منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

اسحٰق بن ابراہیم  

              اسحٰق بن ابراہیم بن مخلد بن جعفر بن مخلد: فقیہ فاضل محدث صدوق تھے۔ابو الفضل کنیت تھی۔خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے بھی کچھ تھوڑا سا لکھا،وفات آپ کی ماہ ربیع الاول ۴۲۹؁ھ میں ہوئی۔آپ کے والد ماجد ابو اسحیق ابراہیم بن مخلد متوفی ۴۱۰؁ھ بھی فاضل ادیب محدث صدوق صحیح الکتابت حسن النقل جید الضبط تھے لیکن فقہ میں محمد بن جریر طبری کا مذہب رکھتے تھے اور حدیث کو حسین بن یحییٰ قطان وابا عبد اللہ حکیمی اور قاضی احمد بن کامل سے روایت کرتے تھے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابو علی سینا  

              حسن بن عبد اللہ بن سینا الملقلب بہ رئیس،حکماء مسلمین میں سے علم و ذکاء فہم و فراست میں یگانہ زمانہ تھے یہاں تک کہ رئیس الحکماء آپ کا لقب تھا،کنیت ابو علی تھی،باپ آپ کا بلخ کارہنے والا تھا جو بخارار میں ہجرت کر کے مقیم ہوا جہاں آپ ۳۷۰؁ھ میں پیدا ہوئے اور امام ابی بکراحمد بن عبد اللہ زاہد سے علم پڑھا پھر اسمٰعیل زاہد تلمیذ محمد بن فضل بخاری کے پاس جاتے رہے اور ان سے علوم پڑھے اور مناظرے کیے۔آپ ایام اشتغال علم میں تمام رات کو کبھی نہ ہوئے اور نہ دن کو سوائے مطالعہ کتب کے اور کام میں مشغول ہوئے،جب کوئی مشکل مسئلہ واقع ہوتو تو وضو کر کے جامع مسجد میں نماز پڑھتے اور اس کے آسان ہونے کے لیے خدا سے دعا مانگتے۔ابھی اٹھارہ سال کی عمر کو نہ پہنچے تھے کہ علوم و فنون کی تحصیل سے فارغ ہوئے اور طب میں شفا وغیرہ کتابیں تصنیف کیں اور ۴۲۸؁ھ۔۔۔

مزید

حسین نسفی

          حسین بن خضر بن محمد بن[1]یوسف نسفی: اپنے زمانہ کے امام فاضل،فقیہ جید محدث ثقہ تھے۔کنیت آپ کی ابو علی تھی،بخارا میں آپ نے امام ابی بکر محمد بن فضل اور ابا عمر و محمد بن محمد بن صابر اور ابا سعید بن خلیل بن احمد سجزی اور بغداد میں ابا الفجل عبید اللہ بن عبد الرحمٰن الزہری اور ابا الھسن علی بن عمر بن محمد ادرکوفہ میں ابا عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن حسین الہروی اور مکہ معظمہ میں ابا الحسن احمد بن ابراہیم اور ہمدان مین امام ابا بکر احمد بن علی بن دلال اور رے میں ابا القاسم جعفر بن عبد اللہ بن یعقوب رازی اور مرو میں ابا علی محمد عمرو مروزی اور ان کے طبقہ سے حدیث کو سنا اور تفقہ کیا،اور آپ سے ایک جم غفیر اور جماعت کثیرہ نے حدیث کو سنا اور روایت کیا۔مدت تک بغداد میں تعلیم و تدریس اور مناظرہ میں مصروف رہے، جب جعفر اسروشنی فوت ہوئے تو آپ کو بخا۔۔۔

مزید

مسعود خوارزمی  

              مسعود بن محمد بن موسیٰ خوارزمی: عالم فاضل وحید عصر تھے۔ابو القاسم کنیت تھی فقہ آپ نے اپنے باپ ابی بکر محمد تلمیذ جصاص رازی سےپڑھی اور تمام عمر درس و افادۂ عوام اور افتاء میں مشغول رہ کر ۴۲۳؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن احمد کماری

           محمد بن احمد بن طیب بن جعفر واسطی کماری: فقیہ عارف محدث عادل تھے۔ابو الحسین کنیت تھی۔فقہ آپ نے ابی بکر رازی تلمیذ امام کرخی سے پڑھی اور حدیث کو بکر بن احمد سے روایت کیا اور آپ سے آپ کے بیٹے اسمٰعیل قاضی واسط نے اخذ کیا اور ۴۱۷؁ھ میں فوت ہوئے۔آپ کے والد احمد بن طیب بھی برے فاضل تھے جنہوں نے ابا محمد عبد اللہ بن عمر بن احمد بن علی بن شوذب سے حدیث کو سُنا اور ابو بکر محمد بن احمد بن نصر بن علان نے ان سے روایت کی۔کمار آپ کے اجداد میں سے کسی کا نام ہے اس لیے آپ نسبت کماری کی طر منسوب ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد بن محمد

          احمد بن محمد بن عمر: ۳۳۷؁ھ میں پیدا ہوئے،ابو الفرح کنیت تھی لیکن ابن سلمہ کے نام سے معروف تھے۔بغداد آپ کا مسکن تھا۔فقہ آپ نے ابو بکر جصاص سے اخذ کی اور حدیث کو ان کے باپ سے سماعت کیا اور آپ کا خاندان مرجع اہل علم ہوا۔آپ بڑے عقیل اور نیکو کار تھے،دن کو ہمیشہ روزہ رکھتے اور رات کو ایک منزل قرآن کی اپنے ورد میں پڑھتے تھے۔وفات آپ کی ۴۱۵؁ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد نسفی

           محمد بن احمد بن محمود نسفی: اکابر فقہاء میں سے زاہد متورع متعفف فقیر قانع تھے،ابو جعفر کنیت تھی،فقہ آپ نے ابی بکر رازی شاگرد امام کرخی سے حاصل کی اور علم خلاف میں ایک تعلیقات لکھی،اور ۴۱۴؁ھ میں تنگدستی اور کثرت عیال سے مغموم و مہموم ہو کر وفات پائی۔کہتے ہیں کہ جس رات آپ نے انتقال کیا تھا۔ایک مسئلہ منجملہ مسائل مذہب آپ کے دل میں واقع ہو کر حل ہوا جس کی خوشی میں اٹھ کر اپنے گھر میں رقص کرنے لگے اور کہا این الملوک وابناء الملوک یعنی کہاں ہیں بادشاہ اور شہزادے جو میری خوشی کو پہنچ سکیں؟ آپ کی عورت نے آپ سے اس خوشی کا سبب پوچھا۔آپ نے اصل حال سے اس کو مطلع کیا جس سے اس نے بڑا تعجب کیا، ’’رہنمائے حق‘‘ آپ کی تاریخی وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن عبد الجبار  

           محمد بن عبد الجبار بن احمد بن محمد سمعانی تمیمی مروزی: بڑے عالم فاضۂ متورع متقن لغت و عربیت میں مضبوط تھے۔کنیت ابو منصور تھی۔فقہ آپ نے جعفر بن محمد مستغفری شاگرد ابی علی نسفی تلمیذ ابی بکر محمد بن فضل سے حاصل کی اور لغت و عربی میں تصنیفات مفیدہ کیں اور ۴۰۵؁ھ [1] میں وفات پائی،آپ کا بیٹا منصور پہلے حنفی المذہب تھا پھر شافعی ہوگیا اس لیے اس کی اولاد کلہم شافعی المذہب ہوئے۔   1۔۴۵۰؁ھ میں وفات پائی دستور الاعلام جواہر المضیۃ  (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن موسیٰ خوارزمی

          محمد بن موسیٰ خوارزمی: محدث ثقہ،فقیہ متجر جامع فروع واصول تھے، صمیری نے کہا ہے کہ میں نے تقوےٰ واصابت اور حسن تدریس میں آپ جیسا کوئی فاضل نہیں دیکھا۔کنیت ابو بکر تھی،فقہ آپ نے جصاص شاگرد امام کرخی سے حاصل کی اور آپ سے آپ کے بیٹے مسعود بن محمد فقیہ خوارزمی اور ابو عبد اللہ حسین بن علی صمیری  نے اخذ کیا۔علی قادری نے ابن اثیر کی مختصر غریث الاحادیث کے حوالہ سے لکھا ہےکہ آپ ان مجددین امت محمدیہ میں سے ہیں جو پانچویں صدی کے سرے پر شمار کیے گئے ہیں آپ عند الخاص و عام بڑے معظم و مکرم تھے اور کسی کا ہدیہ وصلہ قبول نہ کرتے تھے۔خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ آپ سے ابو بکر یرقانی نے ہمارے لیے تحدیث کی اور ابو بکریرقانی اکثر آپ کو نیکی سے یاد کیا کرتے تھے۔میں نے ایک دفعہ ان سے آپ کے مذہب فی الاصول سے سوال کیا،کہا کہ آپ یہ کیا فرمایا کرتے تھے کہ ہمار۔۔۔

مزید

اسماعیل بن حسن

           اسمٰعیل بن [1] حسن بن علی: فقیہ زاہد امام فروع و اصول تھے۔کنیت ابو محمد تھی،علوم ابی بکر محمد بن فضل تلمیذ عبد اللہ سبذ مونی سے حاصل کیے اور ماہ شعبان ۴۰۲؁ھ میں وفات پائی۔ ’’قبلۂ دارین‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔   1۔ شمش الائمہ القاسم اسمٰعیل بن حسن بن علی بیہقی لغایۃ الفقہا مجروسط الثریا اور نقص الاصلاح آپ کی تصانیف ہیں۔  (حدائق الحنفیہ)  ۔۔۔

مزید