ابو خالدان کی کنیّت تھی۔ طبرانی نے اِن کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابو موسیٰ نے اجازتاً ابو غالب سے، انہوں نے ابو بکر سے۔ ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ انہیں حسن نے، انہیں احمد نے ان دونوں کو سلیمان بن احمد نے، انہیں عبد اللہ بن محمد بن شعیب رجانی نے انہیں محمد بن معمر البحرانی نے، انہیں روح بن عبادہ نے انہیں جریج بن زیاد نے انہیں خالد بن معدان نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اس لیے نرمی اور مہربانی کو پسند کرتا ہے اور نرم مزاج آدمی کو اس طرح اعانت کرتا ہے کہ سخت مزاج آدمی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ جب تم ان بے زبان جانوروں پر سواری کرو۔ تو مناسب مقامات پر رات بسر کو۔ اور اگر زمین پر قحط پڑا ہوا ہے۔ تو اس کے دفعیہ کے لیے دعا کرو۔ کیونکہ زمین رات کے وقت ایسی چیزوں کو چھپاتی ہے جو ۔۔۔
مزید
بن حارث بن لحی بن شرجیل بن حارث الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہُوئے تھے۔ یہ ہشام بن کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن رفاعہ: ابو رمثہ ان کی کنیت ہے۔ یحییٰ بن مندہ نے ابو العباس احمد بن حسن نصیری حاکم ابو عبد اللہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اس کے علاوہ اوروں کا بھی یہی خیال ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن شراجیل بن شیطان بن خدیج بن امرء القیس بن حارث بن معاویہ الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ ابن الکلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قیس: ان کا عرف اشعث الکندی تھا۔ ہم اس سے پہلے ان کا ذکر اشعث مستوفی اور ان کے بھائی سیف کے ترجمے میں آئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ نیز عسکر یعنی علی بن سعید اور جعفر المستغفری نے عمر بن موسی سے، انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے معدی کرب سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے کسی کو آزاد کیا یا طلاق دی اور بعد میں استثنا کا ذکر کردیا۔ تو اس کے استثنا کو قبول کرلیا جائے گا۔ عسکری نے یحییٰ بن عبد الاعظم سے روایت کی ہے۔ ابو موسیٰ کا قول ہے کہ یہ صاحب مقدام بن معدی کرب ہیں، لیکن مَیں یہ نہیں بتاسکتا کہ آیا یہ صاحب اور ان سے پیشتر مذکور آدمی دونوں ایک ہیں یا نہ، واللہ اعلم ۔۔۔
مزید
بن علاط سلمی: حجاج بن علاط کے بھائی ہیں۔ ان کا نسب ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان ہوچکا ہے۔ ان کی والدہ ام شیبہ بنتِ طلحہ تھیں۔ معرض معرکۂ جمل میں مارے گئے تھے: ابو عمر کی یہی رائے ہے ارباب سیرو تاریخ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن مبارک نے بھی ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ معرض معرکۂ جمل میں مارے گئے تھے۔ ان کے بھائی حجاج نے ان کی موت پر ذیل کا شعر کہا۔ وَلَمْ اَوَیَوْمَا کَانَ اکثر سَاعِیْاً بِکَفِّ شِمَالٍ فَارَقتھا یَمْنُھَا ترجمہ: مَیں نے کوئی ایسا دن نہیں دیکھا۔ جِس میں اس نے بائیں ہاتھ سے، بغیر دائیں کے اتنی محنت کی ہو۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیاہے۔ جناب حجاج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدح میں کئی اشعار کہے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
بن معیقیب یمامی: شاصویہ بن عبید ابو محمد یمامی نے ان سے حدیث روایت کی ہے، شاصویہ نے معرض بن عبد اللہ بن معرض بن معیقیب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی ہے کہ وہ حجتہ الوداع میں شامل تھے۔ مکہ میں ایک مکان میں داخل ہوئے۔ وہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ اور آپ کا چہرہ مبارک چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اس سے عجیب تر جو چیز مشاہدہ کی وہ یہ تھی کہ اہلِ یمامہ کا ایک آدمی ایک بچے کو کپڑے میں لپیٹے ہوئے لایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے دریافت کیا۔ کیا تم[۱] جانتے ہو کہ مَیں کون ہوں۔ بچّے نے کہا، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور نے فرمایا، تو نے درست کہا۔ اللہ تجھے برکت دے اس کے بعد وہ بچہ جوانی تک خاموش رہا۔ لوگ اسے مبارک الیمامہ کہتے تھے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [۱۔ حدیث اس بے مخدوش ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے سے پوچھنے کی کیا ضرورت۔۔۔
مزید
بن یزید: ان کی کنیت ابو یزید تھی۔ اہل کوفہ سے تھے۔ انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا۔ حضرت عثمان کے عہد میں آذر بائیجان میں مارے گئے تھے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سیّدنا معقل رضی اللہ عنہ بن سنان بن مظہر بن عرکی بن فتیان بن سبیع بن بکر بن اشجع بن ریث بن غطفان الاشجعی: ان کی کنیت ابو عبد الرحمان ہے۔ بعض روایات میں ابو زید ابو سمنان اور ابو محمد بھی آئی ہے۔ فتح مکہ میں موجود تھے۔ مدینہ آ گئے اور پھر یہیں رہ گئے۔ فاضل اور متقی آدمی تھے۔ انہوں ہی نے بروع بنت واشق کی حدیث بیان کی۔ اسماعیل اور ابراہیم وغیرہ نے باسناد ہما محمد بن عیسی سے انہوں نے محمود بن غیلان سے انہوں نے زید بن حباب سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے علقمہ سے انہوں نے ابن مسعود سے روایت کی، کہ ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کہ ایک ایسے آدمی سے کتنا مہر وصول کیا جائے گا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہر بھی مقرر نہ کیا۔ اور اس سے زنا شوئی تعلقات بھی قائم نہ کیے اور وہ مرگیا۔ ابن مسعود نے فتوی دیا کہ اس پر مہر مثل کی ادائیگی فرض ہوگی۔جس میں کوئی کم۔۔۔
مزید