اتوار , 16 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 03 May,2026

جعفر بن محمد نسفی

                جعفر بن محمد بن معتزبن محمد بن مستغفر بن فتح بن ادریس نسفی: ۳۵۰؁ھ میں شہر نسف میں جس کو اب نخشب کہتے ہیں،پیدا ہوئے۔ابو العباس کنیت تھی اور مستغفری کی نسبت سے جو آپ کے بعض اجداد کی طرف منسوب ہے۔مشہور تھے۔ آپ فقیہ فاضل محدث صدوق تھے،آپ کے زمانہ میں مرجع انام ہوا ہو۔علم آپ نے قاضی ابی علی حسین نسفی تلمیذ ابی بکر محمد بن فضل سے حاصل کیا اور حدیث کو کثرت سے روایت کیا۔سمعانی نے لکھا ہے کہ آپ خراسان کی طرف تشریف لے گئے اور مرو سرخص میں مدت تک مقیم رہے جہاں ابی علی زاہد بن احمد سرخسی سے بہت کچھ سماعت کیا۔نسف میں ابا سہر ہارورن بن احمد استربادی و ابا محمد رازی اور بخارا میں حافظ ابا عبد اللہ محمد بن احمد عنجا اور مرو میں ابا ہیثم محمد وغیرہ محدثین کثیر سے سنا اور آپ سے میرے جد اعلیٰ قاضی ابو منصور محمد بن عبد الجبار سمعانی ۔۔۔

مزید

معتمد نسفی مکحولی

           معتمد بن محمد بن مکحولی بن فضل نسفی مکحولی: فقیہ محدث عالم فاضل تھے۔ ابو المعالی کنیت تھی۔روایت اپنے جد امجد ابی المعین سے کرتے تھے اور نیز با سہل ہارون بن احمد استر آبادی سےسنا اور ان کے کتاب اخیار مکہ وغیرہ کی روایت کی۔ ماہ ذی الحجہ ۳۳۶؁ھ میں [1] پیدا ہوئے اور کچھ اوپر ۴۳۰؁ھ میں وفات پائی۔   1۔ ۳۴۶ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابو زید دبوسی

           عبید اللہ بن عمر بن عیسٰی القاضی ابو زید الدبوسی: اکابرین فقہائے حنفیہ میں سےگزرے ہیں پہلے پہل علم خلاف کا آپ ہی نے وضع کیا اور اس کا اجراء فرمایا،علم مناظرہ اور استخراج حجج میں ضرب مثل تھے۔مدت تک بخارا و سمر قند میں علمائے فحول سے مناظرے کرتے رہے۔ابن خلکان میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے فقیہ سے مناظرہ کیا،پس جب آپ اس کو الزام دیتے تو وہ مسکراتا یا ہنس دیتا اس پر آپ نے فی البدیہ یہ شعر تصنیف کیے   ؎ مالی اذا الزمۃ حجۃ     قابلنی با لضحک والقہقہہ ان کان ضحک المرء من فقہہ   فالدب فی الصحراء ما افقہہ           آپ نے کتاب الاسرار و کتاب تقویم الادلہ اور کتاب امدالاقضی وغیرہ تصنیف کیں اور ایک کتاب فتاویٰ نظم میں لکھی اور بخارامیں ۴۳۰؁ھ میں وفا۔۔۔

مزید

اسحٰق بن ابراہیم  

              اسحٰق بن ابراہیم بن مخلد بن جعفر بن مخلد: فقیہ فاضل محدث صدوق تھے۔ابو الفضل کنیت تھی۔خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے بھی کچھ تھوڑا سا لکھا،وفات آپ کی ماہ ربیع الاول ۴۲۹؁ھ میں ہوئی۔آپ کے والد ماجد ابو اسحیق ابراہیم بن مخلد متوفی ۴۱۰؁ھ بھی فاضل ادیب محدث صدوق صحیح الکتابت حسن النقل جید الضبط تھے لیکن فقہ میں محمد بن جریر طبری کا مذہب رکھتے تھے اور حدیث کو حسین بن یحییٰ قطان وابا عبد اللہ حکیمی اور قاضی احمد بن کامل سے روایت کرتے تھے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابو علی سینا  

              حسن بن عبد اللہ بن سینا الملقلب بہ رئیس،حکماء مسلمین میں سے علم و ذکاء فہم و فراست میں یگانہ زمانہ تھے یہاں تک کہ رئیس الحکماء آپ کا لقب تھا،کنیت ابو علی تھی،باپ آپ کا بلخ کارہنے والا تھا جو بخارار میں ہجرت کر کے مقیم ہوا جہاں آپ ۳۷۰؁ھ میں پیدا ہوئے اور امام ابی بکراحمد بن عبد اللہ زاہد سے علم پڑھا پھر اسمٰعیل زاہد تلمیذ محمد بن فضل بخاری کے پاس جاتے رہے اور ان سے علوم پڑھے اور مناظرے کیے۔آپ ایام اشتغال علم میں تمام رات کو کبھی نہ ہوئے اور نہ دن کو سوائے مطالعہ کتب کے اور کام میں مشغول ہوئے،جب کوئی مشکل مسئلہ واقع ہوتو تو وضو کر کے جامع مسجد میں نماز پڑھتے اور اس کے آسان ہونے کے لیے خدا سے دعا مانگتے۔ابھی اٹھارہ سال کی عمر کو نہ پہنچے تھے کہ علوم و فنون کی تحصیل سے فارغ ہوئے اور طب میں شفا وغیرہ کتابیں تصنیف کیں اور ۴۲۸؁ھ۔۔۔

مزید

حسین نسفی

          حسین بن خضر بن محمد بن[1]یوسف نسفی: اپنے زمانہ کے امام فاضل،فقیہ جید محدث ثقہ تھے۔کنیت آپ کی ابو علی تھی،بخارا میں آپ نے امام ابی بکر محمد بن فضل اور ابا عمر و محمد بن محمد بن صابر اور ابا سعید بن خلیل بن احمد سجزی اور بغداد میں ابا الفجل عبید اللہ بن عبد الرحمٰن الزہری اور ابا الھسن علی بن عمر بن محمد ادرکوفہ میں ابا عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن حسین الہروی اور مکہ معظمہ میں ابا الحسن احمد بن ابراہیم اور ہمدان مین امام ابا بکر احمد بن علی بن دلال اور رے میں ابا القاسم جعفر بن عبد اللہ بن یعقوب رازی اور مرو میں ابا علی محمد عمرو مروزی اور ان کے طبقہ سے حدیث کو سنا اور تفقہ کیا،اور آپ سے ایک جم غفیر اور جماعت کثیرہ نے حدیث کو سنا اور روایت کیا۔مدت تک بغداد میں تعلیم و تدریس اور مناظرہ میں مصروف رہے، جب جعفر اسروشنی فوت ہوئے تو آپ کو بخا۔۔۔

مزید

مسعود خوارزمی  

              مسعود بن محمد بن موسیٰ خوارزمی: عالم فاضل وحید عصر تھے۔ابو القاسم کنیت تھی فقہ آپ نے اپنے باپ ابی بکر محمد تلمیذ جصاص رازی سےپڑھی اور تمام عمر درس و افادۂ عوام اور افتاء میں مشغول رہ کر ۴۲۳؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن احمد کماری

           محمد بن احمد بن طیب بن جعفر واسطی کماری: فقیہ عارف محدث عادل تھے۔ابو الحسین کنیت تھی۔فقہ آپ نے ابی بکر رازی تلمیذ امام کرخی سے پڑھی اور حدیث کو بکر بن احمد سے روایت کیا اور آپ سے آپ کے بیٹے اسمٰعیل قاضی واسط نے اخذ کیا اور ۴۱۷؁ھ میں فوت ہوئے۔آپ کے والد احمد بن طیب بھی برے فاضل تھے جنہوں نے ابا محمد عبد اللہ بن عمر بن احمد بن علی بن شوذب سے حدیث کو سُنا اور ابو بکر محمد بن احمد بن نصر بن علان نے ان سے روایت کی۔کمار آپ کے اجداد میں سے کسی کا نام ہے اس لیے آپ نسبت کماری کی طر منسوب ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد بن محمد

          احمد بن محمد بن عمر: ۳۳۷؁ھ میں پیدا ہوئے،ابو الفرح کنیت تھی لیکن ابن سلمہ کے نام سے معروف تھے۔بغداد آپ کا مسکن تھا۔فقہ آپ نے ابو بکر جصاص سے اخذ کی اور حدیث کو ان کے باپ سے سماعت کیا اور آپ کا خاندان مرجع اہل علم ہوا۔آپ بڑے عقیل اور نیکو کار تھے،دن کو ہمیشہ روزہ رکھتے اور رات کو ایک منزل قرآن کی اپنے ورد میں پڑھتے تھے۔وفات آپ کی ۴۱۵؁ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد نسفی

           محمد بن احمد بن محمود نسفی: اکابر فقہاء میں سے زاہد متورع متعفف فقیر قانع تھے،ابو جعفر کنیت تھی،فقہ آپ نے ابی بکر رازی شاگرد امام کرخی سے حاصل کی اور علم خلاف میں ایک تعلیقات لکھی،اور ۴۱۴؁ھ میں تنگدستی اور کثرت عیال سے مغموم و مہموم ہو کر وفات پائی۔کہتے ہیں کہ جس رات آپ نے انتقال کیا تھا۔ایک مسئلہ منجملہ مسائل مذہب آپ کے دل میں واقع ہو کر حل ہوا جس کی خوشی میں اٹھ کر اپنے گھر میں رقص کرنے لگے اور کہا این الملوک وابناء الملوک یعنی کہاں ہیں بادشاہ اور شہزادے جو میری خوشی کو پہنچ سکیں؟ آپ کی عورت نے آپ سے اس خوشی کا سبب پوچھا۔آپ نے اصل حال سے اس کو مطلع کیا جس سے اس نے بڑا تعجب کیا، ’’رہنمائے حق‘‘ آپ کی تاریخی وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید