منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

قاضی نظام الدین

                قاضی نظام الدین بن مولانا حاجی محمد فراہی: آپ زہد و تقویٰ اور امردرس و فتویٰ میں اپنے زمانہ کے اکثر علماء سے فائق تھے۔مدت مدید تک مدرسہ اخلاصیہ اور مدرسہ عباسیہ ہرات میں درس و تدریس میں مشغو ل ہے،اخیر کو خاقان منصور نے آپ کو ہرات کا قاضی بنایا اور آپ نے فیصل  قضایا اور فیصل مہمات شر عیہ میں ایسا طریقہ اجتہاد کا معری رکھا کہ قصۂ امانت و دیانت قاضی شریح کا لوگوں کے دلوں سے بھلادیا۔وفات آپ کی ماہ مھرم ۹۰۰؁ھ میں ہوئی۔آپ کے والدماجد بھی اعاظم فقہائے عہد مرزا ابو القاسم بابر سے تھے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حمزہ قرامانی

                حمزہ قرامانی: نور الدین لقب تھا،اپنے ملک کے علماء و فضلاء سے علوم اصولیہ و فروعیہ پڑھ کر یہاں تک فضیلت حاصل کی کہ عالمِ اجل اور فاضل اکمل، مرجع انام ہوئے اور تدریس و افتاء میں اپنی عمر صرف کی۔تفسیر بیضاوی پر تفسیر التفسیر کے نام سے ایسے عمدہ حواشی تصنیف کیے جو مقبول انام ہوئے اور ۸۹۹؁ھ میں انتقال فرمایا،’’کاشف اسرارالٰہ‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حمزہ قرامانی

                حمزہ قرامانی: نور الدین لقب تھا،اپنے ملک کے علماء و فضلاء سے علوم اصولیہ و فروعیہ پڑھ کر یہاں تک فضیلت حاصل کی کہ عالمِ اجل اور فاضل اکمل، مرجع انام ہوئے اور تدریس و افتاء میں اپنی عمر صرف کی۔تفسیر بیضاوی پر تفسیر التفسیر کے نام سے ایسے عمدہ حواشی تصنیف کیے جو مقبول انام ہوئے اور ۸۹۹؁ھ میں انتقال فرمایا،’’کاشف اسرارالٰہ‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

خلیل بن قاسم

           خلیل بن قاسم بن حاجی صفا: آپ کا جدِ اعلیٰ عجم سے فتنہ چینگیز خاں میں بھاگ کر روم میں آیا تھا جو نواح قسطمونی میں آکر ٹھہرا،بڑا صاحبِ کرامات اور مستجاب الدعوات تھا،یہاں اس کے ہاں ایک لڑکا محمود نام پیدا ہوا جس کو عربی اور فقاہت میں کسی قدر لیاقت حاصل ہوئی،اس کا احمد نام ایک لڑکا پیدا ہوا جو فقہ وعربی میں عارف وماہر ہوا۔اس کے ہاں حاجی صفا نام بیٹا ہوا جو بڑا فقیہ عابد صالح تھا اس کے یہاں ایک لڑکا قاسم نام پیدا ہوا جو عین جوانی میں بحالت طالب علمی خلیل نام لڑکا چھوڑ کر مرگیا پس آپ یعنی خلیل پہلے اپنے ملک میں مبانی علوم کے پڑھتے رہے پھر اورنہ میں گئے اور مولیٰ خسرو اور فخر الدین عجمی سے پڑھا پھر شہر بروسا میں یوسف بن شمس الدین محمد فناری مدرس بزوسا کی خدمت میں جاکر استفادہ کیا پھر محمد بن ادمغان کی خدمت میں مشرف ہوئے اور ان سے فضیلت ۔۔۔

مزید

قاضی زادہ رومی  

              قاسم الشہیریہ بہ قاضی زادہ رومی: علوم شرعیہ و عقلیہ  میں معرفتہ تامہ رکھتے تھے اور برے ذکی طبع علم دوست تھے۔لعلوم اپنے باپ قاضی قسطمونی شاگرد خضربیگ سے حاصل کیے اور فضلیت وکمالیت کو پہنچے۔سلطان محمد خاں بن مراد خاں نے آٹھ مدارس میں سے آپ کو ایک کا مدرس مقرر کیا پھر قاضی ہوئے لیکن کچھ مدت بعد مستعفی ہوگئے۔سلطان بایزید خاں بن محمد خا ں نے اپنے عہد میں پھر آپ کو شہر  برسا کا قاضی مقرر کیا اور قضاء کی حالت میں ۳؍ماہ رمضان ۸۹۹؁ھ کو وفات پائی۔’’یکتائے بے ہمتار‘‘ تاریخ فات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

علی عربی

                علی عربی: علاء الدین لقب تھا،علوم شرعیہ و عقلیہ کے جامع اور تفسیر و حدیث و اصول میں بڑے ماہر تھے چنانچہ کتاب تلویح آپ کو نوک زبان تھی۔ اصل میں آپ حلب  کے رہنے والے تھے اور وہیں پیدا ہوئے اور مختلف علوم حاصل کیے پھر بروسا میں گئے اور اسمٰعیل کورانی سے مدت تک پڑھتے رہے پھر خضر بیگ بن جلال الدین رومی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے استفادہ کیا پھر بروسا و منعینسا اور قسطنطیہ کے مدارس میں مدرس مقرر رہے،آخر بحالت مفتی قسطنطیہ کے ۸۹۳؁ھ میں وفات پائی۔’’علامۂ مذہب‘‘ تاریخ وفات ہے۔           آپ کی کرامات بہت ہیں اور تصنیفات سے حواشی شرح عقائد اور حواشی مقدمات اربعہ توضیح یادگار ہیں کہتے ہیں کہ پہلے پہل آپ نے ہی مقدمات اربعہ توضیح پر حواشی لکھے پھر مول۔۔۔

مزید

معین الدین اجمیری

حضرت مولانا معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (شارح ترمذی، بانی دارالعلوم معینیہ عثمانیہ)۔۔۔

مزید

 عبد الکریم صباغی مدینی

          عبدالکریم بن محمد بن احمد بن علی صباغی مدینی: ابو المکارم کنیت اور رکن الائمہ لقب تھا۔اپنے زمانہ کے امام کبیر فقیہ بے نظیر اور مختلف علوم میں مشارکت نامہ رکھتے تھے۔فقہ ابو الیسر محمد بزدوی سے حاصل کی اور آپ سے ایک جماعت فقہاء نے جن میں سےہ نجم الدین مختار زاہدی صاحب قنیہ ہیں،تفقہ کیا۔آپ نے مختصر قدوری وغیرہ کی شرحیں تصنیف کیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمدوبری خوارزمی

          محمد بن ابی بکر المعروف بحمیر الوبری [1]خوارزمی: بڑے عالم فاضل،مناظر متکلم اور زین الائمہ لقب رکھتے تھے،فقہ ابی بکر محمد بن علی زرنجری شاگرد حلوائی سے پڑھی اور کتاب الاضاحی تصنیف کی،چونکہ آپ اونٹ کی پشم کا کام کیا کرتے تھے اور عربی میں اونٹ کی پشم کو وبر کہتے ہیں اس لیے  لوگ آپ کو وبری کہا کرتے تھے۔   1۔ حمیر وفات صدود ۵۱۰ھ’’ہدیۃ العارفین‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)   ۔۔۔

مزید

محمود او زجندی  

            محمود بن عبد العزیز اوزجندی: شمس الائمہ لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ کامل،جامع علوم عقلیہ و نقلیہ اور قاضی خاں کے جد امجد تھے،فقہ وغیر سرخسی سے پڑھی۔ (حدائق الحنفیہ)  ۔۔۔

مزید