ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

مولانا عبد الحکیم پشاوری  

              مولانا عبد الکریم بن مولانا درویزہ پشاوری: آپ کو اخوند کریم داد کے نام سے بھی پکارتے تھے،علوم ظاہری و باطنی اپنے والد ماجد سے حاصل کیے یہاں  تک کہ آپ محقق افغانستان کے خطاب سے مخاطب ہوئے،اخیر کو میر سید علی غوارل کے مرید کر خرقۂ خلافت حاصل کیا اور صاحبِ شریعت و طریقت اور حقیقت ہوئے۔کتاب مخزن الاسلام تصنیف کی،آپ ہر روز رات کو ایک جرزو سفید کاغذ کا اپنے حجرہ میں لے جاتے تھے اور بغیر چراغ روشن کیے،تحریر فرماکر صبح اپنے یاروں کو دے دیتے تھے یہاں تک کہ کتاب مزکور اختتام کو پہنچی۔           کہتے ہیں کہ آپ سے ایک شخص نےپوچھا تھا کہ غوث کس کو کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ غوث کی نشانی یہ ہےک ہ جب وہ مرجائے اور کوئی شخص اس کے منہ پر نظر ڈالے تو وہ آگے سے تبسم کرے،پس جب آپ نے ۱۰۷۲؁ھ میں۔۔۔

مزید

ابو الوفاء

                ابو الوفاء بن عمر بن عبد الوہاب غرضی: حلب کے علمائے اعیان سے فقیہ فاضل،عالم متجر،متواضع،واعظ،مفتی حنفیہ تھے،اپنی تمام عمر درس وتدریس میں بسر کی اور ایک تاریخ موسومہ بہ معادن الذہب اعیان حلب کےتذکرہ میں تالیف کی اور کئی ایک رسالے تصنیف کیے،شعر بھی عمدہ کہتے تھے چنانچہ لامیۃ العجم کے مقابلہ میں ایک قصیدہ لامیۃ انشاد کیا۔عید الاضحیٰ کے روز ۹۹۴؁ھ میں پیدا ہوئے اور محرم ۱۰۷۱؁ھ کو وفات پائی۔’’خواجہ عالی مقدار‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن عبدالکریم خوارزمی

محمد بن عبدالکریم ترکستانی خوارزمی: بہان الائمہ و شمس الدین لقب تھا۔ امام فاضل،فقیہ متجر تھے۔فقہ دہقان محمد بن حسن کاسانی تلمیذ نجم الدین عمر نسفی سے پڑھی اور آپ سے مختار زاہدی صاحبِ قنیہ نے تفقہ کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

شیخ زین العابدین

                شیخ زین العابدین بن ابراہیم بن نجیم مصری: علامہ محقق،فہامہ مدقق، عالم اجل،فاضل اکمل تھے،شیخ شرف الدین بلقینی اور شیخ شہاب الدین شعبی اور شیخ امین الدین بن عبد العال اور ابو الفیض سلمی وغیرہ سے علوم پڑھے اور ان سے افتاء اور تدریس کی اجازت حاصل کی اور اپنے اشیاخ کے حین حیات ہی میں تدریس و افتاء کا کام شروع کر کے بہت لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور شہرت پائی۔شرح کنز ا ور اشباہ والنظائر وغیرہ کتابیں تصنیف کیں جو علمائے حنفیہ کا ماخذ و مرجع ہوئیں،طریقت کا علم شیخ عارف باللہ سلیمان حصیری سے حل کیا،آپ کو حل مشکلات قوم میں بڑا ذوق تھا۔عارف شعرانی کا قول ہے کہ میں نے دس سال آپ کی مصاحبت کی مگر کوئی عیب کی بات آپ میں نہ دیکھی اور ۹۵۳؁ھ میں آپ کے ساتھ حج کیا سو آ پ کو اپنے جیران وغلمان کے حق میں جاتے آتے بڑا خلیق و شفیق پایا حالان۔۔۔

مزید

محمد بن عبدالرشید کرمانی

محمد [1]بن عبد الرشید بن نصر بن محمد بن ابراہیم بن اسحٰق کرمانی:ابو بکر کنیت،رکن الدین لقب تھا۔ائمۂ اجلہ میں سے عواص معانی دقیقہ،فقیہ محدث، علم مذہب و خلاف مین یدطولیٰ اور حسن کلام داسلاف کے نقل فتاویٰ میں دستگاہ کامل رکھتے تھے۔علم رکن الاسلام ابی الفضل عبدالرحمٰن کرمانی تلمیذفخر القضاۃ ارسابندی شاگرد علی مروزی تلمیذ دبوسی سے پڑھا اور نیز جمال الدین مطہر بن حسین یزدی سے اخذ کیا۔عز ر المعانی فی فتاویٰ ابی الفضل کرمانی اور زہرۃ الانوار حدیث میں اور جواہر الفتاویٰ اور حیرۃ الفقہاء وغیرہ کتب تصنیف کیں۔   1۔ حبان علی ’’جواہر المفیہ ‘‘ (مرتب)  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

احمد شہاب بن محمد خفاجی

                احمد شہاب بن محمد خفاجی مصری: فرید العصر وحید الدہر انے زمانہ میں بدر سیمائے عالم اور نیز افق نثر و نظم فاضل متفقہ علیہ تھے۔علوم عربیہ اپنے ماموں ابی بکر شنوانی سے پڑھے اور فقہ کو شیخ الاسلام رملی اور نور الدین علی زیادی اور خاتمۃ الحفاظ  ابراہیم علقمی اور علی بن قائم  مقدسی سے اخذ کیا پھر اپنے والد ماجد کے ساتھ حرمین شریفین میں آئے اور اس جگہ علی بن جاراللہ سے پڑھا پھر قسطنطنیہ کو ارتحال کیا۔حواشی تفسیربیضاوی آٹھ جلد میں،شرح شفاء چار جلد میں،شرح درۃ الغواض حریری،کتاب ریحانہ،رسائل اربعین،حاشیہ شرح فرائض،حواشی رضی،شفاء العلیل فی ما فی کلام العرب من الدخیل،شیعان الادب،طراز المجالس،رسالہ تفسیر آیت وغیرہ کتابیں تصنیف کیں اور ماہ رمضان ۱۰۶۹؁ھ میں وفات پائی،’’فاضل محسن‘‘ آپ کی تاریخ وفات۔۔۔

مزید

زرنوجی

برہان الاسلام زرنوجی: بڑے عالم فاضل،فقیہ محدث،جامع معقولات و منقولات تھے۔فقہ وغیرہ برہان الدین مر غینانی صاحب ہدایہ اور حماد بن ابراہیم صفار اور امام زادہ چوغی سے حاس کی اور کتاب تعلیم المتعلم نہایت نفیس و مفید قلیل الحجم کثیر المنافع تصنیف کی حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

حسن بن عمار

          حسن[1]بن عمار المصری الشرنبلانی: ابو الاخلاص کنیت تھی،اعیان فقہاء اور اعلم فضلاء میں سے مشہور زمانہ اور معتبر فی الفتاویٰ تھے،علم عبداللہ نحریری اور محمد محبی اور علی بن غانم مقدسی سے حاصل کیا اور آپ سے ایک  جماعت مثل سید احمد حموی اور احمد عجمی اور اسمٰعیل نابلسی وغیرہم نے استفادہ کیا۔بہت کتابیں تصنیف  کیں جن میں سے شرح منظومہ ابن وہبان اور درروغرر کے حواشی اور نور الایضاح فقہ میں اور اس کی شرح امداد الفتاح اور اس کا مختصر مراقی الفلاح وغیرہ رسائل ساٹھ سے زیادہ ہیں۔وفات آپ کی ماہِ رمضان ۱۰۶۹؁ھ میں ہوئی،’’مجموعۂ رشادت‘‘ تاریخ وفات ہے،شرنبلانی بضم شین مع رامہملہ وسکون نون وضم باء موحدہ خلاف قیاس شرابلولہ کی طرف منسوب ہے جو مصر کے نواح میں تاجروں کے ایک شہر کا نام ہے۔   [1] ۔ ملا محمود بن شیخ محمد ب۔۔۔

مزید

رکن الدین خوارزمی

رکن الدین والجبانی خوارزمی: امام جلیل القدر کثیر العلم،معرفت اصول دینیہ میں او حد زمانہ اور مذہب و خلاف میں مجتہد یگانہ تھے۔نجم الدین حکیمی شاگرد فخر الدین حسن قاضی خان سے تفقہ کیا ور آپ سے نجم الدین مختار زاہدی صاحب قنیہ نے فقہ کو حاصل کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

شیخ الاسلام حناطی

شیخ الاسلام سدید بن محمد حنافی: علاؤ الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام کبیر اور فقہ و کلام یں رئیس بے نظیر تھے۔علم نجم المشائخ علی بن محمد عمر انی تلمیذ زمخشری سے حاصل کیا اور آپ سے ابو یعقوب یوسف سکاکی اور حسین بن محمد بارعی نے تفقہ کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید