پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

سیّدناعتیک ابن تیہان رضی اللہ عنہ

 یہ ابوہیثم ہیں تیہان کے بھائی تھے انصاری اوسی اشہلی ہیں اس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخرین نے ان کانام عتیک بیان کیاہے اورمیرے نسخہ میں عتید ہے اور وہ زہری اورابن اسحاق سے روایت کیاگیاہے ابوعمرنے کہاہے کہ ان کا نام عتیک بن تیہان ہے اوران کا نام عبیدبھی بیان کیاجاتاہےاورابوعمرنے یہ بھی کہاہے کہ ہم نے اس کوبھی ذکرکیاہے جس نے عبیدکے نام میں کہاہے کہ وہ غزوہ بدرمیں شریک تھے اور غزوۂ احد میں شہید ہوئے بعض نے کہاہے کہ صفین میں شہیدہوئے ابن ہشام نےکہاہے کہ یہ تیہمان کہے جاتے ہیں اورتیہان بھی کہے جاتے ہیں ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتیقہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ

  ان سے عبداللہ بن صفوان نے روایت کی ہے اور ان کی (روایت کردہ)حدیث صحیح نہیں ہے بخاری نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے مگران کی کوئی حدیث نہیں بیان  کی ان کا تذکرہ ابن مندہ نے مختصرلکھاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتیقہ ابن حارث رضی اللہ عنہ

   انصاری ہیں ۔مکحول نے عبداللہ بن عمرسے روایت کی ہے کہ ایک روزہم لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ یکایک عتیقہ بن حارث آئے اور کہاکہ اس وقت مجھ اچھا موقع ملاہے چاہتاہوں کہ آپ سے چند باتیں پوچھوں آپ نے فرمایاجوچاہے پوچھوانھوں نے کہا یارسول اللہ جوشخص اپنی گردن میں فی سبیل اللہ تلوارلٹکائے (یعنی جہادکرے)تو اس کو کیا(ثواب) ہے آپ نے فرمایا کہ اس کے واسطے جنت کے ہاروں میں سے ایک ہارہوگا(جو)موتی اوریاقوت اور زبرجد(کا)ہوگا۔پھرانھوں نے کہایارسول اللہ جس نے نیزے کوفی سبیل اللہ پاؤں اوررکاب کے درمیان میں رکھااس کے واسطے (قیامت میں)کیاہوگاآپ نے فرمایا اس کے واسطے قیامت کے دن ایک جھنڈاہوگاجس سے وہ شخص پہچاناجائے گاپھر کہایارسول اللہ جو شخص فی سبیل اللہ کمان کو اپنے کندھے پرلٹکائے اس کے واسطے (قیامت کے دن)کیاہوگاآپ نے فرمایا اس کے واسطے جنت کی چادروں میں سے ایک سبزچادرہوگی۔۔۔

مزید

سیّدناعتیق ابن قیس رضی اللہ عنہ

 ہم نے ان کا حال ان کے بیٹے حارث کے نام میں ذکرکیاہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتیر رضی اللہ عنہ

بدری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور آپ سے روایت بھی کی تھی ان سے سلیمان بن عبدالرحمن ازدی نے روایت کی ہے مستغفری نے ان کانام عثیربیان کیاہے میں نہیں جانتا ہوں کہ یہ وہی عتیرعذری ہیں جن کوہم بیان کریں گے یادوسرے شخص ہیں۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتریس رضی اللہ عنہ

ابن عرقوب جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے انھیں میں یہ بھی مذکورہیں۔ان سے طارق بن شہاب نے روایت کی ہے یہ عبداللہ بن مسعود کے شاگردوں میں سے تھےمگرصحابی ہونا ثابت نہیں ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتبہ رضی اللہ عنہ

یہ دوسرے شخص ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے انھوں نے ان کے اوردوسروں کے درمیان فرق ظاہر کیاہے اوران کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قبل ازنبوت آپ کی کیاکیفیت تھی۔آپ نے فرمایاکہ میری دایہ سعدبن بکرکی اولاد سے تھیں اور پوری حدیث بیان کی ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتبہ ابن نیاران رضی اللہ عنہ

 کورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعہ بن سیف کے پاس بھیجاتھااسودنے عروہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعہ بن سیف بن ذی یزن کے پاس یہ خط لکھاتھا ۱؎ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد من محمد رسول اللہ الٰی زرعتہ بن ذی یزن اذااتاکم رسلی فامرکم بہم خیراً معاذبن جبل وابن رواحد ومالک بن عبادہ وعتبہ بن نیاران کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ اس بیان میں کلام ہے کیوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے لوگوں سے فتح مکہ کے ۹ھ ہجری میں خط وکتابت کی تھی اور عبداللہ بن رواحہ ۸ھ ہجری واقعہ موتہ میں شہیدہوچکے تھےواللہ اعلم۔ ۱؎ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد محمد رسول اللہ کی طرف سے زرعہ بن ذی یزن کومعلوم ہو جب تمھارے پاس میرے قاصد پہنچیں تو میں تم کو ان کےساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم دیتاہوں (میرے قاصدوں کے نام یہ ہیں)معاذبن جبل ابن واحدمالک بن عباد و عتبہ۔۔۔

مزید

سیّدناعتبہ ابن ندر رضی اللہ عنہ

 اسلمی ہیں۔شام میں رہتے تھے ان سے علی بن رباح اور خالد بن معدان نے روایت کی ہے ہم کو یحییٰ بن محمود نے اپنی سند کو ابوبکربن ابی عاصم تک پہنچاکراجازتاًخبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابن مصفی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے بقیہ نےمسلمہ بن علی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے مجھ سے سعید بن ابی ایوب نے حارث بن یزید حضرمی سے انھوں نے علی بن رباح سے نقل کرکے بیان کیاکہ وہ کہتے تھے میں نے عتبہ بن ندرصحابی کو کہتےہوئے سنا کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرتھےآپ نے سورۂ طسم ۱؎پڑھی یہاں تک کہ حضرت موسیٰ کےبیان تک پہنچے (پھر)فرمایا کہ موسیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ جمیع الانبیاء وسلم نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت اورپیٹ بھرنے کے واسطے آٹھ برس مزدوری کی تھی یافرمایاکہ دس برس اس کوابن مندہ اورابونعیم نے بیان کیاہے۔ ابوعمرنے کہاکہ عتبہ بن ندرعتبہ بن عبدسلمی ہیں صحابی تھےان کا نام عتلہ تھانبی صلی الل۔۔۔

مزید

سیّدناعتبہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ

 ہذلی ہیں۔ان کا نسب ان کے بھائی عبداللہ بن مسعود کے تذکرہ میں گذرچکاہے ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی انھوں نے اپنے بھائی عبداللہ کے ساتھ حبشہ کی طرف دوبارہ ہجرت کی تھی اور مدینے میں بھی آئے تھے غزوہ احد اوراس کے بعد کے کل غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔زہری نے کہاہے کہ ہمارے نزدیک عبداللہ اپنے بھائی سے زیادہ دینی مسائل کونہ جانتے تھےلیکن یہ بہت جلدانتقال کرگئے تھے۔زہری سے یہ بھی منقول ہے کہ عبداللہ  اپنے بھائی سے زیادہ قدیم الصحبت اورقدیم الہجرت نہ تھے لیکن وہ عبداللہ سے پہلے انتقال کرگئے عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ  وہ کہتے تھے جب عبداللہ بن عتبہ کاانتقال ہواتوان کے بھائی عبداللہ ان کو رونے لگے بعض لوگوں نے ان سے کہاکہ کیاتم روتے ہوانھوں نے کہاکہ (اس میں تعجب ہی کیاعتبہ )میرےبھائی اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرے ساتھی تھے اور سوا عمربن خط۔۔۔

مزید