جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

شیخ یحییٰ بن معاذ رازی﷫

  ناطق حقائق۔ واعظ خلایق تھے۔ اچھا خلق کریم طبع اور عام فیضاں کے مالک تھے۔ صاحب تصانیف کثیرہ ہوئے ہیں۔ مشائخ کبار میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ بزرگان دین فرماتے ہیں عالم اسلام  میں دو یحییٰ ہوئے ہیں۔ ایک تو انبیاء کرام میں سے جو یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے نام سے مشہور ہوئے۔ دوسرے یحییٰ  ابن معاذ رازی ﷫ خلفاء کرام کے بعد جس شخص نے منبر پر کھڑے ہو کر وعظ کا آغاز کیا وہ آپ ہی تھے حضرت یحییٰ  کے ایک بھائی مکرہ مکرمہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے آپ کو خط لکھا کہ میری زندگی میں تین آرزوئیں تھیں۔ دو پوری ہوگئی ہیں مگر ایک آرزو ابھی باقی ہے آپ دعا فرمائیں  کہ وہ بھی پوری ہوجائے۔ پہلی آرزو تو یہ تھی کہ میں اپنی زندگی زمین کے بہترین حصہ میں بسر کروں۔ الحمدللہ میں حرم پاک میں رہ رہا ہوں۔ دوسری آرزو یہ تھی کہ میرا کوئی خادم نہ ہو مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک نیک سیرت کنیز دی ہے۔ جو میری ۔۔۔

مزید

شیخ دارمی عبداللہ بن عبدالرحمٰن سمرقندی﷫

  آپ عظیم محدثین میں سے تھے۔ آپ کی مسند دارمی مشہور کتاب ہے۔ آپ کی وفات ۲۵۵ھ میں ہوئی۔ رفت از دنیا چو در خلد بریں دارمی شد سالِ ترحیلش عیاں   دارمی اں جامع صدق و صفاء نیز محبوب محب اہل العطاء ۲۵۵ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابوبکر سنجری﷫

  آپ خراسان کے بزرگوں میں سے تھے۔ حضرت شیخ ابوحفص سے مجلس رہتی بڑے متوکل اور تجرید پسند تھے۔ دنیا اور اہل دنیا سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا۔ ایک شخص نے آپ کی خدمت میں گزارش کی۔ حضرت میرے پاس ایک دینار سرخ ہے میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو دے دوں۔ آپ نے فرمایا یہ تو تمہارے کام کی چیز ہے۔ مجھے دینے سے کیا فائدہ۔ اگر مجھے دے دو گے تو تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ اور اپنے پاس رکھو گے۔ تو میرے لیے بہتر ہوگا۔ آپ کی وفات ۲۵۵ھ میں ہوئی۔ چو عبداللہ زین عالم سفرِ کرد زدل سالِ وصال آں شہِ دین   چو گنج اندرز میں جسمش نہاں شد حبیب کامل عبداللہ عیاں شُد ۲۵۵ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ زکریا بن یحییٰ ہروی﷫

  آپ مشائخ کبار  میں سے تھے۔ مستجاب الدعوات تھے حضرت امام احمد بن حنبل﷫ فرمایا کرتے تھے کہ شیخ زکریا بن یحییٰ ابدال وقت میں سے تھے۔ آپ کی وفات ہرات میں ماہ رجب ۲۵۵ھ میں ہوئی۔ شیخ زکریا شہ ہر دوسرا عابد و مقبول سال وصل او ۲۵۵   یافت از حق در حریم خلد جا ہم بفرما زاہد دین باصفا ۲۵۵   (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابوتراب بخشی قدس سرہ

  آپ کا اسم گرامی عسکر ابن الحصین تھا۔ بعض کتابوں میں عسکر بن محمد بن حصین لکھا ہے خراسان کے کامل مشائخ خراسان میں سے تھے۔ زہد و مجاہدہ اور تقویٰ میں راسخ القدم تھے۔ آپ نے پورے تیس سال ریاضت و مجاہدہ میں گزارے۔ حضرت شیخ حاتم عطار بصری اور حاتم اصم کی صحبت میں رہے۔ فرمایا کرتے ایک بار میں ایک وادی سے گزر رہا تھا میرے دل میں گرم روٹی بیضہ مرغ کھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ میں راستہ بھول گیا ایک ایسے قبیلہ میں جا پہنچا۔ جس کے بہت سے لوگ لاٹھیاں ہاتھ میں پکڑے کھڑے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی چلا اٹھے۔ وہ پکڑا گیا مجھے گھیر لیا اور کہنے لگے تم نے ہمارا سامان چورایا ہے تم چور ہو اور مجھے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ اسی ہنگامے میں مجھے قبیلے کے ایک بوڑھے نے دیکھا اور مجھے پہچان لیا اور چلایا کہ بے وقوفو! یہ تو ہمارے شیخ طریقت ہیں تم کیا کر رہے ہو، بے ادبو! تم صدیقان طریقت کے سردار سے بھی یوں سلوک کر رہے ہو۔۔۔۔

مزید

شیخ حاتم بن عنوان اصم﷫

  آپ کی کنیت ابوعبدالرحمان تھی بلخ کے رہنے والے تھے حنفی المذہب تھے اور حضرت شیخ شفیق بلخی﷫ کے مریدِ خاص تھے۔ شفیق بلخی کے بعد آپ نے حضرت شیخ احمد خضرویہ﷫ سے بیعت کی ۔ خراسان کے بزرگوں میں آپ کا مقام زہد و عبادت ادب و ورع میں بہت بلند تھا۔ ایک دن بلخ میں وعظ فرما رہے تھے۔ جوش میں آکر فرمایا: اے اللہ اس مجلس میں جو شخص سب سے زیادہ گناہگار ہے اسے بخش دے۔ اس مجلس وعظ میں ایک ایسا شخص موجود تھا جو مردوں کے کفن چورایا کرتا تھا۔ دوسری رات وہ ایک قبرستان میں اپنے معمول کے مطابق کفن چوری کرنے لگا، ایک قبر کھودی مگر صاحب قبر نے آواز دی کل تجھے حضرت حاتم اصم کی مجلس میں بخشش کی بشارت بھی ملی۔ مگر تم اپنی بُری حرکت سے باز نہیں آئے۔ اس شخص نے اُس بُرے کام سے توبہ کرلی۔ شیخ محمد رازی فرماتے ہیں کہ میں کئی سال حضرت اصم کی مجلس میں رہا صبح و شام ان کی خدمت میں گزارے  میں نے ایک دن بھی آپ کو خشم۔۔۔

مزید

شیخ احمد ابن الخواری﷫

  ابوالحسن شیخ احمد ابن الحواری﷫ دمشق کے رہنے والے تھے  حضرت ابوسلیمان دارانی﷫ کے مرید خاص تھے۔ آپ کے والد ماجد بھی عارفانِ حق میں سے تھے۔ شیخ احمد ابن الحواری نے اپنے مرشد سے یہ عہد کیا تھا کہ ان کے فرمان کے خلاف ایک قدم بھی نہیں اٹھائیں گے ایک دن حضرت ابوسلیمان اپنی مجلس میں بہت اچھی گفتگو فرما رہے تھے۔ سامعین پر بہت اچھا تاثر تھا۔ اسی دوران شیخ احمد حواری مجلس میں داخل ہوئے اور گزارش کی حضرت نور گرم ہوگیا ہے مجھے کیا حکم ہے حضرت مرشد نے توجہ نہ فرمائی  شیخ احمد نے دوبارہ گزارش کی، تو حضرت سلیمان دارانی نے جواب نہ دیا، مگر ان کی یہ تکرار انہیں اچھی نہ لگی اور غصّے میں کہہ دیا، جاؤ تنور میں بیٹھو۔ شیخ احمد اسی وقت اٹھے اور تپتے ہوئے تنور میں داخل ہوگئے۔ چند لمحوں بعد حضرت سلیمان  نے اپنے مرید شیخ احمد کو بلایا لوگوں نے تلاش کیا مگر ان کا کہیں پتہ نہ ملا۔ آپ نے فرمایا: ۔۔۔

مزید

حضرت یوسف اسباط﷫

  صاحب مقامات بلند، مالکِ کرامات ارجمند۔ ماہر علوم ظاہر و باطن واقف رموزِ تجرید و توکل۔ یگانہ آفاق حضرت یوسف اسباط﷫ اولیاء اللہ میں ممتاز مقام رکھتے تھے آپ کو ایک ہزار درہم ملا۔ تمام کے تمام اللہ کی راہ میں تقسیم کردیے خود کھجور کے پتے جمع کرتے اس کی مزدوری سے روزی کماتے۔ چالیس سال عریاں رہے۔ اور بجز ضرورت ستر کپڑا انہیں خریدا۔ سردیوں میں ایک پرانا بوریا اوڑھ لیتے اور اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے۔ آپ کی وفات ۱۹۶ھ میں ہوئی۔ چو یوسف بر رخ خود پَردہ بربست بگو سلطان ولی تاریخ وصلش ۱۹۶ھ   رواں شد روح پاک اوبا فلاک ذکر فرما کہ یوسف زاہد پاک ۱۹۶ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

حضرت شفیق بلخی﷫

  حضرت ابو علی شفیق بلخی﷫ قدیم مشائخ میں سے تھے۔ صاحب کرامات اور خوارق تھے روحانیت کے بلند مقامات پر فائز تھے۔ حضرت امام موسیٰ رضا اور سلطان ابراہیم ادھم رحمۃ اللہ علیہما کی مجالس میں شریک ہوئے، حضرت امام ابوحنیفہ کے مذہب پر زندگی بسر کی، توکل و قناعت پر کار بند رہے، مختلف علوم و فنون میں تصانیف بطور یاد گار چھوڑیں۔ ایک بار مالِ تجارت لاد کر ترکستان کو روانہ ہوئے ایک بت خانہ سے گزر ہوا۔ وہاں ایک بت پرست بت کے سامنے رو رہا تھا۔ اور کہہ رہا تھا کہ اے بت میری حاجت پوری کر، آپ نے فرمایا: ارے بیوقوف تمہارا خالق موجود ہے جو حی و قیوم ہے۔ قاضی الحاجات ہے اس بے جان کے سامنے کیوں سجدہ کرتا ہے اور روتا رہتا ہے اس بت پرست نے کہا کہ اگر وہ قادر مطلق ہے رازق و خالق ہے تو پھر تو تلاش رزق میں کیوں مارا مارا پھرتا ہے۔ حضرت  شفیق یہ بات سنتے ہی غفلت سے بیدار ہوگئے اور دنیا و ما فیہا کو ترک کردیا۔۔۔۔

مزید

حضرت محمد سماک﷫

  ابوالعباس حضرت محمد سماک قدیم علماء دین اور مشائخ اہل یقین میں سے تھے۔ حافظ قرآن تھے، زاہد تھے، عابد تھے متقی تھے اور واعظ تھے کلام کرتے تو عقل و حکمت کے پھول گرتے، بیان کرتے تو شافی اور وافی ہوتا، وعظ و نصیحت میں اپنی مثال آپ تھے، حضرت سفیان ثوری﷫ سے صحبت رکھتے تھے۔ حضرت معروف کرخی﷫ آپ کی باتوں کو پسند فرماتے تھے۔ ساری عمر تنہا گزاری لوگوں نے کہا: شادی کیوں نہیں کرلیتے، فرمایا کرتے ہیں دو شیطانوں سے مقابلہ نہیں کرسکتا، ایک شیطان ابلیس اور دوسرے بیوی جس کے قبضہ میں شیطان ہوتا ہے۔ حضرت شیخ احمد حواری﷫ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت سماک بیمار ہوگئے میں قارورۂ طبیب کے پاس لیے جا رہا تھا کہ راہ میں ایک پیر روشن ضمیر سے ملاقات ہوئی، انہوں نے پوچھا، کہاں جا رہے ہو، میں نے بتایا کہ سماک بیمار ہیں، اُن کے لیے طبیب سے دوائی لینے جا رہا ہوں، آپ نے فرمایا: سبحان اللہ، اللہ کا دوست غیراللہ سے۔۔۔

مزید