اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

حضرت شیخ عبدالغفور مانو

جنات کو بلانے کے علم و عمل میں کامل تھے اور اپنے نفس پر پورا قابو رکھتے تھے۔ ہندوستان و خراسان کی خوب سیرو سیاحت کی، آپ اپنے نانا شیخ شمس الدین کے مرید تھے۔ ایک مرتبہ جنات اٹھا کر اپنے ملک میں لے گئے جہاں عرصہ تک آپ رہے ادھر آپ کے گھر والوں کو یہ خیال ہو ا کہ آپ کہیں سیر و سیاحت کرنے گئے ہیں۔ آپ جنات کی وضع قطع، رہن سہن اور ان کی زمین وغیرہ کو تفصیل سے بیان کرتے تھے اور ان کی زَبان بھی بخوبی جانتے تھے۔ جنات کے شہر میں رہنے سہنے کی وجہ سے آپ کی شکل و صورت میں بھی کافی تبدیلی ہو گئی تھی۔  کوئی نیا شخص دیکھ کر کبھی یہ نہیں کہتا کہ آپ ہماری زمین کے باشندے ہیں۔ آپ بہت زیادہ بوڑھے ہوگئے تھے اور 989ھ میں انتقال کیا۔ آپ کو عبدالغفور مانو کہنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مانو آپ کی محبوبہ کا نام ہے اور وہ کوئی جناننی تھی یا آدم زاد، آپ کو اس سے اتنی محبت تھی کہ اگر کوئی شخص مانو کا لفظ ٹھیکری پ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ اسحٰق

آپ بہت ہی عمر رسیدہ تھے۔ ملتان سے دہلی آکر سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ آپ نے بے انتہا سیاحت و سفر کیا اور خوب ریاضت کی، اکثر و بیشتر خاموش رہتے اور بہت ہی گم گفتگو کرتے تھے میں نے بھی آپ کی خدمت میں حاضری دی اور آپ کے طریقہ توجہ و عنایات کو خود دیکھا ہے۔ شیخ اسحٰق فرمایا کرتے تھے کہ میں اس انتظار میں ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے کوئی بیٹا عنایت کرے، چنانچہ بڑھاپے میں اللہ نے ان کو ایک لڑکا دیا، جس کی پیدائش کے بعد خود انتقال کر گئے۔ آپ کے انتقال کا واقعہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن آپ نے اپنی بیوی سے کہا گھر میں کچھ ہو تو لے آؤ تاکہ خیرات کردوں، انہوں نے جواب دیا تمہارے گھر میں کب کوئی چیز ہوئی ہے جو آج ہوگی۔ اس پر آپ نے کہا جتنی بھی ہولے آؤ چنانچہ دو تین سیر غلہ اور ایک پھٹی ہوئی چادر فقیروں کو تقسیم کی۔ اس کے بعد کہا سماع کا شوق ہے قوالوں کو بلاؤ، بیوی نے کہا تمہارے پاس ہے کیا جو قوالوں کو دو گے، آپ نے کہا۔۔۔

مزید

حضرت شیخ جلال قنوجی قریشی

آپ لالہ کے نام سے مشہور تھے۔ صاحب حال و ذوق و وجد تھے۔ اسمائے الٰہی پڑھنے کے ذریعہ آپ کو دست غیب حاصل تھا۔ آپ اکثر و بیشتر گریہ و زاری کرتے ہوئے فریاد کرتے اور نعرے لگاتے۔ آپ پر جب جزبہ و حال زیادہ طاری ہوتا تو آپ کی ظاہری وضع بدل جاتی اور آپ گدھے پر سوار ہو کر شہر کی گلیوں میں چکر لگاتے تھے آپ بہت بوڑھے اور عمر رسیدہ ہوگئے تھے، آپ نے 988ھ میں وفات پائی۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نظام الدین انبیٹھوی

آپ شیخ معروف جونپوری کے مرید تھے جن کے پیرومرشد مولانا اللہ داد تھے جنھوں نے کافیہ اور ہدایہ کی شرح لکھی ہے۔ آپ صاحب حال مجذوب و سالک تھے۔ سکر و جذب کی حالت آپ پر غالب تھی ابتدائے سلوک میں بڑی بڑی ریاضتیں کی تھیں۔ آپ صاحب باطن تھے اور کشف ظاہر میں اُونچا مقام رکھتے تھے جو شخص آپ کے پاس گیا اس نے آپ کی کرامتیں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ خود قوالی نہیں سنتے تھے اور مریدوں کو بھی قوالی سے معنوی و ظاہری پرہیز کرنے کا حکم دیا کرتے اور کہتے اگر باز کی آنکھوں پر پٹی نہ باندھیں اور اسکو شکار کرنے کی ترکیب نہ سکھائیں تو وہ جنگلی چڑیوں کا شکار کرنے لگے اور اس جب تربیت دے دیتے ہیں تو وہ کلنگ کا شکار کرتا ہے۔ قوالی کی بابت ارشاد فرماتے تھے کہ مفت اختلاف میں کیوں پڑتے ہو، اگر تقلید کرتے ہو تو سلف اور بزرگوں کی تقلید کیا کرو، اور جب آپ پر حالت طاری ہوتی تو آپ کے جسم میں آگ لگ جاتی اور بعض اوقات خون کے گھ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ برہان کالپی

عبادت الٰہی میں مصروف اور بہت ہی ریاضت کرتے تھے ان کو تصرف اور جلی کشف حاصل تھا۔ لوگوں میں آپ کے دوہرے بڑے مشہور ہیں جس سے دردحال ٹپکتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مہدوی عقائد رکھتے تھے باقی اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ آپ نے 1000 کے آخری ایام میں وفات پائی۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت میاں نجم‘ الدین مندوی

شاہ جیو کے مرید تھے آپ نے ایک سوتیس سال کی عمر پائی، آپ کے والد بزرگوار سلطان غیاث الدین مندوی کے وزیر تھے، آپ عالم و عارف باللہ صاحب حال، دنیا داری سے علیحدہ تھے اور ستر چھپانے کی حد تک لباس پہنتے تھے آپ کی عمرسات برس کی تھی کہ آپ کے پیرومرشد نے آپ پر توجو کرکے اپنی جانب کھینچ لیا۔ آپ نے احمد آباد میں ایک مُردے کو زندہ کیا تھا اور اس واقعہ کے بعد آپ وہاں سے ایسے غائب ہوئے کہ پھر کسی نے آپ کو وہاں نہ دیکھا، چنانچہ احمدآباد سے روانہ ہو کر دہلی آئے۔ زیادہ تر خواجہ قطب الدین نجتیار کاکی کے مزار پر حاضر رہتے تھے۔ خواجہ صاحب کی روحانیت سے اجازت لے کر اجمیر گئے کچھ عرصہ بعد وہیں اجمیر میں انتقال کر گئے۔ کہتے ہیں کہ خواجہ معین الدین اجمیری نے اپنی اولاد میں سے کسی سے اس کے خواب میں کہا کہ شاہ نجم الدین کا زمانہ وفات قریب آگیا ہے ان کو میرے کمرے کے سامنے دفن کرنا چنانچہ میاں نجم الدین کا مزار خواج۔۔۔

مزید

حضرت شیخ جنید حصاری

آپ شیخ فریدالدین گنج شکر کی اولاد میں سے تھے اور بوڑھے ہوگئے تھے۔ ظاہری عظمت و برکت و بزرگی کے مجسمہ تھے آپ فن کِتابت میں میں ماہر تھے زور نویسی کی یہ حالت تھی کہ تین دن میں پورا قرآن پاک مع اعراب کتابت کیا کرتے تھے اور یہ آپ کی کرامت تھی۔ اس کے علاوہ اور بھی خرق عادات آپ سے ظاہر ہوئی ہیں۔ آپ نے بعض رسائل میں دنیا کی نادر اور عجیب چیزیں سپُرد قلم کی ہیں جو کہ سمجھ سے باہر ہیں، اللہ ہی جانے آپ کا مقصد کیا ہے اور ان کی کیا تاویل کی جاسکتی ہے۔ آپ کی اولاد میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی تصنیفات کی ان انوکھی و نادر چیزوں کے حالات وغیرہ اس لیے کتاب میں سے مٹادیے ہیں کہ یہ باتیں لوگوں کی سمجھ سے بہت دور ہیں باقی اللہ ہی زیادہ جانتا ہے آپ کی وفات 901ھ میں ہوئی ہے، آپ کا مزار شہر حصار میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

شاہ مظفر حسین پٹنہ

حضرت شاہ مظفر حسین پٹنہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالعزیز بن حسن طاہر

میاں قاضی خاں کے خلیفہ اور متاثرین مشائخ چشتیہ کے مشہور بزرگ تھے۔ علوم شریعت و طریقت کے عالم تھے، بچپن سے عبادت و ریاضت اتنی کی کہ مشائخ کے مرتبہ پر پہنچ گئے، بچپن میں جو وظیفہ اور اوقات مقرر کیے تھے وہ آخر عمر تک باقی رکھے۔ مشائخ کی پیروی اور ان کے قواعد اور آداب کی حفاظت میں یکتائے زمانہ تھے، تواضع برد باری، صبر استقامت رضا و تسلیم الٰہی، مخلوق پر شفقت اور فقیروں کی رعایت کرنے میں اپنی مثال آپ تھے، اپنے زمانے میں مشائخ چشت کی یادگار تھے دہلی میں آپ کی وجہ سے سلسلہ ارشاد و مشیخت قائم تھا۔ قوالی سنتے تھے کہتے ہیں کہ رحلت کے وقت بھی ذوق و حالت کی کیفیت تھی۔ آپ نے یہ آیت پڑھ کر انتقال فرمایا فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شئی والیہ ترجعون ترجمہ: (پروردگار عالم کے دست قدرت ہی میں تمام چیزوں کی ملکیت ہے اور اسی کے پاس سب کو جانا ہے)۔ من مصنف کے والد بزرگوار شیخ سیف الدین فرماتے تھے کہ ہم نے شیخ عبد۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسین

روپیہ اور کبھی نہ سودا چکاتے اور نہ اس کی قیمت کا حساب کرتے۔ آپ شیخ عبدالوہاب کے دوستوں میں سے تھے آپ کو راہ تصوف میں ایک خاص رفتار حاصل تھی اور بے قیدی، بے تکلفی اور ہمت فرمائی میں ایک خاص طریقہ رکھتے تھے۔ شیخ عبدالوہاب فرماتے تھے کہ یہ شیخ حسین ہمارے رشتہ داروں میں سے تھے اور یہ عجیب حالت اور بلند ہمت کے مالک تھے۔ معمولی چیزیں خریدتے وقت ان کے پاس جو کچھ ہوتا وہ سب بیچنے والے کو دے دیتے خواہ وہ مظفری ہوتا یا شیخ عبدالوہاب فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ہم دریائے نربدا کو عبور کرنا چاہتے تھے۔ لیکن دریائے نربدا کے کنارے پر بہت سے لوگ اس لیے جمع تھے کہ نربدا کے بیچ میں ایک شیر اپنی کچھار میں بیٹھ گیا تھا جس کے باعث لوگ دریا میں آنے جانے سے مجبور ہوگئے تھے۔ یہ دیکھ کر شیخ حسین اپنے ایک ہاتھ میں چاقو لے کر اور دوسرے ہاتھ پر ایک چادر لپیٹ کر کھچار کے اندر گھس گئے اور شیر کو وہاں ٹکڑے ٹکڑے کر کے لوٹ آ۔۔۔

مزید