عارف ربانی زاہد سبحانی شیخ عارف ہیں جو شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ شیخ شیوخ العالم قدس اللہ سرہ العزیز نے شیخ عارف کو سیوستان اور اس کے حدود و اطراف میں بھیجا تھا اور بیعت کی اجازت دی تھی اور قصہ یوں ہوا کہ اوچہ اور ملتان کی طرف ایک بادشاہ تھا اور یہ عارف وہاں کی امامت کا معزز منصب رکھتے تھے یا اور کوئی باہمی تعلق رکھتے تھے الغرض ایک دفعہ بادشاہ نے سو اشرفیاں شیخ عارف کے ہاتھ شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں بھیجیں۔ شیخ عارف ان میں سے پچاس اشرفیاں تو اپنے پاس رکھ لیں اور پچاس شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں پیش کیں شیخ شیوخ العالم نے مسکرا کر فرمایا۔ عارف! تم نے خوب برادرانہ تقسیم کی۔ عارف نہایت شرمندہ ہوئے اور فوراً پچاس اشرفیاں نکال کر پیش کر دیں بلکہ اپنے پاس سے بھی کچھ اضافہ کیا اور نہایت عجز و انکسار کے ساتھ بیعت کی التما۔۔۔
مزید
آپ حضرت شاہ معروف چشتی قادری(خوشابی) کے کاملین خلیفوں اور اکابر سجادہ نشینوں سے تھے۔ جذب، عشق و محبت، سکر، حالت اور خوارق و کرامت میں بلند مقام اور اعلیٰ مرتبہ رکھتے تھے۔ چار سال کی عمر میں حضرت شاہ معروف چشتی کی نظر مبارک میں منظور ہوئے اور آپ پر سکر اور جذب کی حالت غالب ہوگئی۔ آپ کے والد صاحب میاں[1] منگو موضع بھلوال[2] میں سکونت رکھتے تھے۔ ایک بار حضرت شاہ معروف اس گاؤں میں تشریف لائے اور میاں منگو کے گھر میں رات رہے۔ تمام رات وُہ اُن کی خدمت میں حاضر رہے۔ اُس وقت شاہ سلیمان ابھی خوردسال تھے۔ اپنے گھر کے صحن میں کھیل رہے تھے۔ جب شاہ معروف کی نظر شاہ سلیمان کے جمالِ باکمال پر پڑی تو نہایت شفقت سے آپ کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا اور آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور میاں منگو کو فرمایا کہ یہ لڑکا ہماری امانت ہے اور یہ ایسا کامل مرد ہوگا کہ جہان اس کے فیض سے بہرہ ور ہوگا۔ جب شاہ معروف رخصت ہو کر۔۔۔
مزید