بدھ , 10 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 21 October,2026

منیب عینتابی رومی

                محمد بن محمد عینتابی رومی: فاضل علوم اور فقیہ تھے،اناطولی کے قاضی عسکر رہے۔۱۲۳۴؁ھ میں آیدین میں وفات پائی۔ترجمۃ السیر الکبیر فی الفقہ دو جلدوں میں،تیسیر المسیر فی شرح السیر الکبیر،فضائل جہاد وغیرہ آپ کی تصانیف ہیں۔آپ کے بیٹے مصطفیٰ سعید عینتابی متوفی ۱۲۷۹؁ھ بھی مشہور فقیہ تھے۔کتاب انتخاب الفقہاء چار جلدوں میں آپ کی یادگار ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

تاجی بعلبکی

                محمد ہبۃ اللہ بن محمد بن یحییٰ بن عبد الرحمٰن تاجی بعلبکی: عالم فاضل فقیہ تھے۔بغداد کے قاضی رہے۔۱۲۲۴؁ھ میں قسطنطنیہ میں وفات پائی۔تحقیقی الباہر فے شرح الاشابہ والنظائر لا بن نجیم،سلک القلائد اور مہام المنیہ آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

تاجی بعلبکی

                محمد ہبۃ اللہ بن محمد بن یحییٰ بن عبد الرحمٰن تاجی بعلبکی: عالم فاضل فقیہ تھے۔بغداد کے قاضی رہے۔۱۲۲۴؁ھ میں قسطنطنیہ میں وفات پائی۔تحقیقی الباہر فے شرح الاشابہ والنظائر لا بن نجیم،سلک القلائد اور مہام المنیہ آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

خلیل قونوی

                خلیل بن احمد بن ہمت قونوی: مفسر،مفتی،فقیہ،متکلم اور اصولی تھے۔ مغنیسا شہر کے مفتی تھے،وہیں ذی الحجہ ۱۲۲۴؁ھ میں وفات پائی۔حاشیہ السید لشرح العضد،دیباچہ عقائد نسفیہ،خیالی،شرح قاز آبادی اور بہت سی کتب پر حواشی تحریر فرمائے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

خلیل قونوی

                خلیل بن احمد بن ہمت قونوی: مفسر،مفتی،فقیہ،متکلم اور اصولی تھے۔ مغنیسا شہر کے مفتی تھے،وہیں ذی الحجہ ۱۲۲۴؁ھ میں وفات پائی۔حاشیہ السید لشرح العضد،دیباچہ عقائد نسفیہ،خیالی،شرح قاز آبادی اور بہت سی کتب پر حواشی تحریر فرمائے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

مفتی زادہ ارزنجانی

                محمد صادق بن سید عبد الرحیم (یا عبد الرحمٰن)بن سلیمان بن عبد اللطیف ارزنجانی رومی نزیل قسطنطنیہ عالم،منطقی اور بیانی تھے۔۱۲۲۳؁ھ میں قسطنطنیہ میں وفات پائی،شرح حسینیہ فی الآداب،شرح قطب شمسیہ پر حواشی تحریر کیے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابن بالی

                محمد امین بن علی مدنی معروف بہ ابن بالی: فقیہ اور مفتی تھے۔۱۲۲۰؁ھ میں وفات پائی۔تکملہ شرح عثمان شامی حلی الاشباہ والنظائر،حاشیہ علی منسک الدر المختار اور مجموعۃ الفتاویٰ آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

سنبل مکی

                شیخ محمد طاہر سنبل بن محمد سعید مکی: فقیہ،متکلم،فرضی اور مدرس تھے۔ سنبل مکی کے نام سے مشہور تھے۔۱۲۱۹؁ھ میں وفات پائی۔در مختار کی کتاب دعوےٰ اور شرح عقائد نسفی وغیرہ پر حواشی تحریر کیے۔شرح الاشار اور ضیاء الابصار بھی آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

سنبل مکی

                شیخ محمد طاہر سنبل بن محمد سعید مکی: فقیہ،متکلم،فرضی اور مدرس تھے۔ سنبل مکی کے نام سے مشہور تھے۔۱۲۱۹؁ھ میں وفات پائی۔در مختار کی کتاب دعوےٰ اور شرح عقائد نسفی وغیرہ پر حواشی تحریر کیے۔شرح الاشار اور ضیاء الابصار بھی آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

امیر معصوم بخاری

                شاہ مراد بن دانیال بے: امیر معصوم لقب اور بیگ جان عرف تھا۔ منقیت(یا منغیت) قبیلے سے تعلق تھا،سلطنت بخارا کے حکمران تھے۔سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ سے منسلک بڑے صوفی منش اور درویش صفت انسان تھے۔ شعبان ۱۱۹۹؁ھ میں عنان حکومت سنبھالی۔انہوں نے اپنا آبائی ورثہ لینے سے انکار کردیا اور حکم دیا کہ اسےغرباء میں تقسیم کردیا جائےاور جہاں تک ممکن ہو ان لوگوں کو دیا جائے جن سے یہ جبر اًلیا گیا تھا۔اپنے والد کی زیادتیوں کو تلافی کے لیے شہر میں گھوم کر متأثرہ افراد سے معافی مانگی۔اوائل عمر ہی سے انہیں علماء فقہاء اور صوفیاء کی مجالس پسند تھیں۔اپنے محل میں بھی امیر معصوم شریعت کی پوری پابندی کرتے اور خلفائے راشدین کے نمونے پر اعتدال اور تقوےٰ کی مثال پیش کرنے کی کوشش کرتے۔بادشاہ ہونے کے باوجود انتہائی سادہ اور کم قیمت لباس پہنتے اور خور۔۔۔

مزید