بن برھ بن نہثل المجاشعی: ابن شاہین نے انھیں صحابی میں شمار کیا ہے۔ ابو معشر نجیح نے یزید بن رومان اور محمد بن کعب القرظی سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ مالک بن برھ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ کیا میں اپنے قبیلے کا بہترین فرد نہیں ہوں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تم میں عقل ہے، تو بلاشبہ یہ خوبی وجہ فضیلت ہوگی، اگر تم میں اخلاق فاضلہ پائے جاتے ہوں، تو با مروت ہو گے اور اگر تم مالدار ہو تو با حیثیت شمار ہوگے اور اگر تم دین دار ہو تو متقی اور پرہیزگار ہوگے۔ اک روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم متقی ہو تو لازماً دین دار ہوگے۔ ایک اور روایت کے مطابق جناب مالک رضی اللہ عنہ کے سلسلہ نسب میں کچھ اختلاف ہے! مالک بن عمرو بن مالک بن برھ۔ یعنی سلسلۂ نسب میں بعض نام رہ گئے ہیں۔ جس کا ذکر آتا ہے۔۔۔۔
مزید
بن اوس بن عتیک بن عمرو بن عبدالاعلم بن عامر بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس الانصاری الاوسی۔ زعوراء عبدالاشہل کا بھائی تھا اور یہ دونوں مدینے کے پاس ایک ٹیلے پر رہتے تھے۔ جناب مالک غزوۂ احد، خندق اور بعد کے غزوات میں شریک رہے تھے۔ بعد میں دونوں بھائی جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ ابوعمر نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
عافیت بن یزید بن قیس۱ الا زدی کوفی : امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے آپ بڑے فقیہ دانااور محدث صدوق تھے یہاں تک کہ امام موصوف آپ کے وجود سے بڑےنازاں تھے اور آپ کی تعظیم و تکریم میں بڑا مبالغہ کیا کرتےتھے اور جب تک آپ سے مشورہ نہ لیتے کوئی بات اپنی کتابوں میں ملحق نہ کرتے اور اپنے اصحاب کو حکم دیتے کہ اب اس مسئلہ کو لکھ لو ۔ آپ نے امام اعمش اور ہشام بن عروہ سے بھی حدیث کی روایت کی،مدت تک کوفہ میں قاضی مقرر ہے اور ۱۸۰ھ میں وفات پائی ۔نسائی نے آپ سے تخریج کی ۔’’امام زماں‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ ۱ اودی ۲ سعد بن عینہ ’’جواہر مضیہ ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
شریک بن عبد اللہ کوفی۔کنیت آپ کی ابو عبد اللہ تھی اور ان علمائے کرام میں سے تھےجنہوں نے ابو حنیفہ کی صحبت اختیار کی اور ان سے روایت کی ، امام موصوف آپ کو کثیر العقل سے موصوف کیا کرتےتھے ۔آپ نے امام اعمش اور ابن شیبہ سے بھی حدیث کو سنا اور آپ سے عبد اللہ بن مبارک اور یحٰی سعید نے روایت کی۔ تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ آپ اور اہل ہوا اور بدعت پر بڑے سخت گیر تھے۔ جب کوفہ کی قضا کے متولی ہوئے تو آپ کا حافظ متغیر ہو گیا اور اکثر خطا کرنے لگے ۔وفات آپ کی ۱۷۷ھ یا ۱۷۸ھ میں ہوئی اور امام مسلم و ابو داؤد ترمذی و نسائی دابن ماجہ نے اپنی اپنی سنن میں آپ سے تخریج کی ۔’’کوہ علوم ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن حسین: منہاج الشریعہ لقب تھا،اپنے وقت کے امام ائمہ علی الاطلاق تھے۔صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ میں نے آپ جیسا عزت و کثرت علم وفضل و برکت میں کوئی نہیں دیکھ اور ایسے کسی شخص نے آپ سے تلمذ نہیں کیا جو اپنے اقران پر غالب نہیں آیا اوریگانۂ زماں نہیں ہوا۔ میں نے بھی آپ سے ابتداء اور نو جوانی میں پڑھا اور ہمیشہ آپ کے بحر علم سے چلواٹھاتا اور آپہ کے انوار سے اقتباس کرتا رہا یہاں تک کہ ۵۳۵ھ میں وفات پائی۔’’عالم نامور زمن‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
سید ابراہیم: آپ کے والد ماجد سادات عجم اور اولیاء اللہ میں سے تھے جو اپنا وطن چھوڑ کر شہر اماسیہ علاقۂ روم میں سکونت پذیر ہوئے اور اسی جگہ سید ابراہیم پیدا ہوئے۔جب آپ نے ہوش سنبھالاتو پہلے سنان الدین پھر حسن بن عبد الصمد سامسونی سے علم تحصیل کیا اور مدارس مزریفون اور حصا رو قسطنطنیہ میں مدرس مقرر ہوئے پھر سلطان با یزید خان نے آپ کو مدرسہ اماسیہ کا مدرس بنایا اور وہاں کا مفتی قرار دیا۔آپ بڑے پرہیز گار اور دیانتدار تھے،کبھی کسی نے آپ کو کروٹ پر سویا ہوا نہیں دیکھا۔جب آپ کو نیند غلبہ کرتی تو آپ گھٹنوں پر سر رکھ کر سوجایا کرتے تھے اور آپ کا خط بہت نمکین تھا اس لیے آپنے اپنے ہاتھ سے بہت سی کتابیں لکھیں اور نوے برس سے کچھ اوپر ہوکر ۵۳۵ھ میں انتقال کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
علی بن محمد بن اسمٰعیل بن علی بن احمد بن محمد بن اسحٰق سمر قندی اپیجابی : ۶ماہ جمادی الاولیٰ ۴۵۴ھ میں پیدا ہوئے،امام فاضل عالم کامل تھے۔آپ کے زمانہ میں معفت اور حفظ مذہب امام ابو حنیفہ میں آپ جیسا کوئی نہ تھا شیخ الاسلام سے مشہور تھے،مدت تک آپ نشر علم میں مصروف رہے اور آپ سے ایک جماعت نے مثل علی بن ابی بکر صاحب ہدایہ وغیرہ تفقہ کیا۔مختصر طحاوی اور کتاب مبسوط کی شرحیں لکھیں اور سمر قند میں ۵۳۵ھ میں وفات پائی۔تاریخ وفات آپ کی ’’سعدن صدق وصفا‘‘ ہے۔اسپیجاب کے ہے جو درمیان تاشکند اور سرام کے واقع ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن ہبتہ اللہ بن [1]احمد بن یحییٰ عقیل حلبی: بڑے فقیہ زاہد تھے،۴۸۸ھ میں حلب کے قاضی ہوئے اور ۵۳۴ھ میں وفات پائی۔ 1۔ ابن حدیم عقیلی ابو حاکم کنیت تھی ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
عبد العزیز عثمان [1]بن ابراہیم بن محمد بن ابی بکر محمد نسفی: بخارا میں اپنے وقت کے امام اور مرجع امام تھے،قضاء وافتاء کا کام آپ ہی کے سپرد تھا۔فقہ برہان الدین کبیر عبد العزیز تلمیذ سرخسی سےحاصل کی اور حدیث کو نیشا پور میں ابا الحسن نصر بن امام حسن مر غینانی سے سنا اور بڑی عمر پائی یہاں تک کہ آپ کے ہم عمر لوگ سب مرگئے تھے۔کتاب المنقدمن الزلل مسئال الجدل اور کفایۃ الفحول فی الاصول اور الاصول اور الفصول فی الفتاویٰ او ر تعلیق اللاف چار جلد میں تصنیف فرمائیں اور ۵۳۳ھ میں حلب کے قاضی ہوئے اور ۵۳۴ھ میں وفات پائی۔ 1۔ ایک ہی شخص کے حالات غلطی سے لکھ دئےگئے ہیں (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید