بدھ , 12 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 29 April,2026

علی سغدی

          علی بن حسین سغدی: اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ مناظر تھے رکن الاسلام لقب اور ابو الحسن کنیت تھی،فقہ شمس الائمہ سر خسی سے اخذ کی اور شرح سیر الکبیر کو روایت کیا۔حدیث کو ایک جماعت محدثین سےسنا یہاں تک کہ بخارا میں ساکن ہو کر افتاء کے لیے صدر نشین ہوئے اور وہاں کی قضا آپ کے سپرد ہو کر ریاست مذہب حنفیہ کی آپ پر منتہیٰ ہوئی،واقعات و نوازل میں لوگ آپ کی طرف رجوع لانے لگے۔فتاویٰ قاضی خان وغیرہ مشاہیر فتاویٰ میں آپ کا مکر ر تذکرہ ہوا ہے۔آپ کی تصانیف میں سے فتاویٰ نتف اور شرح جامع کبیر مشہور و معروف ہیں۔           کہتے ہیں کہ جن دنوں آپ بغداد میں پڑھا کرتے تھے ان ایام میں خلیفہ بغداد کا بیٹا بھی پڑھا کرتا تھا ایک دن اور خلیفہ کے بیٹے نے اول سبق پڑھنے کے کے لیے قرعہ دالا تو آپ کا قرعہ نکلا،خلیفہ کے بی۔۔۔

مزید

عبد العزیز نسفی

                عبد العزیز بن محمد بن محمد بن عاصم نسفی: حافظ حدیث،محدث ثقہ،فقیہ متقن،عالم کبیر المحل فاضل عظیم الشان تھے،ابو محمد کنیت تھی،سلفی نے کہا ہے کہ میں نے آپ کی بابت موتمن ساجی سے پوچھا،انہوں نے کہا کہ آپ مثل ابی بکر خطیب اور محمد بن علی الصوری کے حافظ حدیث پسندیدہ اخلاق و فہم تھے۔ابن مندہ کہتے ہیں کہ آپ حفظ و اتقان میں یگانۂ زمانہ تھےاور میں نے اپنے زمانہ میں کوئی آپ ک دقیق الخط سریع الکتابۃ اور قراۃ نہیں دیکھا۔مدت تک آپ نے حافظ واتقان میں یگانۂ تھے اور میں نے اپنے زمانہ میں کوئی آپ کے دقیق الخط سریع الکتابۂ اور قراۃ نہیں دیکھا۔مدت تک آپ نے حافظ جعفر مستغفری کی صحبت میں رہ کر کثرت سے سماعت و اخذ کیا اور بغداد میں محمد بن محمد بن غیلان کو پاکر اُن سے بھی استفادہ کیا اور نسف میں ۴۵۷؁ھ یا ۷۵۷؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفی۔۔۔

مزید

عبد الواحد عکبری

          عبد الواحد بن علی بن [1] برہان عکبری: بڑے فقیہ نحوی متکلم لغوی مؤرخ ادیب تھے ابو القاسم کنیت تھی،پہلے نجومی تھے پھر نحوی وہئے اور حنبلی مذہب سے حنفی مذہب اختیار کیا،فقہ،احمد قدوری شاگرد ابی عبد اللہ محمد بن یحییٰ جرجانی سے حاصل کی اور حدیث کو ابن بطہ وغیرہ سے سماعت کیا،آپ امام ابو حنیفہ کے بڑے حمایتی اور اپنے اصحاب میں ذی عزت تھے،کبھی شلوار نہ باندھی اور نہ اپنے سر کو چادر سے ڈھکا۔وفات آپ کی چہار شنبہ کے روز ماہ جمادی  الاخریٰ ۴۵۶؁ھ میں ہوئی، عکبری شہر عکبر ی طرف منسوب ہے جو دریائے وجلہ پر بغداد سے دس فرسنگ کے فاصلہ پر مشرق کی طرف واقع ہے۔ ’’عالی مقدار‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔   1۔ عبد الواحد بن علی بن عمر بن اسحاق بن ابراہیم اسدی عسکری اصول اللغت آپ کی تصنیف ہے عمر ۸۰سال وفات پائی جواہر المضیۃ  (م۔۔۔

مزید

شیخ محمد اسماعیل

          شیخ محمد اسمٰعیل محدث لاہوری: بخدا کے سادات عظام میں سے تھے جو سلطان مسعود غزنوری کے وقت اواخر ۳۹۵؁ھ میں شہر لاہور میں آکر سکونت پزیر ہوئے،اپنے وقت کے علوم فقہ و حدیث تفسیر میں امام اور جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔واعظان اہل اسلام میں سے آپ ہی سب سے پہلے لاہور میں تشریف لائے اور آپ کے وعظ و نصائح کی تاثیر سے ہزاروں کفار مشرف بہ اسلام ہوئے یہاں تک کہ جو شخص آپ کی مجلس وعظ میں حاضر ہوتا،بغیر پڑھے کلمۂ توحید کے واپس نہ جاتا تھا چنانچہ پہلے جمعہ کو جو آپ منبر وعظ پر بیٹھے تو اڑھائی سو ار دوسرے کو ساڑھے پانچ سو،تیسرے کو ایک ہزار کفار حلقۂ اہل توحید میں داخل ہوئے۔وفات آپ کی ۴۴۸؁ھ میں ہوئی اور لاہور کے باہر جنوب کی طرف مدفون [1] ہوئے۔سال وفات آپ کا لفظ ’’مہتاب‘‘ ہے۔   1۔ مزار ہال روڈ پر ہے  (حدائق الحنفیہ) &n۔۔۔

مزید

عبداللہ ناصحی

          عبد اللہ بن حسین ناصحی: امام کبیر فقیہ بے نظیر شیخ حنفیہ ثقہ تھے۔فقہ قاضی ابی الہیثم عتبہ تلمیذ قاضی الحرمین سے پڑھی اور آپ سے آپ کے بیٹے محمد ناصحی نے تفہ کیا۔آپ بغداد میں حج کر کے ۴۱۲؁ھ میں تشریف لائے اور مدت تک تدریس و افتاء میں مصروف رہے اور بخارا میں سلطان محمود سبکتگین کے عہد میں قاضی القضاۃ مقرر ہوئے اور ۴۴۷؁ھ میں وفات پائی۔آپ کی تصانیف میں سے کتاب تہذیب ادب القضاء معروف ہے۔ناصح آپ کے اجداد میں سے کسی کا نام تھا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد ناطفی

           احمد بن محمد بن عمر و ناطفی طبری: عراق کے علمائے کبار و فقہائے نامدار اور اصحاب واقعات و نوازل میں سے فقیہ محدث تھے،کنیت ابو العباس تھی۔فقہ ابی عبد اللہ جر جانی تلمیذ ابی بکر جصاص رازی سے حاصل کی اور حدیث ابی حفص بن شاہین وغیرہ سے روایت کی۔آپ کی تصانیف میں سے کتاب احباس و فروق و کتاب واقعات و کتاب ہدایت معروف و مشہور ہیں۔وفات آپ کی شہر رَے میں ۴۴۶؁ھ میں  ہوئی،چونکہ آپ حلوا بناکر بیچا کرتے تھے اس لیے آپ کو ناطفی کہا کرتے تھے اور ناطف عربی میں حلوائی کو کہتے ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد یامر غی

          محمد بن احمد بن محمود بن محمد نصر بن موسیٰ بن احمد ما یمر غی نسفی: امام فاضل محدث کامل تھے۔حدیث کو حجاز و غیرہ میں سنا اور مقری محمد بن منصور امام مدینہ سے روایت کی،آپ سے نجم الدین عمر بن محمد نسفی نے روایت کی اور ماہ ربیع الاول ۴۴۲؁ھ میں شہر ما یمر غی میں جو نخشب کے کے علاقہ میں بخارا کے راستہ پر واقع ہے، فوت ہوئے[1]   1۔ انکے بیٹے احمد بن محمد ما یمر غی متوفی ۴۸۱؁ھ بھی مشہور عالم اور فقیہ تھے ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن منصور نوقدی

          محمد بن منصور بن مخلص بن اسمٰعیل نوقدی: امام زاہد صائم الدہر مشتغل بالتدریس و فتوےٰ تھے۔کنیت [1]،ابواسحٰق تھی۔فقہ آپ نے ابی جعفر ہندوانی شاگرد ابی بکر اعمش تلمیذ ابی بکر اسکاف سے حاصل کی اور حدیث کو قاضی محمد بن حسین یزدی سے روایت کیا۔مدت تک سمر قند کے مفتی رہے اور سمر قند ہی میں ماہ رمضان ۴۳۴؁ھ میں فوت ہوئے،نوقد شہر نف کے قصبات میں سے ایک قصبہ کا نام ہے۔ ’’بحر المناقب‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔   1۔ لقب حاکم تھا ’’جواہر المضیۃ‘‘  (حدائق الحنفیہ)  ۔۔۔

مزید

حسین صمیری

          حسین[1] بن علی بن محمد بن جعفر صمیری: فقہائے کبار اور فضلائے نامدار میں سے بڑےعقیل جید النظر حسن العبارت محدث صدوق تھے۔۳۵۱؁ھ میں پیدا ہوئے،شہر صمیرکے پہاڑ میں جو خورنستان کے ملک میں نہر بصرہ پر واقع ہے رہتے تھے۔فقہ آپ نے ابی نصر  محمد بن سہل بن ابراہیم اور ابی بکر محمد خوار زمی سے حاصل کی اور حدیث کو دمشق میں ابی الحسن دار قطنی وابی بکر محمد بن احمد جر جانی سے سنا اور روایت کیا اور آپ سے قاضی القضاۃ ابو عبد اللہ محمد بن علی بن محمد بن حسین دامغانی وابو الحسن علی بن حسین صندلی نیشا پوری نے تفقہ کیا اور ابو بکر احمد بن خطیب بغدادی نے حدیث کی روایت کی۔آپ نے ایک بہت بڑی کتاب امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے اخبار میں تصنیف کی اور مدت تک مدائن وغیرہ کی دار القضاء کے متولی رہے اور بغداد میں ۲۱؍شوال ۴۳۶؁ھ میں وفات پائی۔ ’’مر۔۔۔

مزید

صاعد استوائی

           صاعد بن محمد بن احمد بن عبد اللہ استوائی: شہر استواء مین جو نیشا پور کے پاس واقع ہے،۳۴۳؁ھ میں پیدا ہوئے۔کنیت ابو العلاء تھی۔اپنے زمانہ کے عالم صدوق فقیہ فاضل تھے،خراسان میں ریاست مذہب حنفیہ کی آپ پر منتہیٰ ہوئی۔ ابتداء میں آپ نے علم ادب ابی بکر محمد خوار زمی اور فقہ قاضی ابی نصر سہل اپنے نانا سے پڑھی پھر قاضی ابی ہیثم عتبہ سے تفقہ کیا اور حدیث کو ابا م حمد عبد اللہ بن مھمد بن زیاد و ابا عمر و اسمٰعیل وابا سہل بشر بن احمدالاسفرائنی اور ابا الحسن علی بن عبد الرحمٰن کوفی سے سنا مدت تک نیشا پور کی قضا کے متولی رہے پھر قضا کا عہدہ ابو الہیثم عتبہ اپنے استاد کو دے دیا۔آپ سے آپ کے بیٹے ابو سعد محمد بن صاعد اور پوتے ابو منصور احمد بن نے تفقہ کیا اور ایک جم غفیر نے روایت کی۔آپ[1] نے عقائد میں ایک کتاب اعتقاد نام تصنیف فرمائی اور ۴۳۲؁ھ میں۔۔۔

مزید