منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

سیّدناعثمان ابی قیس بن ابی العاص رضی اللہ عنہ

 بن قیس بن عدی سہمی ہیں یہ اپنے والدکے ساتھ فتح مصر میں شریک تھے اس کوابوسعیدبن یونس نے کہاہے۔لیث بن سعد نے یزیدبن ابی حبیب سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ حضرت عمربن خطاب  رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ)عمروبن عاص کے پاس لکھاکہ جن لوگوں نے تحت الشجرہ بیعت کی ہے جوتمھارے سامنے موجودہیں ہرایک کودوسو(درہم مشاہرہ)وظیفہ دیا کرو۔اوروہی اپنےاور اپنےعزیزوں کے واسطے مقررکرو اورخارجہ بن حذافہ کوان کے شجاعت کے سبب سے(وہی)مقررکرو۔اورعثمان بن قیس کوشرف مہمان نوازی کے سبب سے(وہی)مقرر کرو۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن عمرو رضی اللہ عنہ

۔(حضرت)انس کی (روایت کردہ)حدیث میں ذکرہے(اور)اس (حدیث)کوکثیر بن سلیم نے انس بن مالک سے روایت کیاہے۔حضرت انس کہتےتھے کہ عثمان بن عمرو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے۔یہ اپنی قوم کے امام تھے اوربدری تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم اپنی قوم کے ساتھ نمازپڑھاکرو توبہت طول نہ دیاکرو کیوں کہ اس میں بوڑھے اورکمزوراورحاجتمند لوگ(ہوتے)ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اوران دونوں نےکہاہے کہ اسی طرح یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔اورکہاگیاہے کہ یہ عثمان بن عمروہیں اوربدری تھے۔اوریہ حدیث عثمان بن ابی العاص ثقفی (کی روایت)سے مشہورہے۔یہ بدری نہ تھے ثقیف کے وفد کے ساتھ اسلام لائے تھے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن عمروانصاری رضی اللہ عنہ

یّدناعثمان رضی اللہ عنہ ابن عمروانصاری ان کوابوالقاسم طبرانی نے معجم میں بیان کیاہے۔ابونعیم نے کہاہے کہ یہ میرے نزدیک نعمان بن عمروبن رفاعہ ہیں اورانھوں نے وہ حدیث روایت کی ہے جوہم سے ابوموسیٰ نے کتابتہً بیان کی وہ کہتےتھے ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے محمد بن عمرو بن خالد حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ہمارے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابن لہیعہ نے ابوالاسود سے انھوں نے عروہ سے ان انصار کے نام میں جوغزوۂ بدرمیں شریک تھے عثمان بن عمرو بن رفاعہ بن حارث بن سواد(کےنام ) کو (بھی)نقل کیاہے۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ

  امیرالمومنین صاحبُ الِحلم والحَیا ذوالنورین ابن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف قریشی اموی ہیں ان کانسب اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب عبدمناف میں مل جاتاہے ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابوعمروبیان کی ہے یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ پہلے ان کی کنیت ان کےبیٹے عبداللہ کے نام پررکھی گئی تھی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تھیں پھران کی کنیت ابوعمروہوگئی حضرت عثمان کی والدہ اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس عبداللہ بن عامرکی پھوپھی زاد بہن تھیں اور اروی کی والدہ بیضابنت عبدالمطلب تھیں جورسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی تھیں ذوالنورین انھیں کالقب ہے امیرالمومنین تھے یہ اول(زمانہ)اسلام میں اسلام لائے تھے ان  کوحضرت ابوبکر نے اسلام کی طرف بلایاتھا پس اسلام لے آئےیہ اسلام لانے والوں میں چوتھے شخص ہیں ہم کو ابوجعفرنے اپنی سندکو۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن عثمان رضی اللہ عنہ

 ثقفی ہیں ان کا شمار اہل حمص میں ہے ان سے عبدالرحمن بن ابی عوف نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ ایک سال ہونے کے پیشتر قبول کرتاہے (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن عامران رضی اللہ عنہ

 کا شماراہل شام میں ہے۔ان سے شریح بن عبیدنے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے تحفہ سے خوش ہوتےتھےتواس کونمازکاحکم فرماتےتھے۔ ان کا نام عطیہ ہی بیان کیاگیاہے اوربعض نے کہاہے کہ عقبہ بن عامر۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن عازب رضی اللہ عنہ

 بن عفیف نضری ہیں لوگوں نے ان کو صحابی کہاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے اورکہا ہے کہ اس کے سوامیں اورکچھ نہیں جانتاہوں اورحضرت عائشہ سے ان کا نام عفیف روایت کیاہے اس کو ابونضر نےبیان کرکے کہاہے کہ یہ صحابی تھے شام میں رہتےتھے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ

 بن ربیعہ ثقفی حجازی ہیں۔اوربعض نے ان کو سفیان بن عینیہ کہاہے۔ہم کو عبیداللہ بن احمدنے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسےانھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے عیسیٰ بن عبداللہ بن مالک سے انھوں نے عطیہ بن سفیان بن عبداللہ بن عبداللہ بن ربیعہ سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھےکہ ماہ رمضان میں ثقیف کاوفد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا تو آپ نے ان کےواسطے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرادیاجب وہ لوگ اسلام لائے توآپ کے ساتھ انھوں نےروزہ رکھامگرابن اسحاق نے یہ نہیں ذکرکیاہے کہ آپ نے ماہ رمضان کے ایام گذشتہ کی قضاکاان کوحکم دیااوراس کوزیادبکائی اورابراہیم بن مختار نے عیسیٰ بن عبداللہ سے نقل کرکے بیان کیاہے کہ علقمہ بن سفیان سے روایت کی گئی ہے اوربعض نے کہاہے کہ عطیہ سے روایت کی گئی ہے اورانھوں نے اپنے بعض وفد سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن سمین رضی اللہ عنہ

بن غباب تغلی ہیں مالک بن عدی بن زید کی اولاد سےتھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس وفد میں آئے تھےاورواقعہ قادسیہ میں(قبیلہ)تغلب اورنمراورایادپرسردارتھے اس کا ابن دباغ نے سیف بن عمرسے نقل کرکے بیان کیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن بسر رضی اللہ عنہ

مازنی ہیں عبداللہ بن بسرکے بھائی تھے۔شام میں رہتے تھے۔ہم کوابوالفضل یعنی منصور بن ابوالحسن مخزومی نے اپنی سند کوابویعلی موصلی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے کہ ابوطالب یعنی عبدالجبار بن عاصم نے کہاہے کہ ہم سے بقیہ بن عبدالولید نے معاویہ بن یحییٰ سے انھوں نے سلیمان بن موسیٰ سے انھوں نے مکحول سے انھوں نے غفیف بن حارث سے انھوں نے عطیہ بن بسر مازنی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے(ایک دن)عکاف بن وداعہ ہلالی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے توآپ نے فرمایاکیاتمھاری زوجہ ہےاورپوری حدیث بیان کی۔وہ عکاف بن وداعہ ہلالی کے تذکرہ میں بیان ہوگی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید