آپ حضرت خواجہ محبوب الٰہی کے خلیفہ خاص تھے۔ وقت کے کاملین مشائخ میں مانے جاتے تھے ذوق شوق عشق و مستی میں معروف، وجد و سماع کے دلدادہ تھے آپ کا شمار علماء عصر میں ہوتا تھا۔ امیر خسرو امیر حسن علائی سنجری وغیرہ دانشوروں کی صف میں بیٹھتے تھے، شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی قدس سرہ اکثر آپ کے گھر تشریف لاتے آپ حضرت خواجہ نظام الدین کے اتنے معتقد او ارادت مند تھے آپ کے ادب کا یہ عالم تھا کہ ساری عمر غیاث پور کی طرف پشت بھی نہیں کی آپ کو حضرت سلطان المشائخ نے دو بار خرقۂ خلافت سے نوازا پہلی بار جب خلافت ملی تو حضرت امیر خسرو اور میر علائی سنجری مجلس میں موجود تھے ان سب حضرات نے حضرت محبوب الٰہی کی خدمت میں سفارش کی کہ برہان الدین آپ کے قدیم خاص ہیں انہیں خرقۂ خلافت ملنا چاہیے خواجہ اقبال جو حضرت خواجہ نظام الدین کے خادم خاص اور محرم مجالس تھے وہ اس معاملہ میں پیش پیش تھے وہ پیر امین اور کلاہ لائ۔۔۔
مزید
مولانا حاجی عبدالمجید بن ولی محمد ساند ۱۳۳۸ھ؍ ۱۹۱۹ء کو تھر پار کر کے گوٹھ واگھی جی دیرہ ( تحصیل نگر پار کر ) میں تولد ہوئے ۔ ایک سال کی عمر کو پہنچے تو شفیق والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ پرورش والدہ ماجدہ اور چچا وغیرہ کے زیر سایہ ہوئی۔ تعلیم و تربیت: تعلیم قرآن مجید کیلئے والدہ نے اپنے ہی گوٹھ میں مائی مراد خاتون کے پاس بٹھایا۔ وہیں پر قرآن مجید ناظرہ مکمل کیا اور کتاب ابو الحسن سندھی پڑھی ۔ گوٹھ بھ شریف ( ضلع تھر پار کر ) میں میاں حامد اللہ ساند نقشبندی کے صاحبزادہ مولانا انور علی کے پاس فارسی مثلا گلستان ، بوستان ، یوسف زلیخا اور عربی میں نحو میر تک کتب پڑھیں ان دنوں مولانا انور علی ساند کی طبیعت نا ساز ہو گئی اور جلد ہی انتقال کیا۔ نوجوان عالم دین بیٹے کے اچانک انتقال پر مولانا حامد اللہ کو شدید صدمہ پہنچا لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا ۔ مولانا انور علی نے انتقال سے قبل اپن۔۔۔
مزید
استاد العلماء مولانا مفتی بخش کولاچی مٹھڑی ( بلوچستان ) کے ایک گوٹھ ’’حاجی ‘‘ میں تولد ہوئے۔ نسب نامہ : قاضی نبی بخش بن قاضی عبدالعزیز بن قاضی غلام مصطفی بن قاضی ملا محمد بن میاں عبدالرحیم بن حسن خان بن احمد خان بن قالو خان بن بھنبھا خان بن عبدالعزیز خان بن عبدالغفور خان بن عبدالستار خان بن محمد خان بن میر کلاچ خان بلوچ۔ آپ کے آباء واجد اد اصل میں شہر کولاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان ( سرحد ) کے تھے۔ آپ کے اجداد میں حسن خان ، کولاچی سے نقل مکانی کر کے ناڑی ( بلوچستان ) میں مقیم ہوئے اور آپ کے پوتے مولانا محمد کو وہاں کا سر کاری قاضی مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد پورا خاندان قاضی کے خطاب سے مشہور ہوا۔ تعلیم و تربیت : ابتدائی تعلیم بھاگ ناڑی میں مفتی ملا احمد سے ( ملا احمد کا مفتی محمد ہاشم یاسینی سے مناظرہ ہوا تھا دیکھئے اسی کتاب کی ردیف ھ حالات مفتی ہاشم ) سے حاصل ک۔۔۔
مزید
عارف باللہ حضرت علامہ حاجی فقیر اللہ علوی بن عبدالرحمن بن شمس الدین گیارہویں صدی ہجری کے بالکل اوائل میں گاوٗں ’’روتاس ‘‘ ضلع جلال آباد ( افغانستان ) میں تولد ہوئے ۔ آپ سلسلہ نسب میں علوی ہیں یعنی امیر الموٗمنین خلیفۃ المسلمین حضرت سید نا علی المرتضیٰ کے فرزندار جمند حضرت امام محمد بن حنفیہ کی اولاد میں سے ہیں ۔ تعلیم و تربیت : علوم ظاہر یہ کی تکمیل آپ نے افغانستان اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کی اور اپنے تبحر علمی کی بدولت آپ کا شمار اس دور کے ممتاز ترین علماء اور فضلاء میں ہوتاہے۔ ( تذکرہ صوفیائے سندھ) شیخ الاسلام فقیہ الاعظم مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی قدس سرہ الاقدس سے خوب استفادہ کیا۔ علامہ محمد صادق حصار کی افغانی ، شیخ عبدالقادر مکی ، شیخ سید محمد عمر مکی ، شیخ سید محمد عمر مکی ، شیخ طیب خطیب بن عمر الناشری یمنی ، شیخ محمد حیات سندھی مدنی حنفی وغیرہ۔۔۔
مزید
صبغت اللہ شاہ دوم شہید، امام انقلاب، سید حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی راشدی بن حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول بن حضرت ، پیر سید حزب اللہ شاہ بن حضرت پیر سید علی گوہر شاہ اصغر بن حضرت پیر سید صبغت اللہ شاہ اول بن امام العافین آفتاب ولایت حضرت پیر سید محمد راشد شاہ المعروف پیر سائیں روضے دھنی رضی اللہ عنہ ۔ حضرت سید صبغت اللہ شاہ دوئم ۲۳صفر المظفر ۱۳۲۷ھیٔ۱۹۰۸ء کو درگاہ عالیہ راشدیہ پیران پا گارہ ( پیر جو گوٹھ ، ضلع خیر پور میرس ، سندھ ) میں تولد ہوئے۔ والد ماجد شمس العلماء و العرفاء حضرت پیر سید شاہ مردان شاہ اول راشدی المعروف پیر صاحب پاگارہ پنجم کے وصال ( ۷ ربیع الاول ۱۳۳۹ھ؍۹ نومبر ۱۹۲۰ء ) کے بعد سید صبغت اللہ نومبر ۱۹۲۱ء کو فقط بارہ سال کی عمر میں مسند نشین ہو کر پیر صاحب پاگارہ ششم کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔ تعلیم و تربیت: خانقاہ شریف میں اپنے والد ماجد و پیر و مرشد کی ۔۔۔
مزید
شیخ السلام ، دسویں صدی کے مجدد مخدوم محمد جعفر بوبکائی کے والد محترم مخدوم میراں بھی عالم دین اور جامع المعقول والمنقول شخصیت کے حامل تھے ۔ کچھ عرصہ تک والی سندھ مرزا شہ حسن ارغون کو بھی تعلیم دیتے رہے ان کے علاوہ بھی بہت سے علماء نے شرف تلمذ حاصل کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے دورمیں مشہور و معروف تھے۔ آپ کا انتقال ۹۴۹ھ کو ہوا ۔ کسی نے ’’علامۃ وارث الانبیائ‘‘ سے سن وصال نکالا اور مزار مکلی ٹھٹھہ میں واقع ہے مخدوم صاحب کا نسبی تعلق عباسی خاندان سے ہے سلسلہ نسب یوں ہے۔ مخدوم محمد جعفر بن مخدوم میراں بن محمد یوقعب بن نور الدین بن مرزوق بن شیخ قلندر بن مروہ بن میراں بن عاری بن شیخ ابو بکر بن شیخ محمد بن شیخ ابوبکر بن سلطان خلجی خاں بن تارک بن سالار خاں بن بزدار خان، بن سلطان بن ہاشم بن حضرت عبداللہ بن حضرت عباس۔ مخدوم محمد جعفر کے ابتدائی و تفصیلی حا۔۔۔
مزید
الحاج حافظ سید محمد یوسف علی جعفری سلیمانی چشتیحضرت سید محمد یوسف علی ۱۴ مارچ ۱۸۸۹ء بمطابق رجب ۱۳۰۶ھ بروز جمعرات محمد آباد (ریاست ٹونک ، راجستھان ، بھارت) میں تولد ہوئے ۔ دس ماہ کے بھی نہ ہونے پائے تھے کہ پدر بزرگوار سیف زبان سید افضل علی شاہ جعفری صوواتی کا انتقال ہوگیا۔ ڈھائی برس کے یتیم کو لاولد خالو محمد فیاض خان یوسف زئی بینیری صوبے دار توپ خانہ نے جے پور لا کر پالا۔تعلیم و تربیت:نویں سال میں اللہ تعالیٰ نے حفظ قرآن مید کی نعمت سے نوازا۔ دینیات ، اردو ارو فارسی کی تحصیل گھر میں کرنے کے بعد مہاراجہ کالج جے پور میں تعلیم پائی اور فن حرب و ضرب وپ خانہ کے حاصل کی۔ پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد صاحب رقمطراز ہیں: عربی، فارسی، اردو، ہندی اور سنسکرت کے فاضل تھے اور قادر الکلام مقرر و شاعر سید احمد مرزا خان ’’آگاہ‘‘ شاگرد مرزا غٓلب کے تلمیذ رشید تھے اور نظم و نثر دونوں میںمہارت رکھت۔۔۔
مزید