اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

محمد بن محمب بن سہل نیشاپوری

شیخ۔۔۔

مزید

نصر بن زیاد نیشاپوری

شیخ۔۔۔

مزید

عتبہ بن خسیمہ نیشاپوری

شیخ۔۔۔

مزید

سیّدناعبیدہ ابن جابر رضی اللہ عنہ

بن سلیم ہجیمی ہیں۔یہ اورنیزان کے والد دونوں صحابی تھے ہم ان کا تذکرہ لکھ چکے ہیں ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعبیدہ املوکی رضی اللہ عنہ

 ہیں بعض لوگ ان کوملیکی کہتے ہیں شامی تھے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آ نے فرمایاہے اہل قرآن قرآن کو تکیہ نہ بناؤ(یعنی اس کی تلاوت پر مداومت رکھواوراس کو یادرکھونہ کہ اس سے مانندسونے والوں کے غافل رہو)ان سے مہاجربن حبیب اورسعیدبن سوید نے روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ اورابوعمرنے لکھاہے مگرابوموسیٰ نے ان کو کہاہے کہ عبیدہ یاعبدہ ہیں۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن وہب رضی اللہ عنہ

 کنیت ان کی ابوعامرتھی اشعری ہیں غزوہ اوطاس کے واقعہ۸ھ میں شہیدہوئے بیان کیا گیاہے کہ دریدبن صمہ نے ان کوشہیدکیاتھامگریہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ درید(اس زمانہ میں) ایسے بوڑھے ہوچکے تھے کہ خود اپنی حفاظت سے معذورتھے وہ کیونکرکسی کو قتل کرسکتے تھے ان کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے مغفرت کی تھی۔اوران کانام عبیدرکھاتھاان سے ان کے بیٹے عامراوران کے بھتیجے ابوموسیٰ اشعری نے روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ باب الکنیت میں اس مقام سے زیادہ لکھاجائےگایہ اپنی کنیت (ابوعامر)کے ساتھ زیادہ مشہورتھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔میں کہتاہوں۔بعض علماء نے بیان کیاہے کہ لوگوں کا ان ابوعامرکے حق میں جوغزوہ اوطاس میں شہیدہوئےتھےیہ بیان کرناکہ وہ ابوموسٰی کے چچاتھےغلط ہے کیوں کہ ابوعامردوآدمیوں کی کنیت ہے ایک وہ جن کانام عبیدبن سلیم بن حضارہےجوابوموسیٰ کے چچاہیں اوروہی غزوۂ اوطاس میں شہیدہوئےتھے۔دوسرے و۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن نضیلہ رضی اللہ عنہ

 خزاعی ہیں کوفے میں رہتےتھے ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔اوزاعی نے ابوعبیہ سے جوسلیمان بن عبدالملک کے دربان تھےانھوں نے قاسم بن مخیمرہ سے انھوں نے عبیدبن نضلہ سے روایت کی ہے کہ ایک سال قحط کے زمانہ میں صحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ غلہ کانرخ مقررکردیجیے(بقال روزبروزگراں کرتے جاتے ہیں)حضرت نے فرمایانہیں (میں ایسانہیں کروں گا)اللہ تعالیٰ مجھ سے اس سال کی بابت سوال کرے گاجس میں تمھارے لیے کوئی ایسی بات کروں جس کاخدانے مجھےحکم نہیں دیابلکہ تم لوگ اللہ سے اس کے فضل کی دعامانگو۔ اورشعبہ نےمنصورسے انھوں نے ابراہیم بن عبیدبن نضیلہ سے انھوں نے مغیرہ بن شعبہ سے ان دونوں عورتوں کا قصہ روایت کیاہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کوخیمہ کاستون ماردیاتھا اور اس عورت کو مع اس کے پیٹ کے بچے کے قتل کرڈالاتھاپس اس روایت کی بناپریہ عبیدتابعی ہوں گےواللہ اعلم۔ان کا تذکرہ ابونعیم اوراب۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن معیہ رضی اللہ عنہ

   بعض نے ان کوعبیداللہ بن معیہ بیان کیاہے۔ان کاحال پہلے گذرچکاہے ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید رضی اللہ عنہ

ابن عبد۔ان کو مستغفری نے بیان کیاہے کہ ان سے عتبہ بن عبدنے روایت کی ہے یہ صحابی تھے۔ اسی طرح(عتبہ بن عبید نے)یہ بھی کہاہے کہ میں نے عبیدبن عبدکو(یہ بیان کرتے)سناکہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  کوفرماتے ہوئے سنا ہے کہ گھوڑوں کی پیشانی کے بال اور ان کے یالوں ۱؎ اور دموں کے بالوں کونہ کتراکرو کیوں کہ دمیں ان کے لیے پنکھے ہیں (جس سے وہ اپنے اوپر بیٹھے ہوئے چھوٹے جانوروں کو ہٹادیتے ہیں)اور یالین ان کے لیے سردی دورکرنے کے لیے پوشش ہیں اوران کی پیشانی کے بالوں میں خیروابستہ ہے اوریہ حدیث عتبہ بن عبد سے بھی روایت کی گئی وہ انشاءاللہ تعالیٰ اپنے موقع پربیان کی جائے گی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ ۱؎ یال  گھوڑے کی گردن کے بالوں کوکہتے ہیں۱۲۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

  یہ عبدالرحمن کے والد تھے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے منہال بن بحر نے حمادبن سائمہ سے انھوں نےابوسنان یعنی عیسیٰ بن سنان سے انھوں نے مغیرہ بن عبدالرحمن بن عبیدسے اورعبیدصحابی تھے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے اپنےداداسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے ایمان کی تین سو تینتیس (۳۳۳)شاخیں ہیں جس نے ایک شاخ کوبھی پوراکیاوہ جنت میں داخل ہوا۔لیکن ابوعمرنے ان کی نسبت بیان کیاہے کہ عبید صحابہ میں سے ہی جو ایک شخص تھے وہ یہی ہیں۔۔۔۔

مزید