پیر , 08 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 19 October,2026

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نعیم۔انصاری۔عاتکہ بنت نعیم کے بھائی ہیں۔صحابی ہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نعیم اشجعی۔یہ سفرخیبرمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رہبرتھے۔ان کاتذکرہ بغوی نے اسی طرح لکھا ہے مگران کی کوئی حدیث روایت نہیں کی۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نعمان بن بلدمہ بن خناس بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی۔ابن ہشام نے کہا ہے کہ بلدمہ کی بے کوضمہ اور بے کے بعد ذال منقوطہ ہے۔یہ عبداللہ ابوقتادہ کے چچازادبھائی تھے یہ عبداللہ بدرمیں اوراحد میں شریک تھے یہ ابن اسحاق اور ابوموسیٰ کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نضلہ بن مالک بن عجلان بن زید بن سالم بن عوف بن عمرو بن عوف بن خزرج انصاری خزرجی۔ بدر میں شریک تھے اوراحد کے دن شہید ہوئے۔یہ ابن کلبی کاقول ہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نضلہ کنانی۔فریابی نے سفیان ثوری سے انھوں نے عمربن سعید سے انھوں نے عثمان بن ابی سلیمان سے انھوں نے عبداللہ ابن فضلہ کنانی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اورحضرت ابوبکروعمر کی وفات ہوئی اس وقت تک مکہ کے بازار فروخت نہ کیے جاتے تھے۔اس کومعاویہ بن ہشام نے عمرسے انھوں نے عثمان سے انھوں نے نافع بن جبیر بن مطعم سے انھوں نے علقمہ بن فضلہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی ہے اور یہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نضلہ۔قبیلۂ بنی عدی بن کعب سے ہیں قریشی ہیں۔مہاجرین حبش سے ہیں۔عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے جن لوگوں نے حبش کی طرف حضرت جعفربن ابی طالب کے ساتھ ہجرت کی تھی ان میں عبداللہ بن نضلہ بھی تھے جوخاندان بنی عدی بن کعب سے تھے قریشی تھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے کہا ہے کہ یہ غلطی ہے علمأ مغازی نے خواہ زہری ہوں خواہ ابن اسحاق کسی نے اس بات میں اختلاف نہیں کیاکہ ان کا نام معمر بن  عبداللہ بن نضلہ ہے۔ان کا تذکرہ معمرکے نام ہیں انشاءاللہ تعالیٰ آئے گا۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن نضلہ۔کنیت ان کی ابوبرزہ ہے۔اسلمی ہیں۔ ان کے نام میں لوگوں میں اختلاف کیاہے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ عبداللہ کے ناموں میں کیاہے اورواقدی سے مروی ہے کہ ان کے بیٹے کہتے تھے کہ ان کا نام عبداللہ بن نضلہ ہے ابن شاہین نے کہاہے کہ ان کے بیٹے سے زیادہ ان کاعلم کسے ہوسکتاہے۔ہم عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ذکرکنیت کے باب میں بھی کریں گے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن ناشح۔حصرمی۔ان کاتذکرہ حسن بن سفیان نے صحابہ میں کیاہے۔اورابونعیم نے بیان کیاہے کہ یہ حمصی ہیں اور ان کا صحابی ہوناصحیح نہیں۔ہمیں ابوموسیٰ نے اجازۃً خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابویعلی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوعمرو بن حمدان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن سفیان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن مصفی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے محمد بن حزب نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ابوحیوہ نےسعید بن سنان سے انھوں نے شریح بن کسیب سے انھوں نے عبداللہ بن ناشح سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکے بیان کیاکہ آپ فرماتے تھے کہ میری امت میں لوطیہ ایک جماعت ہمیشہ قیامت تک رہے گی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ابواحمد عسکری نے کہاہے کہ بعض لوگوں کاقول ہے کہ ناشح حاکے ساتھ ہے اورمیں نے ایساہی ان لوگوں کے سامنے پڑھ کرسنایاہے کہ جو لوگ ان کے نام سے زیا۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی میسرہ اور بعض نے ان کوفقط میسرہ بیان کیاہے یہ بیٹے ہیں عوف بن سباق بن عبدالدار بن قصی کے۔یہ حضرت عثمان ابن عفان کے ساتھ واقعہ وار کے دن مقتول ہوئے۔ان کوعدوی نے ذکرکیاہے مگران کے صحابی ہونے میں اوران کی روایت میں اختلاف ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے۔ابن کلبی نے بیان کیاہے کہ بنی سباق وہ لوگ ہیں جنھوں نے پہلے مکہ میں بغاوت کی تھی پس انھوں نے قریش کے بہت سے لوگوں کوہلاک کردیاتھا۔قبیلۂ بنی سباق کے کل آدمی سو؟ان اہل بیت ؟کے جویمن میں مخالفت میں پڑگئے تھے۔۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن منیب۔ازدی۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً اپنی سند کے ساتھ ابن ابی عاصم تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابراہیم بن محمد بن یوسف قربانی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے عمروبن بکیر نےبیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے حارث بن عبیدہ بن رباح غسانی نے اپنے والد عبیدہ سے انھوں نے منیب بن عبداللہ ازدی سےانھوں نے عبداللہ بن منیب سےروایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کل یومہ ھوفی شانپس ہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ یہ شان کیاہے توآپ نےجواب دیا (وہ یہ ہے کہ) گناہوں کو معاف کرتاہے اور سختی تکلیف کودورکرتاہے اور کسی قوم کوعزت دیتاہے اور کسی قوم کو پستی میں ڈالتا ہے ۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید