خدمت ہوتے، دو چار گھنٹے مراقبہ فرماتے اور کسی سے گفتگو کئے بغیر چلے جاتے تھے کچھ عرصہ آپ کا یہی معمول رہا آخر کار  ۱۰۰۹ھ میں جمعہ کی نماز کے بعد آپ حضرت خواجہ بزرگ کی خدمت میں بیعت کیلئے حاضر ہوئے۔ حضرت خواجہ نے آپ کو اپنے خلوت خانے میں طلب فرمایا اور دو رکعت نفل پڑھوا کر اپنے سلسلہ میں داخل فرمایا  اور اذکارو اشغال کی اجازت دی اور تین دن روزہ رکھنے کےلیے کہا۔ آپ نے تین دن متواتر روزے رکھے پھر حضرت خواجہ باقی باللہ نے آپ کو اجازت اور خلافت عطا فرما کر رخصت کیا۔            اس کے بعد خواجہ محمد نور دو ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ رفیع الدین

حضرت شیخ رفیع الدین علیہ الرحمۃ  عام تذکروں میں حضرت خواجہ باقی باللہ کے ممتاز خلفائے میں صرف مذکورہ بالا چار حضرات کو شامل کیا گیا ہے مگر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب علیہ الرحمہ نے اپنی مشہور کتاب میں اپنے آباؤ اجداد کے جو حالات و ملفوظات درج کئے ہیں ان میں شیخ رفیع الدین کے حالات بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں کیونکہ وہ آپ کے والد محترم شاہ عبد الرحیم کے نانا تھا۔           شیخ رفیع الدین صاحب کے جدا اعلیٰ شیخ طاہر تھے جو اُوچ شریف دریاست بھاولپور پاکستان) میں مقیم تھے ان کے فرزند شیخ حسن تھے۔ شیخ حسن کے فرزند اجمند شیخ  عبد العزیز قادری تھے۔ شیخ عبد العزیز کے صاحبزادے شیخ قطب العالم تھے جو شیخ رفیع الدین کے والد محترم تھے[1]           شیخ رفیع الدین نے سب سے پہلے اپنے والد قطب العالم سے طریقہ چشتیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ اللہ داد

حضرت شیخ اللہ داد علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت تاج الدین سنبھلی

حضرت تاج الدین سنبھلی علیہ الرحمہ           شیخ تاج الدین سنبلی بھی آپ کے مخصوص خلفا ء میں سے تھے۔ کہا جاتا ہے  کہ سب سے پہلے آپ کو خرقۂ خلافت عطا ہوا تھا۔ حضرت خواجہ صاحب اپنے مکاتیب میں بھی آپ کو مناسب ہدایات دیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ ہم نے گذشتہ صفحات میں ان کا خلاصہ عنوان تعلیمات و ملفوظات کے آغاز میں بیان کیا ہے۔           آپ حضرت خواجہ صاحب علیہ الرحمہ سے روحانی فیض حاصل کر کے اپنے وطن سنبھل چلے گئے تھے وہاں آپ سے اس قدر روحانی فیوض ظاہر ہوئے کہ تمام لوگ آپ کے معتقد ہوگئے۔ دنیا دار پر آپ کی یہ مقبولیت دیکھ کر حسد کرنے لگے لہٰذا انھوں نے آپ کو زک دینے کےلیے ایک دوانہ فقیر ابو بکر کو آپ سے بھڑادیا۔ آپ نے اپنے روحانی اثر سے اسے سیدھا کردیا تاہم سنبھل والوں کی مخالفت سے تنگ آکر تمام حالات حضرت خوا۔۔۔

مزید

خواجہ حسام الدین احمد

خواجہ حسام الدین احمد علیہ الرحمہ           خواجہ حسام الدین علیہ الرحمہ کے والد قاضی نظام الدین بدخشانی بہت بڑے عالم فاضل تھے۔ ان کا شمار نامور امرائے اکبری میں ہوتا تھا۔ قاضی نظام الدین مشہور بزرگ عالم سعید ترکستانی اور نامور محقق احمد جنید  کے تلمیذ ضاص تھے۔ اس طرح خواجہ  حسام الدین کے گھرانے میں علم و فضل اور امارت دونوں چیزیں ایک ساتھ جمع ہوگئی تھیں اور خود خواجہ حسام الدین بھی ایک بڑے سرکاری عہدے پر فائز تھے اور شہنشاہ اکبر کے مشیر اعظم ابو الفضل سے بھی ان کی رشتہ داری تھی تاہم انھوں نے دنیا کے تمام مال و جاہ کو ٹھکرا کر حضرت خواجہ صاحب علیہ الرحمہ کی مصاحبت اختیار کی اور دنیاوی شان و شوکت کو چھوڑ کر فقیری اور درویشی اختیار کی۔           وزیر السلطنت ابو الفضل کو ان کا یہ رویہ ناپسند ہ۔۔۔

مزید