یحییٰ بن عبداللہ حسین ناصحی: ابو صالح کنیت اور قاضی القضاۃ خطاب تھا، اپنے زمانہ کے عالم فاضل فقیہ متجر عارف مذہب تھے،فقہ اپنے باپ سے اخذ کی اور تدریس و افتاء میں مشغول رہے،وفات آپ کی ۴۹۵ھ [1] میں ہوئی،سال وفات آپ کا لفظ ’’فہیم عصر‘‘ ہے۔ 1۔ ولادت ۴۱۵ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
محمد بن عبد الحمید بن عبد الرحیم بن احمد بن عبد اللہ بن عبد الوہاب المعروف بخواہر زادہ بڑے عالم فاضل فقیہ محدث تھے اور مرو میں آپ کے وقت میں امام ابو حنیفہ کے اصحاب سے آپ سے زیادہ کوئی متوغل فی الحدیث اور کتابت فی الحدیث میں نہ تھا اور اہل حدیث کے بڑے محب تھے،آپ نے حدیث کو بکثرت سنا اور اپنے ہاتھ سے لکھا،چونکہ آپ قاضی ابی الحسن علی بن حسین دہقان کے بھانجے تھے اس لیے خواہر زادہ کے لقب سے ملقب ہوئے اور ابو سعید کنیت تھی،مرو میں ماہ جمادی الاولیٰ ۴۹۴ھ میں وفات پائی۔بزرگ دارین‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن حسین بن عبد الکریم بن موسیٰ بن مجاہد بزدوی: ابو الیسر کنیت،صدر الاسلام لقب تھا،اپنے وقت کے امام ائمہ علی الا طلاق جامع فروع و اصول صاحب تصنیفات تھے،ماوراء النہر میں ریاست مذہب حنفیہ کی آپ پر منتہیٰ ہوئی۔فقہ وغیرہ اسمٰعیل بن عبد الصادق سے،انہوں نے ابی الیسر عبد الکریم، انہوں نے امام محمد سے حاصل کی اور نیزابی یعقوب یوسف سیاری سے اخذ کیا اور آپ سے نجم الدین نسفی اور علاؤالدین محمد بن احمد سمر قندی صاحب تحفۃ الفقہاء اور ابن ابی الیسر ابو المعالی احمد اور ان کے بھائی کے بیٹے حسن بن علی نے اخذ کیا اور بخارا میں ۴۹۳ھ میں وفات پائی،بحر بے کنار‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
قاضی احمد بن عبد الرحمٰن بن اسحٰق ریغد مونی: جمال الدین لقب ابور ابو نصر کنیت تھی،بخارا کے علاقہ میں ریغد مون ایک قریہ ہے،وہاں شوال کے مہینے ۴۱۴ھ میں پیدا ہوئے۔بڑے عقیل اور اپنے وقت کے امام فاضل تھے۔علم اپنے باپ اور قاضی ابی زید دبوسی اور ابی نصر احمد بن عبد اللہ خیز اخزی سے حاصل کیا۔ آپ سے آپ کے بیٹے اور پوتے محمد بن احمد اور حامد بن محمد نے فقہ پڑھی،بخارا کی قضا آپ کے سپرد ہوئی اور لوگوں نے آپ سے امالی کو لکھا۔رمضان کےت مہینے میں فوت [1]ہوئے۔ 1۔ غرما شروط آپ کی نسچ ہے جواہر المضیۃ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن احمد بن ابی سہل[1] سرخسی: ابو بکر کنیت اور شمس الائمہ سرخسی سے ملقب تھے۔۴۰۰ھ میں پیدا ہوئے،اپنے زمانہ کے امام،علامہ،حجت،متکلم،مناظر، اصولی،فقیہ،محدث،مجتہد تھے،ابن کمال پاشا نے آپ کو طبقہ مجتہدین فی المسائل میں سے شمار کیا ہے۔پہلے اپنے باپ کے ساتھ واسطے تجارت کے بغداد میں آئے پھر شمس الائمہ حلوائی کی صحبت اختیار کی اور ان سےعلوم پڑھے اور یہاں تک ان سے اخراج کیا کہ یگانۂ زمانہ ہوئے۔آپ سے برہان الائمہ عبد العزیزی بن عمرو ب مازہ و محمود بن عبد العزیزی اور جندی اور رکن الدین مسعود بن حسن اور عثمان بن علی بن محمد بیکندی نے تفقہ کیا،چونکہ آپ بڑے حق گو تھے اس لیے آپ نے ایک کلمہ حق کا بادشاہ کو کہا جس سے وہ ناراض ہو گیا اور آپ کو شہرا وزجند میں ایک کنوئیں کے اندر قید کردیا جس میں آپ مدت تک قید رہے اور آپ کے شاگرد کنوئیں پر بیٹ کر۔۔۔
مزید
محمد بن عبد الحمید یا عبد الرشید بن حسن بن حسین سمر قندی اسمندی: ابو حامد کنیت،علاؤلدین لقب تھا،شہر اسمند کےت،جو سمر قند کے علاقہ میں واقع ہے،رہنے والے تھے اور علاء عالم سے مشہور و معروف تھے فقیہ فاضل اور عالم فاضل اور عالم مناظر تھے،فقہ اشرف علوی سے پڑھی اور علم خلاف و تفسیر میں تصنیفات کیں،ابو المظفر جمال الاسلام سعد کرابیسی مصنف فروق اور شیخ الاسلام نظام الدین عمر بن صاحب ہدایہ نے آپ سے اخذ کیا،کئی ایک مجلد میں ایک تعلیق لکھی اور تفسیر کو املاء کیا۔اصول فقہ میں بذل النظر اور اصول اعتقاد میں ہدایہ نام کتاب تصنیف کی۔اخیر کو مناظرے اور مباحثے ترک کر کے عبادت میں مشغول ہو گئے اور ۴۸۸ھ میں وفات پائی۔[1] 1۔ ولادت ۴۸۸ھ وفات ۵۵۲ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
علی بن حسین [1] بن علی نیشا پوری: ابو الحسن کنیت تھی،اپنے زمانہ کے امام عالم تھے،ملابس میں سنت نبویہ کا بڑا لحاظ رکھتے تھے اور جمعہ کی نماز کے لیے دوڑتے جایا کرتے تھے اور جو شخص راستہ میں ملتا تھا اس کو سلا کرتے تھے۔علم آپ نے حسین بن علی صمیری سے،انہوں نے امام محمد سے ابی بکر محمد خوارزمی،انہوں نے جصاص،انہوں نے بروعی،انہوں نے موسیٰ بن نصر،انہوں نے امام محمد سے حاصل کیا،آپ کی کلام کو معتزلہ کے مذہب پر بڑا غلبہ تھا اور اہل خروسان کی بولی میں وعظ کیا کرتے تھے۔بغداد میں سلطان طغربل کے ہمراہ آئے۔جب نیشاپور میں واپس گئے تو زہد اختیار کرلیا اور سلاطین کے پاس آمد و رفت چھوڑدی۔ایک دن سلطان ملک شاہ نے جامع نیشا پورمیں کہا کہ اب آپ ہمارے پاس کیوں نہیں آیا کرتے، آپ نے فرمایا اس لیے کہ میں نے ارادہ کیا ہےکہ تو بسبب زیارت علماء کے بادشاہوں سے بہر ہو اور میں بباعث۔۔۔
مزید
محمد بن عبداللہ ناصحی نیشا پوری: ابو الحسین کنیت اور قاضی القضاۃ خطاب تھا،اپنے وقت کے امام فقیہ محدث مناظر جدلی،ادیب شاعر طبیب اعرف مذہب عالم و فاضل تھے۔فقہ اپنے باب ابی محمد عبد اللہ ناصحی سے،انہوں نے قاضی ابی ہیثم،انہوں نے قاضی حرمین،انہوں نے ابی طاہر دباس،انہوں نے ابی حازم، انہوں نے عیسٰی بن ابان،انہوں نے امام محمد سے پڑھی اور حدیث کو ابا سعید وغیرہ محدثین سےسنا اور بغداد و خرسان میں تحدیث کی اور آپ سے محمد بن عبد الواحد دقاق اور عبد الوہاب بن الانماطی وغیرہ نے روایت کی،آپ اپنی باپ کی حیات میں ہی مدرسہ سلطانیہ کے مدرس بنے اور عہد الپ ارسلان میں نیشا پور کی قضا کے متولی ہوئے اور دس سال تک قاضی رہے اور حشمت ودرجہ کو حاصل کیا۔آپ ایسے فقیہ النفس تھے کہ جب امام حرمین سے مسائل میں گفتگو کرتے تو امام آپ کی تعریف کرتے۔عبد الغافر فارسی۔۔۔
مزید
محمد بن حسین بن محمد[1] بن حسین بکاری المعروف بہ بکر کواہر زادہ: امام فاضل،فقیہ محدث،مذہب امام ابو حنیفہ میں متجر تھے،آپ کا طریقہ حسنہ معتبرہ تھا اور عظماء و کبراء ماوراء النہر میں سے بحور العلم تھے،بہت سے اصحاب وائمہ آپ سے ظاہر ہوئے۔خراہر زادہ آپ کو اس لیے ک ہتے تھے کہ آپ قاضی ابی ثابت محمد بن احمد بخاری کی ہمیشرہ کے بیٹے تھے ار اس نسبت سے اعر علماء و فضلاء بھی ملقب ہیں۔ حدیث آپ نے اپنے باپ اور ابا نصر احمد بن علی حازمی اور حاکم ابا عمر محمد بن عبد العزیزی قنطری اور ابا سعید احمد اصبہانی اور ابا فضل منصور بن [2] عبدالرحیم کاغذی وغیر ہم سے سماعت کی اور بخارا میں کئی ایک مجالس میں حدیث کو لکھوایا اور آپ سے عثمان بن علی بیکندی اور عمر بن محمد بن لقمان نسفی وغیرہم نے حدیث کو روایت کیا۔سمعانی شافعی لکھتے ہیں کہ آپ سے ہم کو صرف ابو عم۔۔۔
مزید
احمد بن محمد بن صاعد [1] بن محمد استوائی: ۴۱۰ھ میں پیدا ہوئے،ابو منصور کنیت اور شیخ الاسلام خطابرکھتے تھے۔علم اپنے دادا ابی العلا صاعد سے حاصل کیا اور حدیث کو ابی سعید صیرنی اور اپنے دادا سے سماعت کیا اور آپ سے زاہر اور وجیہ اور عبد الخالق بن زاہر وغیرہ نے روایت کی،اخیر کو نیشا پور کے قاضی القضاۃ ہوئے اور شیخ الاسلام کے لقب سے پکارے گئے۔سمعانی نے لکھا ہے کہ آپ اخیر میں مذہب کے معاملہ میں بڑے متعصب ہو گئے تھے جس سے نظام الملک نے آپ کو قضا سے موقوف کردیا اور ۴۸۲ھ کو شعبان کے مہینے میں فوت ہوئے۔ 1۔ ابو نصرنیبی (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید