جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

انور

حضرت شیخ۔۔۔

مزید

حسین

حضرت شیخ۔۔۔

مزید

رزق اللہ

حضرت شیخ۔۔۔

مزید

حضرت محمد صالح اکبر آبادی

اکابرِ مشائخ قادریہ سے تھے۔ شیخ الشیوخ لقب تھا۔ جامع علوم و ظاہر و باطن تھے۔ سکر و جزب، عشق و محبّت، قناعت و صبر اور توکل و استغنا میں اپنے عہد میں ممتاز تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کی ذاتِ گرامی سے اخذِ فیض کیا۔ بقول صاحب مخبر الواصلین ۱۰۶۷ھ میں وفات پائی۔ مرشد الارشاد شیخ دوجہاں گشت سرور سالِ ترحیلش عیاں   پیرِ حق آگاہ صالح متقی!! زبدۂ دیں شاہ صالح متقی!! ۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمتہ اللہ علیہ

صورت و سیرت میں سلف کے آئینہ خلف کے فخر خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ ابراہیم ابن خواجہ نظام الدین ہیں۔ آپ کی والدہ محترمہ سیدہ تھیں اور رشتہ میں کاتب حروف کی پھوپھی لگتی تھیں۔ کاتب حروف اور اکثر ان اہل ارادت کا گمان ہے جو ان بزرگوار شیخ زادہ سے ملے ہیں کہ آپ سے کوئی صغیرہ و جود پزیر نہیں ہوئی۔ شیخ عزیز الدین کا باطن خدا تعالیٰ کی یاد سے معمور تھا اور ظاہر تبسم اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ رکھتے تھے۔ آپ کا دلِ مبارک مراقبہ اور ذکر خفی سے منور اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع تھا اور یہ سب باتیں اس برکت سے حاصل ہوئی تھیں کہ آپ نے حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور دستر خوان بچھنے کے وقت ہمیشہ حاضر رہتے تھے اگر کسی وقت خواجہ محمد اور خواجہ موسی جنہیں سلطان  المشائخ سے دستر خوان کی دعا پڑھنے کا عہدہ ملا تھا حاضر نہ ہوتے تو یہ بزر گزادے دستر خوان کی دعا پڑھتے اور جب تک آپ ۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمتہ اللہ علیہ

شیخ زادہ دلکشا والی ولایت والا خواجہ عزیز الملۃ والدین صوفی ہیں۔ ان بزرگوار کی والدہ محترمہ بی بی مستورہ شیخ شیوخ  العالم فرید الحق والدین قدس سرہ العزیز کی صاحبزادی ہیں۔ یہ شیخ زادے بے شمار فضائل اور انگنت معانی و لطائف رکھتے تھے اور حضرت سلطان المشائخ کے روح افزا ملفوظات سے ایک کتاب مرتب کی تھی جسے تحفۃ الابرار فی کرامت الاخیار کے نام سے آج تک شہرت حاصل ہے اور جو سلطان المشائخ کی نظر مبارک سے اکثر اوقات گزری ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سلطان المشائخ کے حضور میں دستر خوان بچھایا گیا تھا اور تمام حاضرین کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تھے۔ مولانا وجیہہ الدین پائلی ان شیخ زادے سے اونچی جگہ بیٹھ گیا۔ سلطان المشائخ نے دیکھا تو فرمایا۔ مولانا! جس طرح میں اس بات کو دوست نہیں رکھتا کہ کوئی مجعد متعمم سے بلند جگہ بیٹھے اسی طرح میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی متعمم میرے مخدوم زادوں سے اونچے مقام پر ۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمتہ اللہ علیہ

فخر زہاد جمال عباد  خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ ابو بکر مصلّے دار خاص ہیں جو اپنے زمانہ میں علم و تقوی اور ورع و احتیاط  میں لاثانی اور عدیم النظیر تھے۔ اور سلطان المشائخ کی قرابت کے شرف سے مشرف و ممتاز تھے۔ اس بزرگ نے سلطان المشائخ کے چند ملفوظات ایک جگہ مرتب کر کے ایک دیوان میں جمع کیے ہیں اور ان کا نام مجموع الفوائد رکھا ہے۔ اس تالیف میں آپ نے اپنا نام عبد العزیز ابن ابو بکر خواہر زادہ سلطان المشائخ لکھا ہے۔ سبحان اللہ سالہا سال گزر گئے ہیں یہ عزیز الوجود شخص راہ طریقت پر سیدھا چل رہا ہے اور پچپن سے بڑھاپے تک کسی فرض نماز کی تکبیر اولی فوت نہیں ہوئی ہے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ مسجدوں میں گشت لگاتے پھرتے اور جب تک اولی نہ پاتے نیت نہ باندھتے جب آپ عین عالم شباب میں قدم رکھا اور تعلیم و تعلم میں غلو کیا تو جو کچھ آپ حاصل کرتے تھے اسے عمل کے ساتھ مقرون کرتے تھے یعنی آپ کا علم عم۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن ابی عوف بن عویف رضی اللہ عنہ

ابن ابی عوف بن عویف بن مالک بن کیسان بن ثعلبہ بن عمرو بن لشکر بن علی بن مالک بن سعد بن نذیر بن قسر بن عبقر بن اثمار بن اراش بجلی۔ان کا نام عبد شمس تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں جب یہ گئے تو آپ نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔یہ کلبی کا قول ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عوف بن عبد عوف

ابن عوف بن عبدعوف بن حارث بن زہرہ ۔عبدالرحمٰن بن عوف کے بھائی ہیں ابن شاہین نے کہا ہے کہ یہ اور ان کے بھائی اسود فتح مکہ کے دن اسلام لائے تھے ان کا ایک گھر بھی مدینہ میں تھا۔زبیر نے کہا ہے کہ عبداللہ بن عوف نے ہجرت نہیں کی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عوف اشجع رضی اللہ عنہ

ابن عوف اشجع وقود میں سے ہیں۔بصرہ میں رہتے تھے یہ ابن شاہین کا قول ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔

مزید