جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

صاحب عقائد نسفی

محمد بن محمد بن محمد ابو الفضل برہان نسفی: اپنے زمانہ کے امام فاضل، مفسر، محدث فقیہ اصولی،متکلم تھے۔۶۰۰؁ھ کے قریب پیدا ہوئے۔علم خلاف میں ایک مقدمہ تصنیف کیا اور علم کلام میں عقائد نسفی نام ایک کتاب لکھی جس کی سعد الدین تفتازانی وغیرہ نے شرحیں لکھیں اور امام فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر کو ملحض کیا اور ماہ ذی الحجہ ۶۸۶؁ھ[1] میں وفات پائی اور امام ابو حنیفہ کے مشہد کے پاس مدفون ہوئے۔’’امام ثقہ‘‘ تاریخ وفات ہے۔وہ جو صاحب کشف الظنون نے عقائد نسفی کو ابی حفص عمر نسفی کی طرف منسوب کیا ہے۔یہ ان کے قلب کا زلہ ہے۔   1۔ ۲۸۴ھ ’’دستور الاعلام‘‘ (مرتب)  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

اخوند ملّا محمد کمال الدین

  اخوند ملّا محمد کمال الدین[1]             اخوند ملّا محمد کمال الدین برادر مولانا محمد جمال الدین: بڑے عالم فاضل شیخ کامل جلال دقائق کشاف حقائق جامع علوم نقلیہ و عقلیہ تھے جس طرح آپ کے بھائی کی جہت تقویٰ کی طرف راجح تھی،اسی طرح آپ کو نسبت علمی غالب تھی اور باوجود اس کے آپ مجموعۂ علم و عمل و زہد و تقویٰ تھے مدت تک سیالکوٹ و لاہور میں مسند تدریس و تلقین پر متمکن رہ کر دور نزدیک کے لوگوں کو علوم ظاہری و باطنی سے مستفیض فرماتے رہے چنانچہ شیخ احمد مجد الف ثانی اور مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی نے علوم ظاہری آپ سے ہی حاصل کر کے کمالیت حاصل کی۔وفات آپ کی ۱۰۱۷؁ھ میں شہر لاہور  میں واقع ہوئی لیکن قبر آپ کی فی زماننا مفقود الخبر ہے۔ ’’حدیقۂ فیض‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ قاضی کمال بن موسیٰ کاشمیری ’’نزہۃ ا۔۔۔

مزید

سید صبغۃ اللہ بروجی  

              سید صبغۃ اللہ بروجی:[1] بڑے عالم فاضل،جامع علوم نقلیہ و عقلیہ تھے، قصبۂ بروج میں جو گجرات کے شہروں میں سے ہے،پیدا ہوئے۔علوم شیخ وجیہ الدین گجراتی سے اخذ کیے،چندے تدریس و ارشاد میں مشتغل رہ کر حرمین وغیرہ کو تشریف لے گئے جہاں سے واپس بروج میں آئے پھر مالودہ کو گئے اور چندے احمد نگر میں سلطان برہان الملک کے پاس اقامت کی پھر حرمین کے ارادہ سے بیجاپور میں پہنچے جہاں سلطان ابراہیم نے آپ کی بری خدمت  کی اور آپ کے سفر کا اسباب تیار کردیا اور آپ مدینہ منورہ میں داخل ہوکر جبلِ احد میں ساکن ہوئے جہاں آپ نے جواہر خمسہ کو معرب کیا جس پر آپ کے شاگرد شیخ احمد شناوی نے حاشیہ لکھا اور شیخ محمد عقلیہ المکی نے کتاب لسان الزمان میں آپ کے حالات نہایت عمدہ لکھے۔وفات آپ کی مدینہ میں ۱۰۱۵؁ھ میں ہوئی۔’’شمع نور سعادت‘&lsquo۔۔۔

مزید

ملّا علی قاری

                علی بن سلطان محمد ہروی  نزیل مکہ المعروف بہ قاری: نور الدین لقب تھا۔ اپنے زمانہ کے وحید العصر،فرید الدہر،محقق،مدقق،منصف مزاج،محدث، فقیہ، جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور متضلع سنتِ نبویہ جماہیر اعلام اور مشاہیر اولی الحفظ والا فہام میں سے تھے خصوصاً آپ کو تحقیقی فقہ وحدیث اور دریافت علوم کلام و معقول میں ید طولیٰ حاسل تھا اور تجریر عبارت عربی میں ایسی طرز خاص رکھتے تھے کہ کئی ایک جزو ایک وضع پر مسجع و مقفی لکھ جاتے تھے۔           ہرات میں پیدا ہوئے اور مکہ معظمہ میں آکر خاتمۃ المحققین احمد بن حجر ہیثمی مکی اور ابی الحسن بکری اور عبداللہ سندی اور قطب الدین[1] مکی سے علم پڑھا اور مشہور زمانہ ہوکر سَن ہزار کے سرے پر درجۂ مجددیت کو پہنچے ۔آپ کے اعتراض امام مالک پر مسئلۂ ارسا۔۔۔

مزید

اخی زادہ

                عبد الحلیم بن محمد المشہور بہ اخی زادہ: دولتِ عثمانیہ کے علمائے کبار میں  سے علم و فضل میں یگانہ تھے،خدا نے آپ کو ذہ نعالی اور ادراک صحیح عطا فرمایا تھا، تصنیفات بھی بہت کیں جن میں سے شرح ہدایہ اور تعلیقات شرح مفتاح اور در روغرر اور الاشباہ والنظائر وغیرہ مشہور و معروف ہیں۔وفات آپ کی ۱۰۱۳؁ھ میں ہوئی۔ ’’فکر مجلس‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد مشق

احمد بن صدر الدین سلیمان بن وھب دمشقی: تقی الدین لقب تھا۔اپنے زمانہ کے امام فاضل،حافظ فنون اور صدر الصدور تھے۔علوم اپنے باپ شاگرد حصیریر تلمیذ قاضی خاں سے حاصل کیے اور ۶۸۵؁ھ میں وفات پائی۔’’گوہر تاباں‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

خواجہ محمد باقی

            خواجہ محمد باقی نقشبندی دہلوی: اپنے وقت کے امام و مقتدائے زمانہ،جامع کمالات ظاہری وباطنی،زاہد متقی،موصوف باوصافِ کریمہ تھے،اوائل میں کامل سے سمر قند میں گئے اوربعد تحصیل علوم فقہ وحدیث اور تفسیر وغیرہ کے خواجہ مگنگی خلیفہ خواجہ عبدی اللہ احرار کے مرید ہوئے اور بعد تحصیل و تکمیل کمالات باطنی کے خرقہ خلافت حاسل کر کے دہلی میں آئے اور تدریس و تلقین خلائق میں مصروف ہوکر صاحب تصانیف و توالیف ہوئے،آپ نہایت کم گود کم خورو کم خواب تھے اور بعد  نماز عشاء کے نماز تہجد تک ہر روز دو مرتبہ قرآن شریف کا ختم کرتے تھے اور بعد نماز تہجد کے فجر تک ۲۱ مرتبہ سورہ یاسین پڑھا کرتے تھے،جب فجر ہوتی تو آپ یہ فرماتے کہ یا الٰہی رات کو کیا ہوا کہ اس جلدی سے گذر گئی اور اس نے کچھ توقف کیا۔           ایک دن ۔۔۔

مزید

مفتی زکریا بن بہرام

                مفتی زکریا بن بہرام:اصل میں شہر انقرہ کے رہنے والے تھے جو قسطنطنیہ میں آکر متوطن ہوئے اور وہیں عرب زادہ عبد الباقی وغیرہ سے مختلف علوم و فنون حاصل کر کے جامع علومِ نقلیہ و عقلیہ ہوئے،حلب وغیرہ کی قضاء آپ کو دی گئی۔ عنایہ اور شرح وقایہ پر حواشی تصنیف کیے اور ۱۰۱۰؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حسام الدین

              حسام الدین: جامع علوم متعددہ،حاوی فنون مختلفہ،صاحبِ تصانیف تھے،مدت تک مدارس اور نہ وغیرہ میں مدرس رہ کر علوم کو نشر کیا اور شرح وقایہ وغیرہ کے حواشی لکھے اور ۱۰۱۰؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

شیخ ابراہیم بن کسبائی

              شیخ ابراہیم بن کسبائی دمشقی: محدث،فقیہ،شیخ القراء تھے شنبہ کی رات ۱۵؍ربیع الثانی ۹۵۴؁ھ کو دمشق میں پیدا ہوئے۔،برہان الدین لقب تھا۔شیخ الاسلام بدر غزی سے دسوں قراءتیں اخذ کیں اور علوم پڑھے اور شام میں شیخ القراء احمد بن بدر طینی وغیرہ سے پرھا اور مصر میں جاکر نجم غیطی وغیرہ سے اخذ کیا۔شعر بھی کہا کرتے تھے،آپ کا مکان جامع اموی میں تھا۔محدث کبیر محمد بن داؤد مقدسی نزیل  دمشق  کی طرف سے آپ تدریس مدرسہ اتابکیہ کے متکفل ہوئے اور عادلیہ کبریٰ میں بھی درس دیا اور مدت تک جامع شیبائی میں خطیب رہے لیکن ادا کرنا خطبہ کا آپ پر مشل ہوتا تھا اور اس میں بڑی طوالت کرتے تھے۔آپ خوش طبع بھی بڑے تھے اور کبھی غفلت بھی آپ پر غالب ہوجاتی تھی۔دوشنبہ کے روز اخیرذی قعدہ ۱۰۰۸؁ھ کو فوت ہوئے اور مقبرہ باب الصغیر میں مدرسہ صابونیہ کے آگے دفن ۔۔۔

مزید