شیخ محمد اسمٰعیل محدث لاہوری: بخدا کے سادات عظام میں سے تھے جو سلطان مسعود غزنوری کے وقت اواخر ۳۹۵ھ میں شہر لاہور میں آکر سکونت پزیر ہوئے،اپنے وقت کے علوم فقہ و حدیث تفسیر میں امام اور جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔واعظان اہل اسلام میں سے آپ ہی سب سے پہلے لاہور میں تشریف لائے اور آپ کے وعظ و نصائح کی تاثیر سے ہزاروں کفار مشرف بہ اسلام ہوئے یہاں تک کہ جو شخص آپ کی مجلس وعظ میں حاضر ہوتا،بغیر پڑھے کلمۂ توحید کے واپس نہ جاتا تھا چنانچہ پہلے جمعہ کو جو آپ منبر وعظ پر بیٹھے تو اڑھائی سو ار دوسرے کو ساڑھے پانچ سو،تیسرے کو ایک ہزار کفار حلقۂ اہل توحید میں داخل ہوئے۔وفات آپ کی ۴۴۸ھ میں ہوئی اور لاہور کے باہر جنوب کی طرف مدفون [1] ہوئے۔سال وفات آپ کا لفظ ’’مہتاب‘‘ ہے۔ 1۔ مزار ہال روڈ پر ہے (حدائق الحنفیہ) &n۔۔۔
مزید
عبد اللہ بن حسین ناصحی: امام کبیر فقیہ بے نظیر شیخ حنفیہ ثقہ تھے۔فقہ قاضی ابی الہیثم عتبہ تلمیذ قاضی الحرمین سے پڑھی اور آپ سے آپ کے بیٹے محمد ناصحی نے تفہ کیا۔آپ بغداد میں حج کر کے ۴۱۲ھ میں تشریف لائے اور مدت تک تدریس و افتاء میں مصروف رہے اور بخارا میں سلطان محمود سبکتگین کے عہد میں قاضی القضاۃ مقرر ہوئے اور ۴۴۷ھ میں وفات پائی۔آپ کی تصانیف میں سے کتاب تہذیب ادب القضاء معروف ہے۔ناصح آپ کے اجداد میں سے کسی کا نام تھا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن محمد بن عمر و ناطفی طبری: عراق کے علمائے کبار و فقہائے نامدار اور اصحاب واقعات و نوازل میں سے فقیہ محدث تھے،کنیت ابو العباس تھی۔فقہ ابی عبد اللہ جر جانی تلمیذ ابی بکر جصاص رازی سے حاصل کی اور حدیث ابی حفص بن شاہین وغیرہ سے روایت کی۔آپ کی تصانیف میں سے کتاب احباس و فروق و کتاب واقعات و کتاب ہدایت معروف و مشہور ہیں۔وفات آپ کی شہر رَے میں ۴۴۶ھ میں ہوئی،چونکہ آپ حلوا بناکر بیچا کرتے تھے اس لیے آپ کو ناطفی کہا کرتے تھے اور ناطف عربی میں حلوائی کو کہتے ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن احمد بن محمود بن محمد نصر بن موسیٰ بن احمد ما یمر غی نسفی: امام فاضل محدث کامل تھے۔حدیث کو حجاز و غیرہ میں سنا اور مقری محمد بن منصور امام مدینہ سے روایت کی،آپ سے نجم الدین عمر بن محمد نسفی نے روایت کی اور ماہ ربیع الاول ۴۴۲ھ میں شہر ما یمر غی میں جو نخشب کے کے علاقہ میں بخارا کے راستہ پر واقع ہے، فوت ہوئے[1] 1۔ انکے بیٹے احمد بن محمد ما یمر غی متوفی ۴۸۱ھ بھی مشہور عالم اور فقیہ تھے ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن منصور بن مخلص بن اسمٰعیل نوقدی: امام زاہد صائم الدہر مشتغل بالتدریس و فتوےٰ تھے۔کنیت [1]،ابواسحٰق تھی۔فقہ آپ نے ابی جعفر ہندوانی شاگرد ابی بکر اعمش تلمیذ ابی بکر اسکاف سے حاصل کی اور حدیث کو قاضی محمد بن حسین یزدی سے روایت کیا۔مدت تک سمر قند کے مفتی رہے اور سمر قند ہی میں ماہ رمضان ۴۳۴ھ میں فوت ہوئے،نوقد شہر نف کے قصبات میں سے ایک قصبہ کا نام ہے۔ ’’بحر المناقب‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ 1۔ لقب حاکم تھا ’’جواہر المضیۃ‘‘ (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
حسین[1] بن علی بن محمد بن جعفر صمیری: فقہائے کبار اور فضلائے نامدار میں سے بڑےعقیل جید النظر حسن العبارت محدث صدوق تھے۔۳۵۱ھ میں پیدا ہوئے،شہر صمیرکے پہاڑ میں جو خورنستان کے ملک میں نہر بصرہ پر واقع ہے رہتے تھے۔فقہ آپ نے ابی نصر محمد بن سہل بن ابراہیم اور ابی بکر محمد خوار زمی سے حاصل کی اور حدیث کو دمشق میں ابی الحسن دار قطنی وابی بکر محمد بن احمد جر جانی سے سنا اور روایت کیا اور آپ سے قاضی القضاۃ ابو عبد اللہ محمد بن علی بن محمد بن حسین دامغانی وابو الحسن علی بن حسین صندلی نیشا پوری نے تفقہ کیا اور ابو بکر احمد بن خطیب بغدادی نے حدیث کی روایت کی۔آپ نے ایک بہت بڑی کتاب امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے اخبار میں تصنیف کی اور مدت تک مدائن وغیرہ کی دار القضاء کے متولی رہے اور بغداد میں ۲۱؍شوال ۴۳۶ھ میں وفات پائی۔ ’’مر۔۔۔
مزید
صاعد بن محمد بن احمد بن عبد اللہ استوائی: شہر استواء مین جو نیشا پور کے پاس واقع ہے،۳۴۳ھ میں پیدا ہوئے۔کنیت ابو العلاء تھی۔اپنے زمانہ کے عالم صدوق فقیہ فاضل تھے،خراسان میں ریاست مذہب حنفیہ کی آپ پر منتہیٰ ہوئی۔ ابتداء میں آپ نے علم ادب ابی بکر محمد خوار زمی اور فقہ قاضی ابی نصر سہل اپنے نانا سے پڑھی پھر قاضی ابی ہیثم عتبہ سے تفقہ کیا اور حدیث کو ابا م حمد عبد اللہ بن مھمد بن زیاد و ابا عمر و اسمٰعیل وابا سہل بشر بن احمدالاسفرائنی اور ابا الحسن علی بن عبد الرحمٰن کوفی سے سنا مدت تک نیشا پور کی قضا کے متولی رہے پھر قضا کا عہدہ ابو الہیثم عتبہ اپنے استاد کو دے دیا۔آپ سے آپ کے بیٹے ابو سعد محمد بن صاعد اور پوتے ابو منصور احمد بن نے تفقہ کیا اور ایک جم غفیر نے روایت کی۔آپ[1] نے عقائد میں ایک کتاب اعتقاد نام تصنیف فرمائی اور ۴۳۲ھ میں۔۔۔
مزید
جعفر بن محمد بن معتزبن محمد بن مستغفر بن فتح بن ادریس نسفی: ۳۵۰ھ میں شہر نسف میں جس کو اب نخشب کہتے ہیں،پیدا ہوئے۔ابو العباس کنیت تھی اور مستغفری کی نسبت سے جو آپ کے بعض اجداد کی طرف منسوب ہے۔مشہور تھے۔ آپ فقیہ فاضل محدث صدوق تھے،آپ کے زمانہ میں مرجع انام ہوا ہو۔علم آپ نے قاضی ابی علی حسین نسفی تلمیذ ابی بکر محمد بن فضل سے حاصل کیا اور حدیث کو کثرت سے روایت کیا۔سمعانی نے لکھا ہے کہ آپ خراسان کی طرف تشریف لے گئے اور مرو سرخص میں مدت تک مقیم رہے جہاں ابی علی زاہد بن احمد سرخسی سے بہت کچھ سماعت کیا۔نسف میں ابا سہر ہارورن بن احمد استربادی و ابا محمد رازی اور بخارا میں حافظ ابا عبد اللہ محمد بن احمد عنجا اور مرو میں ابا ہیثم محمد وغیرہ محدثین کثیر سے سنا اور آپ سے میرے جد اعلیٰ قاضی ابو منصور محمد بن عبد الجبار سمعانی ۔۔۔
مزید
معتمد بن محمد بن مکحولی بن فضل نسفی مکحولی: فقیہ محدث عالم فاضل تھے۔ ابو المعالی کنیت تھی۔روایت اپنے جد امجد ابی المعین سے کرتے تھے اور نیز با سہل ہارون بن احمد استر آبادی سےسنا اور ان کے کتاب اخیار مکہ وغیرہ کی روایت کی۔ ماہ ذی الحجہ ۳۳۶ھ میں [1] پیدا ہوئے اور کچھ اوپر ۴۳۰ھ میں وفات پائی۔ 1۔ ۳۴۶ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبید اللہ بن عمر بن عیسٰی القاضی ابو زید الدبوسی: اکابرین فقہائے حنفیہ میں سےگزرے ہیں پہلے پہل علم خلاف کا آپ ہی نے وضع کیا اور اس کا اجراء فرمایا،علم مناظرہ اور استخراج حجج میں ضرب مثل تھے۔مدت تک بخارا و سمر قند میں علمائے فحول سے مناظرے کرتے رہے۔ابن خلکان میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے فقیہ سے مناظرہ کیا،پس جب آپ اس کو الزام دیتے تو وہ مسکراتا یا ہنس دیتا اس پر آپ نے فی البدیہ یہ شعر تصنیف کیے ؎ مالی اذا الزمۃ حجۃ قابلنی با لضحک والقہقہہ ان کان ضحک المرء من فقہہ فالدب فی الصحراء ما افقہہ آپ نے کتاب الاسرار و کتاب تقویم الادلہ اور کتاب امدالاقضی وغیرہ تصنیف کیں اور ایک کتاب فتاویٰ نظم میں لکھی اور بخارامیں ۴۳۰ھ میں وفا۔۔۔
مزید