اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

حضرت میاں محمد طاہر

آپ علاقہ گجرات کے شہر پٹن میں سکونت پذیر تھے اللہ نے آپ کو علم و فضل کی نعمتوں سے نوازا تھا۔ زیارت حرمین سے مشرف ہوگئے تھے اور وہاں کے علماء و مشائخ سے علم حدیث کی تکمیل کی، شیخ علی متقی کی صحبت میں رہ کر ان کے مرید ہوئے۔ صاحب کرامت و برکت ہوکر وطن واپس آئے اور آپ کی قوم میں جو بدعتیں رائج تھیں وہ ختم کرکے اہل سُنت اور بدعتیوں کا فرق اپنی قوم کو سمجھایا۔ علم حدیث میں بہت سی مفید کتابیں تالیف کی ہیں۔ ان میں سے آپ کی ایک کتاب مجمع الجار بڑی مشہور ہے جس میں احادیث کی شرح لکھی ہے۔ آپ کی ایک دوسری کتاب کا نام مغنی ہے جس میں اسماءالرجال کی صحت کی ہے اور راویان، حدیث کا مختصر و مفید حال لکھا ہے۔ اپنی کتابوں کے دیباچوں میں شیخ علی متقی کی بے انتہا تعریف کی ہے۔ آپ کا دستور تھا کہ اپنے پیرومرشد کی وصیت کے مطابق اپنے ہاتھ سے روشنائی بنا کر طالب علموں کو مفت دیا کرتے تھے پڑھاتے وقت بھی زَبان سے پڑھاتے۔۔۔

مزید

حضرت میاں غیاث

علاقہ گجرات کے مشہور شہر بہڑچ میں رہا کرتے تھے اللہ کے خاص بندوں میں سے تھے خیرالناس من ینفع الناس ترجمہ: (بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے) آپ پر صادق تھا۔ عوام الناس کی ضرورت کی ہر چیز مثلاً روپیہ پیسہ کپڑے غذائیں دوائیں کتابیں، اسباب و سامان اور آلات وغیرہ سب اپنے گھر میں جمع کرکے رکھتے تھے آپ کا بہترین کارنامہ یہ تھا کہ جس کو جس چیز کی ضرورت ہوتی دے دیا کرتے تھے، اس کے ساتھ آپ زبردست عالم، عامل متقی اور شریعت کے پیرو تھے۔ سیدی شیخ عبدالوہاب فرماتے تھے کہ بحالت خواب میں نے ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! اس زمانے میں سب سے اچھا کون شخص ہے تو جواب مرحمت فرمایا، میاں غیاث پھر تمہارے شیخ علی متقی اور پھر محمد طاہر اس زمانہ کے بہترین آدمی ہیں اللہ تعالیٰ ان سب پر رحمتیں نازل کرے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم جیو قادری

آپ حیدرآباد دکن کے ضلع بیدر میں رہا کرتے تھے بہت ہی ضعیف دبلے پتلے، عبات گزار بابرکت عالی ہمت اور عظیم الشان بزرگ تھے۔ مالداروں کی جانب بالکل متوجہ نہ ہوتے اور عام طور سے لوگوں سے بے نیاز تھے، حضرت شیخ عبدالوہاب متقی فرماتے تھے، اگرچہ مخدوم جیو قادری میں کمزوری کی وجہ سے کھڑے ہونے کی طاقت نہ تھی لیکن رات کو بڑی دیر تک کھڑے ہوکر نفل پڑھا کرتے تھے، شیخ عبدالوہاب یہ بھی کہتے تھے کہ مخدوم جی قادری ہم سے زیادہ عالم، اسلامی احکام کی تعمیل کرنے والے متقی و پرہیز گار تھے ہم اور وہ ایک عرصہ تک ساتھ رہے، ممکن تھا کہ میں ان کا مرید ہوجاتا لیکن میری قسمت میں تو شیخ علی متقی سے بیعت ہونا تھا۔ مخدوم جیو قادری نے 1000ھ کے وسط میں وفات پائی، باقی اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

چراغ علی شاہ قادری

حضرت مولوی چراغ علی شاہ قادری محبت پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالوہاب المتقی

آپ مندو میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد شیخ ولی اللہ مندو کے اکابرین میں سے تھے، حادثات و انقلاب زمانہ کی بدولت مندو سے روانہ ہو کر برہان پور آئے اور یہیں سکونت پزیر ہوئے، برہان پور آکر ماضی کی طرح عزت دار و سربلند ہوئے اور پھر تھوڑے سے ہی دنوں بعد انتقال کیا اسی زمانہ میں آپ کی والدہ نے آپ کو کم سنی میں چھوڑ کر سفر آخرت اختیار کیا، بچپن ہی کے زمانہ سے اللہ کی توفیق نے آپ کی رفاقت کی ہے آپ نے اسی زمانے سے طلب حق کے لیے فقرد تجرید، سفرو سیاحت عالم اختیار کیا، آپ نے زیادہ تر نواح گجرات، اطراف و اکناف علاقہ دکن، سیلون، لنکا اور سراندیپ میں سیاحت کی، آپ کا یہ دستور تھا کہ تین دن سے زیادہ کہیں نہ ٹھہرا کرتے، البتہ تحصیل علم اور مشائخین و صالحین سے استفادہ کے لیے بقدر ضرورت قیام کیا کرتے تھے۔ بیس سال کی عمر کے لگ بھگ جبکہ آپ کی شادی بھی نہ ہوئی تھی مکہ معظمہ پہنچے۔ شیخ علی متقی کی چونکہ آپ کے وال۔۔۔

مزید

علامہ مشتاق احمد حنفی

حضرت علامہ مشتاق احمد حنفی انصاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  (مصنف تبشیرالاصفیاء باثبات حیاۃ الاولیاء)  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ علی بن حسام الدین

آپ کے والد ماجد کانام عبدالملک ابن قاضی خاں المتقی القادری الشاذلی المدنی چشتی ہے، آپ کے آباء واجداد جونپور سے آکر برہان پور میں مقیم ہوگئے، آپ کی ولادت باسعادت برہان پور ہی میں ہوئی ہے، آپ کے والد نے آپ کو آٹھ سال کی عمر میں شاہ باجن چشتی کے پاس لے جاکر مرید کرادیا جو اس زمانہ میں برہان پورمیں مقیم تھے اور اس واقعہ کے چند دن بعد آپ کے والد نے وفات پائی، والد بزرگوار کے انتقال کے بعد آپ بلحاظ طبیعت انسانی کچھ عرصہ لذات حسیہ میں مشغول رہے اور نوجوانی کے زمانے ہی میں بمقام مندو ایک بادشاہ کی ملازمت کی اور دنیاوی دولت جمع کی، اسی اثناء میں اللہ کی عنایت اور ہدایت کے جذبے نے اپنی طرف مائل کیا چنانچہ دنیاوی مال و زر اور اس کی بے ثباتی دیکھ کر شیخ عبدالحکیم ابن شاہ باجن کی خدمت میں پہنچے جن سے مشائخ چشت کی خلافت کا خرقہ حاصل کیا اور چونکہ آپ کی فطرت میں تقویٰ و پرہیزگاری کا غلبہ تھا اس لیے ملتان۔۔۔

مزید

شیخ شعیب مغربی

حضرت شیخ ابو مدین شعیب مغربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالاول

آپ علاء الحسنی کے فرزند ارجمند تھے اور میر سید محمد گیسو دراز جن کا مزار گلبرگہ شریف (علاقہ دکن) میں ہے ان کی اولاد میں سے کسی کے مرید تھے، اس کے علاوہ تمام علوم عقلی و نقلی رسمی و حقیقی میں کامل اور بڑے دانشمند تھے، اکثر علوم میں خود بھی کتابیں تصنیف کی ہیں، صحیح بخاری کی شرح فیض الباری بھی آپ ہی نے لکھی ہے، سراجی جو علم فرائض کی کتاب ہے اس کو منظوم کرکے اس پر شرح لکھی ہے، تحقیق نفس و معرفت پر فارسی میں نہایت تحقیق سے ایک کتاب تالیف کی ہے، سفر السعادت کا انتخاب کرکے سیرت پر کچھ کتابیں تصنیف کی ہیں، نیز اکثر کتابوں پر آپ کے شروع و حواشی و تعلیقات موجود ہیں، بہت عمر رسیدہ ہوگئے تھے، آخر میں آپ پر انکساری و عاجزی اور تصوف کا حال غالب ہوگیا تھا اور درسی علوم بہت کچھ بھول گئے تھے، آپ کے کُتب خانہ میں ہر قسم کی کتابیں موجود تھیں، آپ کے والد ماجد علاقہ جونپور قصبہ زید پور کے رہنے والے تھے، وہاں ۔۔۔

مزید

حضرت سید عبدالوہاب

آپ سید عبدالحمید سالوری کے فرزند تھے، آپ کے والد بزرگوار عمر رسیدہ اور بابرکت بزرگ تھے۔ آپ اپنے بچپن میں والد بزرگوار کے ساتھ ایک حوض پر نہانے گئے، اچانک حوض میں سے ایک آدمی نمودار ہوا اور آپ کو پکڑ حوض میں لے گیا اور آپ کو غائب کردیا، بہت تلاش کی گئی لیکن آپ نہ ملے، ایک مدت کے بعد آپ اسی حوض میں سے اس طرح نکلے کہ صاحب فیض اور بڑے عالم تھے۔ نقل ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے والد ماجد فقہ کی مشہور کتاب ہدایہ پڑھارہے تھے اثناء درس میں ایک مشکل مسئلہ پیش آیا جس کو حل کرنا مشکل ہوگیا، سید عبدالوہاب اپنے ہم عمر لڑکوں میں کھیل رہے تھے انہوں نے دور سے اپنے والد سے عبدالحمید کے دل میں ان مشکلات کے حل بیان کردئیے۔ سید عبدالوہاب جب بڑے ہوئے تو درس تدریس اور مطالعہ میں مشغول ہوگئے ایک دن آپ کُتب خانہ میں تنہا بیٹھے مطالعہ کر رہے تھے اور آپ کے ارد گرد بہت سی کتابیں رکھی ہوئی تھیں کہ اتنے میں ایک آدمی نے رجال ۔۔۔

مزید