منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

مطہر بزدوی  

           مطہر بن حسین بن سعد بن علی بن بندا یزدی: ابو سعد کنیت جمال الدین لقب اور قاضی القضاۃ خطاب تھا،عالم جلیل القدر فاضل کبیر المحل یگانۂ زمانہ خاندان علم میں سے تھے۔آپ کے آباء واجداد سب ائمۂ دہر تھے۔جامع صغیر جس کو زعفرانی نے م رتب کیا ہے اس کی شرح تہذیب نام تصنیف کی اور امام طحطاوی کی مشکل الآثار کو ملخص کیا اور ابو اللیث کی نوادر کو مختصر کیا اور ایک فتاویٰ اور مختصر قدوری کی شرح نام تصنیف کی۔رکن الدین محمد بن عبدالرشید کرمانی صاحب جواہر الفتاویٰ نے آپ سے اخذ کیا۔سیوطی نے حسن المحاضرہ میں لکھا ہے کہ آپ کے ما تحت بارہ مدارس تھے جن میں بارہ سو طالب علم پڑھا کرتے تھے۔مقام قدم میں آکر ۵۹۱؁ھ میں وفات پائی اور آپ کا جنازہ مصر کو اٹھا کر لے گئے۔’’علامہ پرہیز گار‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

صاحب فتاویٰ دیناری

           عبد الکریم بن یوسف بن محمد بن عباس دیناری: قصبۂ دینار میں جو ملک عراق عجم میں شہر استر آباد کے پاس واقع ہے،رہا کرتے تھے۔ابو نصر کنیت اور علاءالدین لقب تھا،بڑے فقیہ حاوی فروع واصول تھے،۵۱۷؁ھ میں پیدا ہوئے اور ۵۹۰؁ھ میں وفات پائی اور ایک فتاویٰ دیناری نا تصنیف فرمایا۔ابن النجار سے روایت ہے کہ ہم نے آپ کا زمانہ پایا ہے مگر ملاقات کرنے کا اتفاق نہ ہوا اور ہمارے اصحاب نے آپ سے سماع کیا ہے۔’’ماہ عالمتاب‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد صابونی

           احمد بن محمود[1]بن ابی بکر صابونی: بڑے عالم فاضل اور فقیہ کامل تھے۔ نورالدین لقب تھا اور صابون بنایا کرتے تھے۔اصول دین میں کتاب ہدایہ و کفایہ تصنیف کیں۔علم کلام میں بھی آپ نے ایک کتاب ہدایہ نام لکھی پھر اس کو مختصر کر کےہدایہ نام رکھا۔آپ سےشمس الائمہ محمد کردری نے فقہ پڑھی،آپ شیخ رشیدالدین سےمسئلہ ’’المعدوم لیس بمرئی‘‘ میں بڑا مناظرہ ہوا جس کو مفید سمجھ کر حافظ الدین نسفی نے اپنی کتاب اعتماد میں مفصل لکھا ہے۔بخارا میں ۶؍تاریخ ماہِ صفر ۵۹۰؁ھ کو فوت ہوئے،اور مقبرہ قضاۃ السبعۃ‘‘ میں دفن کئے گئے۔   1۔ احمد بن صابوتی متوفی ۵۰۸؁ھ (کشف الظنون)احمد بن محمود بن بکر متوفی ۵۸۰؁ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابو بکر کاسانی

          ابو بکر بن مسعود بن احمد کاسانی: علاؤالدین اور ملک العلماء کے لقب سے ملقب تھے علم علاؤ الدین محمد سمر قندی مصنف تحفۃ الفقہاء او ابی المعین م یمون مکحولی اور مجد الائمہ سرخکی سے اخذ کیا۔کتاب بدائع فی شرح تحفۃالفقہاء اور کتاب السلطان المبین فی اصول الدین[1]بہت عمدہ تصنیف فرمائیں اور آپ سے آپ کے بیٹے محمود بن ابو بکر اور احمد بن محمود مصنف مقدمہ غزنویہ نے تفقہ کیا کہتے ہیں کہ جب آپ نے محمد بن احمد سمر قندی کی ملازمت کی اور ان سے ان کی معظم تصانیف تحفۃ الفقہاء کو پڑھا اور اس کی شرح بدانع نام سے تصنیف کی تو محمد سمر قندی نے نہایت خوش ہوکر اپنی بیٹی فاطمہ سے (جو نہایت شکیلہ و عقیلہ اور کتاب تحفۃ الفقہاء کی حافظ تھیں اور روم کے بادشاہ اس کے خواستگار تھے) ان کی شادی کردی اور مہر کے عوض شرح مذکور کو گردانا۔آپ اکثر فتووں میں خطا کر جاتے تھے جب آ۔۔۔

مزید

عماد الدین زرنجری

          عماد الدین بن شمس [1]الائمہ بکر بن محمد بن علی زرنجری: اپنے باپ کی طرح آپ بھی شمس الائمہ لقب رکھتے تھے،بڑے عالم فاضل اپنے وقت کےن عمان ثانی تھے،علوم اپنے والد بکر زرنجری شاگرد حلوائی سے پڑھے اور انہیں سےسب سے آخر روایت کی اور آپ سے جمال الدین عبید اللہ بن ابراہیم محبوبی اور شمس الائمہ بکر بن عبد الستار اکردری نے تفقہ کیا نوّے برس کے ہوکر ۵۸۴؁ھ میں فوت ہوئے۔   1۔ عمر نام اور عماد الدین لقب تھا دستو الاعلام  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

  صاحب فتاویٰ عتابیہ

            احمد بن محمد عمر عتابی: ابو نصر کنیت اور زاہد الدین[1]لقب تھا بخارا کے محلہ عتابی میں رہتے تھے،دینی علوم میں علمائے زاہدین میں سے بڑے متجر او فاضل تھے، اطراف واکناف سے کثرت سے طلباء آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور استفادہ کرتے تھے،آپ نے زیادات کی شرح نہایت عمدہ تصنیف کی اور یہاں تک اس میں تحقیق و تدقیق کو کام فرمایا کہ علماء نے اس کے بے نظیر ہونے کا اقرار کیا،علاوہ اس کے جامع کبیر کی شرحیں لکھیں اور جوامع الفقہ معروف بہ فتاویٰ عتابیہ تصنیف کیا اور قرآن شریف کی تفسیر تصنیف کی۔۵۸۲؁ھ یا بقول بعض ۵۸۶؁ھ میں وفات پائی ’’علامہ مرجع الانام‘‘ اور ’’تاج آفاق‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ زین الدین ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عالی غزنوی

          عالی بن ابراہیم بن اسمٰعیل غزنوی: کنیت ابو علی اور ناصر الدین لقب تھا، جواہر المضیہ میں آپ کو غالب[1]نام سے ذکر کیا گیا ہے۔آپ فنون تفسیر اور فقہ وجدل واصول میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔چنانچہ ایک تفسیر قرآن شریف کی تفسیر التفسیر نام تصنیف کی اور فقہ میں مشارع نام ایک کتاب تصنیف فرما کر خود ہی اس کی شرح منابع نام لکھی اور ۵۸۲؁ھ میں وفات پائی۔’’شیر یزداں‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ غالی  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

بقالی

    محمد بن ابی القاسم خوارزمی نحومی المعروف بہ بقالی: امام فاضل فقیہ مناظر محدث کامل،ادیب شاعر ،منشی ماہر معانی دبیان،عربیزبان کی حجت تھے زین المشائخ لقب تھا اور بڑے حسن الاعتقاد کریم النفس جم الفوائد تھے۔علوم علامہ جار اللہ زمخشری سے پڑھے اور حدیث کو ان سے اور دیگر محدثین سے سنا اور بعد وفات جا راللہ کے ان کے جانشین ہوئے اور کچھ اوپر نوّے سال کی عمر میں شہر جر جانیہ میں ۵۷۶؁ھ کو وفات پائی۔چونکہ آپ آٹادانہ وغیرہ کی تجاری کرتے تھے اس لیے بقالی کے عمل سے نامزد ہوئے۔تصانیف آپ کی یہ ہین: فتاوےجمع التفاریق کتاب التفسیر کتاب التراجم بلسان الاعاجم شرح اسماء الحسنیٰ،مفتاح التنزیل،کتاب الترغیب فی العلم،کتاب اذکار الصلوٰۃ کتاب آفات الکذب،کتاب الہدایہ فی المعانی والبیان البینہ علیٰ اعجاز القرآن تقویم اللسان فی النحو الاعاجب فے الاعراب وغیر ذلک۔’’رہنمائے راہ دین‘‘ تا۔۔۔

مزید

امام زادہ چوغی

          محمد بن ابی بکر المعروف بہ امام زادۂ چوغی: امام فاضل ادیب کامل،صاحب البیان فصیح اللسان،واسع التقریر،کامل التحریر،واعظ،صوفی،متی بخارا تھے۔رکن الاسلام لقب تھا،فقہ مجد الائمہ محمد بن عبداللہ سر خکستی اور شمس الائمہ بکر بن محمد زرنجری سے پڑھی اور علم خلاف کا رضی الدین نیشا پوری سے حاصل کیا اور تصوف کو خواجہ یوسف ہمدانی سے اخذ کیا اور آپ سے برہان الاسلام زر نوجی صاحب تعلیم المتعلم اور عبید اللہ بن ابراہیم محبوبی اور محمد بن عبدالستار کردری نے فقہ پڑھی،بخارا میں سمعانی شافعی نے آپ سے روایت کو لکھا۔آپ کی تصانیف سے فقہ میں کتاب شرعۃ الاسلام اور تصوف میں کتاب آداب الصوفیہ مشہور و معروف ہیں لیکن شرعۃ الاسلام میں اکثر احادیث مختلفہ اور اخبار واہیہ منکرہ داخل ہیں۔           صاحب جواہر مضیہ نے کہا ہے کہ ۔۔۔

مزید

محمد سجستانی

          محمد بن محمود سجستانی: فخر الدین لقب تھا،اپنے وقت کے امام فاضل عالم کامل،جامع فروع واصول اور مفتی سجستان تھے۔۵۷۰؁ھ کے بعد محمد بن ابی المفاخر عبدالرشید کرمانی معاصرین میں سے ہوکر فوت ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید