آپ بڑے دانشمند اور اپنے وقت کے مسلم استاد تھے، زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے، آخر میں شیخ نظام الدین اولیاء کے مرید ہوئے اور شیخ سے کمال درجہ کا اعتقاد رکھتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں پانی پت جا رہا تھا تو سفر کے دوران میں نے صوفی کو دیکھا، میرے دل میں اس صوفی کے متعلق کچھ انکار اور سوء اعتقادی پیدا ہوئی (اس کو بذریعہ کشف یہ معلوم ہوگیا تو مجھے) کہا، مولانا آپ کو کچھ مشکلات درپیش ہیں! اور واقعہ بھی یہی تھا کہ مجھے کچھ علمی مشکلات کا حل مطلوب تھا، چنانچہ میں نے اس صوفی کو ایک ایک کرکے تمام اشکال بتائے، اس نے ہر ایک اشکال کا مدلل اور تسلی بخش جواب دیا، اس گفتگو کے بعد اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ تم کس کے مرید ہو؟ میں نے کہا: سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء کا، اس نے کہا کہ شیخ نظام الدین اولیاء ہمارے قطب ہیں۔ ایک مرتبہ شیخ نظام الدین نے مولانا وجیہ الدین پائلی سے فرمایا کہ ہمارے اور۔۔۔
مزید
راہنمائے ولایت حضرت مولانا پیر سید ولایت شاہ ابن حضر ت پیر سید احمد شاہ ۱۳۰۶ھ؍۱۸۸۸ء میں پیدا ہوئے قرآن پاک یاد کرنے کے لئے پہلے موضع رانیوال گئے۔پانچ پارے یاد کئے،پھر گجرات چلے آئے،بعد ازاں مدرسہ تعلیم القرآن جنڈ میں داخل ہوئے اور قرآن مجید حفظ کیا درسی کتابیں مولانا غلام حیدر (فتحپوری گجرات) سے پڑھیں اور مولانا قاری غلام نبی للّٰہی سے کتب تجوید کا درس لیا تکمیل کے لئے جامعہ نعانیہ لاہور میں مولانا غلام محمد گھوٹوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہی سے سند فراغت حاصل کی ۱۳۳۳ھ؍۱۹۱۵ء میں امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے آپ کو اپنے شیخ سے قابل رشک حد تک عقیدت تھی۔ حضرت شاہ صاحب کو ابتدائی۔۔۔
مزید
آپ شیخ نظام الدین اولیاء کے خلیفہ تھے، شیخ آپ پر بے حد شفیق و کریم تھے اور آپ شیخ کے پرانے ارادت مندوں اور خلفاء میں سے تھے، شیخ جب اپنے مریدوں کو خلافت دیتے تو اس وقت ان کی خلافت کی بھی تجدید کرتے تھے، آپ صاحب کرامات بزرگ تھے، نیز یہ بھی مشہور ہے کہ جب آپ اپنے گھر سے مرشد کے پاس جایا کرتے تو آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ مرشد کی خدمت میں پیدل جانا درست نہیں ہے تو اسی وقت اللہ تعالیٰ آپ کو اڑنے کی طاقت عطا فرمادیتا۔ (اور آپ اڑ کر اپنے پیر و مرشد کی بارگاہ میں حاضر ہوتے) کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ مرشد کے پاس سر کے بل حاضر ہوتے، مرشد ہی کے ارشاد سے چندیری کے مقام میں رہا کرتے تھے ، چندیری کے اکثر و بیشتر لوگ آپ کے مرید اور عقیدت مند تھے آپ کا مزار بھی چندیری میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
بلند پایہ واعظ اور بے مثل شاعر مولانا سید نور اللہ شاہ ابن مولانا سید چراغ شاہ ۱۲۸۰ھ؍۱۸۲۳ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔درس نظامی کی ابتدائی کتابیں مولانا میر حسن سیالکوٹی(استاذ علامہ اقبال) سے ،آخری کتابیں اپنے بڑے بھائی مولانا سید عبد اللہ شاہ سے پڑھیں۔آپ حضرت مولانا قاضی سلطان محمود (آوانی) قدس سرہ العزیز کے سفر و حضر کے ساتھی تھے۔جب حضرت قاضی صاحب بزرگان دین کے مزارات عالیہ کی زیارت کے لئے جاتے تو اکثر ااپ کو شرف معیت حاصل ہوتا تھا۔اور بقول نواب معشوق یار جنگ جب حضرت قاضی صاحب آخری دفعہ اپنے شیخ حضرت مولانا اخوند عبد الغفور قدس سرہ کے مزار شریف کی زیارت کے لئے سوات تشریف لے گئے تو مولانا سید نور اللہ شاہ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ آپ فارسی زبان کے علامی مرتبہ شاعر تھے،آپ ۔۔۔
مزید
آپ بغرض تجارت کرمان سے لاہور تشریف لاتے اور واپسی پر پاک پتن میں شیخ فریدالدین سے ملاقات کرتے ہوئے ملتان جایا کرتے جہاں آپ کے چچا سید احمد کرمانی رہا کرتے تھے اسی آمدورفت سے آپ کو شیخ فریدالدین سے محبت ہوگئی؛ چنانچہ کرمان میں جتنا کاروبار تھا وہ سب ترک کرکے مستقل اپنے چچا سید احمد کرمانی کے پاس ملتان آگئے اور پھر وہاں سے شیخ فریدالدین سے بیعت ہونے کی غرض سے پاک پتن روانہ ہونے لگے تو آپ کے چچا نے فرمایا کہ شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا بھی بڑے بزرگ ہیں، سید محمد نے کہا، چچا جان! سب سے محبت نہیں ہوسکتی، غرض یہ کہ پاک پتن آکر شیخ فریدالدین سے بیعت ہوئے اور ریاضت و مجاہدہ میں اچھی طرح لگ گئے اور شیخ فریدالدین کے انتقال کے بعد خواجہ نظام الدین اولیاء کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کی صحبت سے مستفیض ہوتے رہے اور خواجہ صاحب کے بڑے دوستوں میں شمار کیے جانے لگے۔ جمعہ کی رات 711ھ میں۔۔۔
مزید
حضرت مولانا ابو المنظور محمد نظام الدین ملتانی حنفی قادری سروری قدس سرہ ملتان شریف میں پیدا ہوئے،اپنے دور کے با کمال اساتذہ سے تحصیل علم کی۔دربار شریف حضرت سلطان العافین سلطان با ہو قدس سرہ کے سجادہ نشین حضرت امیر سلطان قدس سرہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور تا حیات تحریرو تقریر کے ذریعے مسلک اہل سنت و جماعت کی تبلیغ و حمایت کرتے رہے،مناظرہ میں یدطولیٰ رکھتے تھے،آپ کی تصانیف پر عموماً یہ اعلان درج ہوتا تھا:۔ ’’اہل اسلام کو واضح ہو کہ اگر آپ کو کوئی وہابی ،شیعہ ،مرزائی، چکڑاولی ستائے اور چلینچ دے تو فوراً مولانا محمد نظام الدین ملتانی رئیس المناظرین کو با نتظام جلسہ طلب کریں،لیکن دس دن پہلے اطلاع دیں،ممدوح صاحب ان کے ساتھ ہر وقت مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔۔۔۔
مزید
شیخ العلماء استاذ الفضلاء حضرت مولانا میاں نصیر احمد ابن میاں غلام محمد صوفی ۱۲۲۸ھ؍۱۸۱۳ء میں پیدا ہوئے،مروجہ علوم کی تحصیل صوبہ سرحد کے ممتاز افاضل سے کی اور مشہور عالم محقق مولانا مفتی محمد احسن المعروف بہ ھافظ دراز قدس سرہ (م۱۲۶۳ھ؍۱۸۴۷ئ) سے تکمیل کیاور سند فراغت حاصل کی،جب آپ مسند تدریس ہر فائز ہوئے تو آپ کی شہرت علمی سن کر بلخ،بخارا اور کابل کے طلباء کا آپ کے گر وجمگھٹا رہنے لگا،فارغ التحصیل علماء آپ سے کسب علم کیا کرتے تھے۔ پورے علاقے میں آپ کو فتویٰ چلتا تھا،چونکہ آپ پوری تحقیق سے فتویٰ لکھتے تھے یا مہر تصدیق ثبت فرماتے تھے اس لئے علماء آپ کی تصدیق دیکھ کر بلا تامل تائید کردیا کرتے تے۔ایک دفعہ سوات کے علماء نے فتویٰ دے دیا کہ محراب کے بغیر جماعت نہیں ہوتی،یہ فتوی۔۔۔
مزید
آپ کی والدہ شیخ فریدالدین کی صاحبزادی تھیں (تو گویا کہ آپ شیخ فریدالدین کے نواسے تھے) آپ نے بھی شیخ نظام الدین اولیاء کے ملفوظات کو جمع کرکے ان کا نام ’’تحفۃ الابرار‘‘ اور ’’کرامت الاخبار‘‘ رکھا، آپ قاضی محی الدین کا شانی کے تلمیذ و شاگرد اور فن کتابت میں بے مثل کاتب تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ شیخ نظام الدین اولیاء کے پاس گیا وہ اس وقت قبلہ رو دو زانو اس طرح بیٹھے تھے کہ ان کی آنکھیں اور چہرہ آسمان کی طرف تھا اور جمال پروردگار میں محو و مستغرق تھے میں خوف زدہ ہوگیا کہ میں ایسے نازک ترین وقت میں آیا ہوں کہ نہ رُک سکتا ہوں اور نہ ہی واپس لوٹ سکتا ہوں، غرض یہ کہ میں اسی عالم میں پورا ایک گھنٹہ کھڑا رہا اور اس پورے وقفہ میں شیخ کا کوئی خادم وغیرہ بھی نہ آیا س کے بعد شیخ نے اس طرح جُھر جُھری لی جس طرح چڑیا پھڑ پھڑاتی ہے اور اپنی اصلی حالت ۔۔۔
مزید
آپ مولانا بدر الدین اسحاق کے بیٹے اور شیخ فریدالدین کے نواسوں میں سے جامع العلوم اور ماہر فی الفنون تھے اور علم حکمت میں بھی مہارت نامہ رکھتے تھے اور علم موسیقی بھی جانتے تھے اور کمال ذوق و شوق سے اطاعت و عبادت کرتے تھے اور شیخ نظام الدین کے امام تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے شیخ نظام الدین اولیاء کے ملفوظات کو جمع کرکے ان کا ’’انوار المجالس‘‘ نام رکھا، ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ابوبکر طوسی کی خانقاہ جو دریا کے کنارے پر تھی وہاں ایک مجلس منعقد ہوئی اس مجلس میں شیخ نظام الدین بھی موجود تھے، غزل خواں بے حد کوشش کر رہے تھے مگر کسی پر حال و وجد طاری نہ ہوا تو خواجہ نظام الدین نے فرمایا کہ مجلس ختم کردی جائے اور بزرگوں کے قصے اور حالات بیان کیے جائیں، چنانچہ جب بزرگوں کے حالات شروع ہوئے تو اسی اثناء میں لوگوں پر وجد طاری ہوگیا اور شیخ علی زنبیلی شیخ نظام الدین پانی۔۔۔
مزید
آپ بھی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ کے مرید تھے آپ نے اپنی کتاب ’’خلاصۃ اللطائف‘‘ میں لکھا ہے (کہ میں نے اپنے مرشد اور مخدوم شیخ نظام الدین قدس سرہ کو بحالت مراقبہ دیکھا تو میں نے بعض اوقات آپ کی مجلس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا، ایک سرہبہ میں نے آپ کی مجلس میں جاکر دیکھا کہ شیخ خاموش بیٹھے ہیں اور مجلس بہترین جمی ہوئی ہے اور شیخ ظاہراً بالکل غیر متحرک تھے مگر آپ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں چنانچہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں اور پوچھا کہ تو کون ہے؟ یہ کیفیت دیکھ کر میرا ارادہ ہوا کہ الٹے پاؤں لوٹ جاؤں اور شیخ اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہیں گویا کہ سکر کی حالت میں ہیں، پھر فرمایا کہ فقیر کے لیے مناسب یہ ہے کہ اپنے دل میں نہایت خشوع کے ساتھ اس بات کا تصور کرے کہ میں اللہ کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں پھر مجھے فرمایا کہ یہاں سے چلا جا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ج۔۔۔
مزید