بدھ , 12 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 29 April,2026

برہان الائمّہ عبد العزیز بن عمر بن مازہ

عبدالعزیز بن عمر بن مازہ: اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ کامل تھے،ابو محمد کنیت تھی،برہان الائمہ اور برہان الالدین کبیر اور صدر الماضی اور صدر الکبیر آپ کے لقب تھے،ان لقبوں سے ملقب ہونے کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ ۴۹۵؁ھ میں سلطان سنجر بن ملک شاہ سلجوقی نے آپ کو بخارا کی طرف کسی مہم کے لیے بھیجا تھا اور اس مہم کانام صدر رکھا تھا اس لیے صدر کے لقب سے مشہور ہوئے۔علوم آپ نے امام سر خستی تلمیذ حلوائی سے اخذ کیے اور آپ سے آپ کے دونوں بیٹوں صدر السعید تاج الدین احمد و صدر الشہید حسام الدین عمراور ظہیر الدین کبیر علی بن عبدالعزیز مر غینانی وگیرہ نے تفقہ کیا۔برہان الاسلام زرنوجی نے کتاب تعلیم المتعلم میں اپنے شیخ صاحب ہدایہ سے حکایت کی ہے کہ عبدالعزیز بن عمر نے اپنے دونوں بیٹوں مذکورہ بالا کا سبق سب طلباء سے پیچھے دوپہر کے وقت مقرر کیا تھا جس پر وہ دونوں شکایت کیا کرتے تھے کہ اس وقت ہماری طبیعتیں سست ۔۔۔

مزید

اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری

امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمہ اللہ تعالیٰ اسمِ گرامی:آپ کا نام عبد الغفور تھا۔ تاریخِ ولادت: مولانا اخوند عبد الغفور صاحب 1184ھ/1770ء میں پیدا ہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ کو ابتداء ہی سے دینی تعلیم کا اشتیاق تھا چنانچہ ابتدائی کتب اپنے علاقہ کے علماء سے پڑھیں ، بعد ازاں پشاور کے مشہور زمانہ فاضل حضرت مولانا حافظ محمد عظیم پشاری رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر تقریباً چار برس میں تمام کتبِ متداولہ کی تحصیل و تکمیل کی سند فراغت حاصل کی۔ بیعت وخلافت: شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد شیعب حمۃ اللہ علیہ ساکن تورڈھیری کے دست اقدس پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔اور سلاسل اربعہ میں ماذون و مجاز ہوئے۔  سیرت وخصائص: امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمہ اللہ تعالیٰ صاحبِ تقو۔۔۔

مزید

محمد طفیل

۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن برھ بن نہثل المجاشعی: ابن شاہین نے انھیں صحابی میں شمار کیا ہے۔ ابو معشر نجیح نے یزید بن رومان اور محمد بن کعب القرظی سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ مالک بن برھ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ کیا میں اپنے قبیلے کا بہترین فرد نہیں ہوں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تم میں عقل ہے، تو بلاشبہ یہ خوبی وجہ فضیلت ہوگی، اگر تم میں اخلاق فاضلہ پائے جاتے ہوں، تو با مروت ہو گے اور اگر تم مالدار ہو تو با حیثیت شمار ہوگے اور اگر تم دین دار ہو تو متقی اور پرہیزگار ہوگے۔ اک روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم متقی ہو تو لازماً دین دار ہوگے۔ ایک اور روایت کے مطابق جناب مالک رضی اللہ عنہ کے سلسلہ نسب میں کچھ اختلاف ہے! مالک بن عمرو بن مالک بن برھ۔ یعنی سلسلۂ نسب میں بعض نام رہ گئے ہیں۔ جس کا ذکر آتا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن اوس بن عتیک بن عمرو بن عبدالاعلم بن عامر بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس الانصاری الاوسی۔ زعوراء عبدالاشہل کا بھائی تھا اور یہ دونوں مدینے کے پاس ایک ٹیلے پر رہتے تھے۔ جناب مالک غزوۂ احد، خندق اور بعد کے غزوات  میں شریک رہے تھے۔ بعد میں دونوں بھائی جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ ابوعمر نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

امام عافیت

              عافیت بن یزید بن قیس۱  الا زدی کوفی : امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے آپ بڑے فقیہ دانااور محدث صدوق تھے یہاں تک کہ امام موصوف آپ کے وجود سے بڑےنازاں تھے اور آپ کی تعظیم و تکریم میں بڑا مبالغہ کیا کرتےتھے اور جب تک آپ سے مشورہ نہ لیتے کوئی بات اپنی کتابوں میں ملحق نہ کرتے اور اپنے  اصحاب کو حکم دیتے کہ اب اس مسئلہ کو لکھ لو ۔ آپ نے امام اعمش اور ہشام بن عروہ سے بھی حدیث کی روایت کی،مدت تک کوفہ میں قاضی مقرر ہے اور ۱۸۰ھ؁ میں وفات پائی ۔نسائی نے آپ سے تخریج کی ۔’’امام زماں‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔   ۱ اودی ۲  سعد بن عینہ ’’جواہر مضیہ ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

شُریک

        شریک بن عبد اللہ کوفی۔کنیت آپ کی ابو عبد اللہ تھی اور ان علمائے کرام میں سے تھےجنہوں نے ابو حنیفہ کی صحبت اختیار کی اور ان سے روایت کی ، امام موصوف آپ کو کثیر العقل سے موصوف کیا کرتےتھے ۔آپ نے امام اعمش اور ابن شیبہ سے بھی حدیث کو سنا اور آپ سے عبد اللہ بن مبارک اور یحٰی سعید نے روایت کی۔ تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ آپ اور اہل ہوا اور بدعت پر بڑے سخت گیر تھے۔ جب کوفہ کی قضا کے متولی ہوئے تو آپ کا حافظ متغیر ہو گیا اور اکثر خطا کرنے لگے ۔وفات آپ کی ۱۷۷ھ؁ یا ۱۷۸ھ؁ میں ہوئی اور امام مسلم و ابو داؤد ترمذی و نسائی دابن ماجہ نے اپنی  اپنی سنن میں آپ سے تخریج کی ۔’’کوہ علوم ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔   (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

لیث بن سعد

    لیث بن سعد بن عبد الرحمٰن فہمی :ابو الحارث کنت تھی،فقہ و حدیث میں امام اہل مصر ثقہ سری تھے ۔ اصل میں اصفہان کے باشندہ اوت قیس بن رفاعہ مولیٰ عبد الرحمٰن بن خالد بن مسافر فہمی کے مولیٰ تھے ۔آپ کٍا قول ہے کہ میں نے محمد بن شہاب زہری کےعلم سےعلم کثیر لکھا ۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ آپ امام مالک سے افقہ تھے مگر اصحاب آپ کے ساتھ قائم نہ ہوئے۔ آپ عطاءوخلف اورابن ملیکہ نافع ابن مولیٰ عمر سے روایت کرتے تھے اورآپ سےشعیب اور ابن مبارک نے روایت کی۔بڑے سخی و کریم تھے یہاں تک کہ سال بھر میں آپ کو پانچ ہزار دینار کی آمدنی تھی مگر زکوٰ ۃ آپ پر واجب نہ ہوتی تھی کیونکہ آپ کا دستو تھا کہ ہر روز جب تک آپ تین سو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا نہیں لیتے تھے تو آپ روٹی نہیں کھاتے تھے۔ تاریخ خلکان میں لکھا ہے کہ میں نے بعض مجامیع میں لکھا دیکھا ہے کہ آپ حنفی المذہب تھے اور مصر کی قضا آپ کو تفویض تھی ، اما۔۔۔

مزید

منہاج الشریعہ

           محمد بن محمد بن حسین: منہاج الشریعہ لقب تھا،اپنے وقت کے امام ائمہ علی الاطلاق تھے۔صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ میں نے آپ جیسا عزت و کثرت علم وفضل و برکت میں کوئی نہیں دیکھ اور ایسے کسی شخص نے آپ سے تلمذ نہیں کیا جو اپنے اقران پر غالب نہیں آیا اوریگانۂ زماں نہیں ہوا۔ میں نے بھی آپ سے ابتداء اور نو جوانی میں پڑھا اور ہمیشہ آپ کے بحر علم سے چلواٹھاتا اور آپہ کے انوار سے اقتباس کرتا رہا یہاں تک کہ ۵۳۵؁ھ میں وفات پائی۔’’عالم نامور زمن‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

سید ابراہیم

          سید ابراہیم: آپ کے والد ماجد سادات عجم اور اولیاء اللہ میں سے تھے جو اپنا وطن چھوڑ کر شہر اماسیہ علاقۂ روم میں سکونت پذیر ہوئے اور اسی جگہ سید ابراہیم پیدا ہوئے۔جب آپ نے ہوش سنبھالاتو پہلے سنان الدین پھر حسن بن عبد الصمد سامسونی سے علم تحصیل کیا اور مدارس مزریفون اور حصا رو قسطنطنیہ میں مدرس مقرر ہوئے پھر سلطان با یزید خان نے آپ کو مدرسہ اماسیہ کا مدرس بنایا اور وہاں کا مفتی قرار دیا۔آپ بڑے پرہیز گار اور دیانتدار تھے،کبھی کسی نے آپ کو کروٹ پر سویا ہوا نہیں دیکھا۔جب آپ کو نیند غلبہ کرتی تو آپ گھٹنوں پر سر رکھ کر سوجایا کرتے تھے اور آپ کا خط بہت نمکین تھا اس لیے آپنے اپنے ہاتھ سے بہت سی کتابیں لکھیں اور نوے برس سے کچھ اوپر ہوکر ۵۳۵؁ھ میں انتقال کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید