اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

سیّدناعبدالرحمن ابن یزید بن عامر رضی اللہ عنہ

 بن حدیدہ انھوں نے اورنیز ان کے بھائی منذر بن یزید نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے یہ دونوں بہت بزرگ تھےاس کوغسانی نے عدوی پراستدراک کرنے کے لیے بیان کیا ہے۔۔۔۔

مزید

 سیّدناعبدالعزیز ابن سیف رضی اللہ عنہ

 بن ذی یزن حمیری ہیں ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےایک خط بھیجاتھا اس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے ابونعیم نے کہاہے کہ ان کوبعض متاخرین نے ذکرکیاہے مگرجن کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھاہے زرعہ بن سیف ابن ذی یزن تھے۔میں نہیں جانتاکہ کسی نے ان کا نام عبدالعزیزبیان کیاہومگرابونعیم نے نہ توان کی کوئی حدیث ذکرکی اورنہ کچھ ان کا بیان لکھا۔ ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کوابوعبداللہ یعنی ابن مندہ نے بیان کیا ہےاورکہاہے کہ ان عبدالعزیز کو رسول خدانے خط لکھاتھامگراس خط کی روایت میں کوئی سند نہیں بیان کی اسی وجہ سے ابونعیم نے ان کے قول کاانکارکیاہے اورکہاہے جن کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھاتھاوہ زرعہ بن سیف بن ذی یزن ہیں اورکہاہے کہ میں نہیں جانتاکہ کسی نے ابن مندہ کے سوا ان کا نام عبدالعزیز بیان کیا ہوابوعبداللہ بن مندہ نے ان (عبدالعزیز)کی حدیث (اہل)خراسان سے روایت کی ہے اورا۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالعزیز ابن سنجر رضی اللہ عنہ

بن جبیربن منبہ بن سعد بن عبداللہ بن مالک غافقی ہیں ان کا نام عبدالعزی تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالعزیزرکھا۔یہ مصرچلے گئے تھے۔اس کو ابوعبداللہ جیزی نے بیان کیاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالعزیز ابن بدر رضی اللہ عنہ

  بن زیدبن معاویہ بن خشان بن اسعدبن ودیعہ بن مبذول بن عثم بن ربعہ بن رشدان بن قیس بن جہنیہ ربعی ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد میں آئے تھے آپ نے فرمایا تمھاراکیانام ہے انھوں نے عرض کیاکہ(میرانام)عبدالعزٰی ہے۔پھرآپ نے ان کا نام عبدالعزیز رکھاابن کلبی نے ان کوقضاعہ کے نسب میں ذکرکیاہے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدرضا رضی اللہ عنہ

خولانی ہیں ان کی کنیت ابومکنف تھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خولان کے وفد میں آئے تھے (آپ نے)ایک خط ان کے واسطے معاذ کی طرف لکھ دیا(تھا)یہ اسکندریہ کے اطراف میں فروکش تھے ان کا صحابی ہونا یارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنامعلوم نہیں ہے۔اس کو ابوسعید بن یونس نے بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے مختصر لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمن ابن کعب رضی اللہ عنہ

۔ان کی کنیت ابولیلیٰ تھی انصاری مازنی ہیں۔مازن بن نجار کے خاندان سے تھے۔ابونعیم نے کہاہےکہ بعض لوگ ان کا نام عبداللہ بن کعب بیان کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں نہ جاسکنے کی وجہ سے رونے لگےتھے۔پس ان کے اوران کے ساتھیوں کے حق میں (یہ آیت)نازل ہوئی تولواواعینہم تفیض من الدمع حزناان لایجدواماینفقونان کاتذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ میں کہتاہوں کہ بعض علمانے ابونعیم کے اس قول کوذکرکرکے کہ بعض نے ان کا نام عبداللہ بیان کیا ہےاورکہاہے کہ یہ ابونعیم کی غلطی ہے کیوں کہ کسی عالم نے ابولیلیٰ کا نام عبداللہ نہیں بیان کیا بلکہ ان کا نام عبدالرحمن تھااور ان کے ایک بھائی تھےان کا نام عبداللہ تھا۔ابن کلبی نےعبدالرحمن اور عبداللہ فرزندان کعب کو بھائی بھائی لکھاہے اس سے ابونعیم کے قول کی تردید ہوگئی۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمن ابن یزید بن عامر رضی اللہ عنہ

 بن حدیدہ انھوں نے اورنیز ان کے بھائی منذر بن یزید نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے یہ دونوں بہت بزرگ تھےاس کوغسانی نے عدوی پراستدراک کرنے کے لیے بیان کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمن ابن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ

 بن عامر بن مجمع بن عطاف بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن مالک بن اوس انصاری مجمع کے بھائی ہیں۔ان کی والدہ جمیلہ بنت ثابت بن اقلح تھیں یہ  عاصم بن عمربن خطاب کے اخیانی بھائی تھے ان کی کنیت ابومحمد تھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہوئے تھےانھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔یہ اپنے چچامجمع بن جاریہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعیسیٰ بن مریم (موضع)لد۲؎ کےدروازہ پر دجال کوقتل کریں گے۔ابراہیم بن منذرنے بیان کیاہے کہ عبدالرحمن بن یزید بن جاریہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھےاس کو ابوعمرنے بیان کیا ہے ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کو مجمع کابھائی کہاہے اور یہ بھی ان دونوں کابیان ہے کہ محمد بن اسمعیل نے ان کو تابعین میں اور دوسروں نے صحابہ میں شمارکیاہے اور ان دونوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے انھوں نے قاسم ب۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمن رضی اللہ عنہ

ہندکے والد تھ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے ابراہیم بن سعدنے اپنی خالہ ہند سے انھوں نے اپنے والد عبدالرحمن سے روایت کی ہے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی تھی یہ اپنے بسترکی تہ میں ایک چھڑی رکھاکرتےتھے ان کے بیٹے بھانجے جب ان کےپاس آتے اور کوئی شخص ان میں سے حدیث بیان کرنےلگتا اور کہتاکہ فرمایارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تویہ اس پرچھڑی نکال لیتے اور کہتے کہ تجھ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت حدیث سے کیاتعلق۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمن ابن واثلہ رضی اللہ عنہ

 انصاری ہیں ان کو ابوعلی یعنی احمد بن عثمان اہری نے (اپنی کتاب)طوالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بیان میں ذکرکیاہے انھوں نے اپنی سند کے جعفربن محمد بن علی تک پہنچا کرکہاہے کہ جعفر نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداسے انھوں نے حضرت علی مرتضٰی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے حضرت معاذ کے یمن بھیجے جانے اور وہاں سے ان  کے لوٹنے کا تذکرہ کیا یہاں تک کہاکہ جب معاذ مدینہ سے دومنزل نکل گئے یکایک انھوں نے رات کی تاریکی میں ایک شخص کو پکارتے ہوئے سنا وہ کہتاتھاکہ اے محمد کے خدا معاذ بن جبل کو خبرپہنچادے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے مفارقت کی اورزمین کے نیچے استراحت کررہے ہیں (اس کوسن کر) معاذ نے اس کے پاس جاکرکہاتجھکوتیری ماں روئے (بتلا)توکون ہے۔(اس نے)کہامیں عبدالرحمن بن واثلہ انصاری ابوبکرصدیق کا پیغام معاذ بن جبل کےلیےلےکرجارہاہوں کہ ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔۔۔

مزید