یوسف بن حسین بن عبداللہ[1]حلبی المعروف بہ بدر ابیض: بڑے عالم فاضل وحید دہر فرید عصر تھے،۵۲۱ھ میں پیدا ہوئے اوعر علم علی بن حسن المعروف بہ برہان بلخی سے اخذ کیا اور دمشق میں ۵۹۲میں وفات پائی۔ 1۔ یوسف بن خضر بن عبداللہ۔قاضی شیر رویاتی’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
حسن بن منصور بن محمود اوز جندی فرغانی المعروف بہ قاضی خان: فخرالدین لقب اور ابو المفاخر وابو المحاسن کنیتیں تھیں،شہر اور جند کے جو نواح اصفہان میں فرغانہ کے پاس واقع ہے،رہنے والے تھے اپنے زمانہ کے امام کبیر اور مجتہد بے نظیر تھے،معانی دقیقہ کے غواص اور فروع واصول میں بحر عمیق تھے،مولیٰ علامہ احمد بن کمال پاشا نے آپ کو طبقۂ مجتہدین فی المسائل میں معدود کیا ہے،اپنے دادا محمود بن عبدالعزیزاور جندی اور ظہیر الدین حسن بن علی مرغینانی شاگردان امام سرخسی سے علم حاصل کیا اور نیز ابی اسحٰق بن ابراہیم بن اسمٰعیل بن ابی نسر سے تفقہ کیا اور آپ سے جمال الدین ابو المحامد محمود حصیری اور شمس الائمہ محمد کردری اور نجم الائمہ اور نجم الدین یوسف خاصی وغیرہ نے تفقہ کیا۔تصنیفات بھی آپ نے نہایت بر جستہ کیں چنانچہ فتاویٰ قاضی خان ایک ایسی معتبر کتاب چار جلدوں میں تصنیف کی جو م۔۔۔
مزید
مطہر بن حسین بن سعد بن علی بن بندا یزدی: ابو سعد کنیت جمال الدین لقب اور قاضی القضاۃ خطاب تھا،عالم جلیل القدر فاضل کبیر المحل یگانۂ زمانہ خاندان علم میں سے تھے۔آپ کے آباء واجداد سب ائمۂ دہر تھے۔جامع صغیر جس کو زعفرانی نے م رتب کیا ہے اس کی شرح تہذیب نام تصنیف کی اور امام طحطاوی کی مشکل الآثار کو ملخص کیا اور ابو اللیث کی نوادر کو مختصر کیا اور ایک فتاویٰ اور مختصر قدوری کی شرح نام تصنیف کی۔رکن الدین محمد بن عبدالرشید کرمانی صاحب جواہر الفتاویٰ نے آپ سے اخذ کیا۔سیوطی نے حسن المحاضرہ میں لکھا ہے کہ آپ کے ما تحت بارہ مدارس تھے جن میں بارہ سو طالب علم پڑھا کرتے تھے۔مقام قدم میں آکر ۵۹۱ھ میں وفات پائی اور آپ کا جنازہ مصر کو اٹھا کر لے گئے۔’’علامہ پرہیز گار‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبد الکریم بن یوسف بن محمد بن عباس دیناری: قصبۂ دینار میں جو ملک عراق عجم میں شہر استر آباد کے پاس واقع ہے،رہا کرتے تھے۔ابو نصر کنیت اور علاءالدین لقب تھا،بڑے فقیہ حاوی فروع واصول تھے،۵۱۷ھ میں پیدا ہوئے اور ۵۹۰ھ میں وفات پائی اور ایک فتاویٰ دیناری نا تصنیف فرمایا۔ابن النجار سے روایت ہے کہ ہم نے آپ کا زمانہ پایا ہے مگر ملاقات کرنے کا اتفاق نہ ہوا اور ہمارے اصحاب نے آپ سے سماع کیا ہے۔’’ماہ عالمتاب‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن محمود[1]بن ابی بکر صابونی: بڑے عالم فاضل اور فقیہ کامل تھے۔ نورالدین لقب تھا اور صابون بنایا کرتے تھے۔اصول دین میں کتاب ہدایہ و کفایہ تصنیف کیں۔علم کلام میں بھی آپ نے ایک کتاب ہدایہ نام لکھی پھر اس کو مختصر کر کےہدایہ نام رکھا۔آپ سےشمس الائمہ محمد کردری نے فقہ پڑھی،آپ شیخ رشیدالدین سےمسئلہ ’’المعدوم لیس بمرئی‘‘ میں بڑا مناظرہ ہوا جس کو مفید سمجھ کر حافظ الدین نسفی نے اپنی کتاب اعتماد میں مفصل لکھا ہے۔بخارا میں ۶؍تاریخ ماہِ صفر ۵۹۰ھ کو فوت ہوئے،اور مقبرہ قضاۃ السبعۃ‘‘ میں دفن کئے گئے۔ 1۔ احمد بن صابوتی متوفی ۵۰۸ھ (کشف الظنون)احمد بن محمود بن بکر متوفی ۵۸۰ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
ابو بکر بن مسعود بن احمد کاسانی: علاؤالدین اور ملک العلماء کے لقب سے ملقب تھے علم علاؤ الدین محمد سمر قندی مصنف تحفۃ الفقہاء او ابی المعین م یمون مکحولی اور مجد الائمہ سرخکی سے اخذ کیا۔کتاب بدائع فی شرح تحفۃالفقہاء اور کتاب السلطان المبین فی اصول الدین[1]بہت عمدہ تصنیف فرمائیں اور آپ سے آپ کے بیٹے محمود بن ابو بکر اور احمد بن محمود مصنف مقدمہ غزنویہ نے تفقہ کیا کہتے ہیں کہ جب آپ نے محمد بن احمد سمر قندی کی ملازمت کی اور ان سے ان کی معظم تصانیف تحفۃ الفقہاء کو پڑھا اور اس کی شرح بدانع نام سے تصنیف کی تو محمد سمر قندی نے نہایت خوش ہوکر اپنی بیٹی فاطمہ سے (جو نہایت شکیلہ و عقیلہ اور کتاب تحفۃ الفقہاء کی حافظ تھیں اور روم کے بادشاہ اس کے خواستگار تھے) ان کی شادی کردی اور مہر کے عوض شرح مذکور کو گردانا۔آپ اکثر فتووں میں خطا کر جاتے تھے جب آ۔۔۔
مزید
عماد الدین بن شمس [1]الائمہ بکر بن محمد بن علی زرنجری: اپنے باپ کی طرح آپ بھی شمس الائمہ لقب رکھتے تھے،بڑے عالم فاضل اپنے وقت کےن عمان ثانی تھے،علوم اپنے والد بکر زرنجری شاگرد حلوائی سے پڑھے اور انہیں سےسب سے آخر روایت کی اور آپ سے جمال الدین عبید اللہ بن ابراہیم محبوبی اور شمس الائمہ بکر بن عبد الستار اکردری نے تفقہ کیا نوّے برس کے ہوکر ۵۸۴ھ میں فوت ہوئے۔ 1۔ عمر نام اور عماد الدین لقب تھا دستو الاعلام (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن محمد عمر عتابی: ابو نصر کنیت اور زاہد الدین[1]لقب تھا بخارا کے محلہ عتابی میں رہتے تھے،دینی علوم میں علمائے زاہدین میں سے بڑے متجر او فاضل تھے، اطراف واکناف سے کثرت سے طلباء آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور استفادہ کرتے تھے،آپ نے زیادات کی شرح نہایت عمدہ تصنیف کی اور یہاں تک اس میں تحقیق و تدقیق کو کام فرمایا کہ علماء نے اس کے بے نظیر ہونے کا اقرار کیا،علاوہ اس کے جامع کبیر کی شرحیں لکھیں اور جوامع الفقہ معروف بہ فتاویٰ عتابیہ تصنیف کیا اور قرآن شریف کی تفسیر تصنیف کی۔۵۸۲ھ یا بقول بعض ۵۸۶ھ میں وفات پائی ’’علامہ مرجع الانام‘‘ اور ’’تاج آفاق‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ زین الدین ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عالی بن ابراہیم بن اسمٰعیل غزنوی: کنیت ابو علی اور ناصر الدین لقب تھا، جواہر المضیہ میں آپ کو غالب[1]نام سے ذکر کیا گیا ہے۔آپ فنون تفسیر اور فقہ وجدل واصول میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔چنانچہ ایک تفسیر قرآن شریف کی تفسیر التفسیر نام تصنیف کی اور فقہ میں مشارع نام ایک کتاب تصنیف فرما کر خود ہی اس کی شرح منابع نام لکھی اور ۵۸۲ھ میں وفات پائی۔’’شیر یزداں‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ غالی (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن ابی القاسم خوارزمی نحومی المعروف بہ بقالی: امام فاضل فقیہ مناظر محدث کامل،ادیب شاعر ،منشی ماہر معانی دبیان،عربیزبان کی حجت تھے زین المشائخ لقب تھا اور بڑے حسن الاعتقاد کریم النفس جم الفوائد تھے۔علوم علامہ جار اللہ زمخشری سے پڑھے اور حدیث کو ان سے اور دیگر محدثین سے سنا اور بعد وفات جا راللہ کے ان کے جانشین ہوئے اور کچھ اوپر نوّے سال کی عمر میں شہر جر جانیہ میں ۵۷۶ھ کو وفات پائی۔چونکہ آپ آٹادانہ وغیرہ کی تجاری کرتے تھے اس لیے بقالی کے عمل سے نامزد ہوئے۔تصانیف آپ کی یہ ہین: فتاوےجمع التفاریق کتاب التفسیر کتاب التراجم بلسان الاعاجم شرح اسماء الحسنیٰ،مفتاح التنزیل،کتاب الترغیب فی العلم،کتاب اذکار الصلوٰۃ کتاب آفات الکذب،کتاب الہدایہ فی المعانی والبیان البینہ علیٰ اعجاز القرآن تقویم اللسان فی النحو الاعاجب فے الاعراب وغیر ذلک۔’’رہنمائے راہ دین‘‘ تا۔۔۔
مزید