پیر , 08 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 19 October,2026

سیدنا عبداللہ ابن عمیر خطمی رضی اللہ عنہ

ابن عمیر خطمی قبیلہ بنی خطمہ بن جشم بن ملک بن اوس انصاری اوسی خطمی ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے نابیناتھا مگر باوجود نابینا ہونے کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہادکرتے تھے۔بنی خطمہ کی مسجدمیں امامت انھی سے متعلق تھی۔جریر نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عبداللہ بن عمیر سے روایت کی ہے کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بنی خطمہ کا امام تھااورابومعاویہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے اورانھوں نے عدی بن عمیرہ سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سدینا عبداللہ ابن عمیر سدوسی رضی اللہ عنہ

ابن عمیر سدوسی۔صحابی ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گئے تھے۔عمروبن سفیان بن عبداللہ بن عمیرسدوسی نے اپنے والد سے انھوں نےان کےداداسے روایت کی ہے کہ وہ ایک ظرف رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لے آئے تھےجس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ دھویا تھااوراسی پانی میں کلی کی تھی اوردونوں ہاتھ دھوئے تھے پھرآپ نے اس ظرف کوبھردیا تھااورفرمایاتھا کہ راستے میں جہاں تم کو پانی ملے اس ظرف کو بھرلیاکرناپھرجب اپنے شہر میں پہونچنا تو ایک مقام پر اس پانی کو چھڑک لینا اور اس مقام کو مسجد بنالینا یہ کہتے تھے کہ ایساہی ہوا لوگوں نے اس مقام کو مسجد بنالیااور میں نے اس مسجد میں نماز پڑھائی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ

ابن عمیربن عدی بن امیہ بن خدارہ بن عوف بن حارث بن خزرج انصاری بالاتفاق غزوہ بدر میں شریک تھےابوعمرنے ان کانسب ایساہی بیان کیاہے مگرابن مندہ اورابونعیم نے ان کو خدری قرار دیا ہے قبیلہ بنی خدرہ بن عوف سے خدرہ اور خدارہ دونوں بھائی تھے اورابن ماکولا نے کہا کہ یہ عبداللہ کے بیٹے ہیں عمیر بن حارثہ بن ثعلبہ بن خلاص بن امیہ بن خدارہ کے عروہ اورابن شہاب اور ابن اسحاق نے بیان کیا ہےکہ یہ غزوہ بدر میں شریک تھےاور ابن مندہ نے کہا ہے کہ عروہ نے ان کو عبداللہ بن عرفطہ بیان کیاہےمگرہم نے جومغازی کتابوں میں دیکھاتومعلوم ہواکہ یہ قبیلہ خدارہ سے ہیں بزیادت الف نہ خدرہ سے یہی صحیح ہے مگر ابن مندہ نے جوعروہ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے دوسرےمقام پر ان کو عبداللہ بن عرفطہ لکھاہےتو شک نہیں کہ ابن مندہ کایہ خیال ہے کہ انھیں عبداللہ بن عدی کے والد کے نام بعض لوگوں نے عرفطہ بیان کیا ہے حالاں کہ یہ دو شخص ہیں دونوں ب۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمیر بن قتادہ لیثی رضی اللہ عنہ

ابن عمیربن قتادہ لیثی۔ابن شاہین نےان کا تذکرہ لکھا ہے۔ہمیں ابوموسیٰ نے اجازۃً ابوبکر بن حارث کی کتاب سے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابوحفص بن شاہین نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے حسین بن احمد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ابن ابی خثیمہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے جریربن عبدالحمید نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انھوں نے عبداللہ بن عمیر سے روایت کر کے بیان کیا کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد بھی کرتے تھے باوجودیکہ نابینا تھے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے اور کہا ہے کہ ابن شاہین نے ان تذکرہ اسی طرح لکھاہے ممکن ہےکہ یہ عبداللہ لیثی کے علاوہ کوئی دوسرے ہوں کیوں کہ بن خطمہ انصاری کا خاندان ہے اور انصار بنی لیث نہیں ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ قول ابوموسیٰ کا تھا ان عبداللہ بن عمیر خطمی کو ابن مندہ نے اسی طرح بیان کیاہے۔پس۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عمیرہ رضی اللہ عنہ

ابن عمیرہ۔بزیادت ہا۔زمانہ جاہلیت کوپایاتھا۔ان کا صحابی ہونا صحیح نہیں ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے روح نے شعبہ سے انھوں نے سماک بن حرب سے انھوں نے عبداللہ ابن عمیرہ سے روایت کی ہے جو زمانہ جاہلیت میں اعشی (شاعر)کوپکڑاکے چلتے تھے۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔اورامیرابونصر نے کہا ہے کہ ان کانام عبداللہ بن عمیرہ ہےبفتح عین ان کی حدیث اہل کوفہ سے مروی ہے۔انھوں نے جریر وغیرہ سے روایت کی ہے اور ان سے سماک بن حرب نے روایت کی ہے اور ابراہیم حربی نے کہا ہے کہ میں عبداللہ بن عمیر کو نہیں جانتا میں صرف عمیرہ بن زیاد کندی کوجانتا ہوں انھوں نے عبداللہ سے روایت کی ہے یہ عبداللہ ان کے بیٹے ہوں تو خیر ورنہ میں ان کو نہیں جانتا۔۔۔۔

مزید

سیدنا عبداللہ ابن عنبہ رضی اللہ عنہ

ابن عنبہ۔کنیت ان کی ابوعنبہ خولانی۔طبرانی نے معجم میں ان کا نام ذکرکیاہے۔ان کا شمار اہل شام میں ہے حمص میں رہتے تھے۔ان سے محمد بن زیاد الہانی نے اوربکربن زرعہ وغیرہ نے روایت کی ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسلام لے آئے تھے مگر آپ کو دیکھا نہ تھا اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےا حادیث سنی ہیں اور دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے۔جراح بن ملیح بہرانی نے بکر بن زرعہ خولانی سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے میں نے ابوعنبہ خولانی سے سنا وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں سے تھے جنھوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازپڑھی ہے اور زمانہ جاہلیت میں خون کا بھی استعمال کیا ہے وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے دین (کے باغ) میں پودے لگائے اور ان کو اپنی اطاعت کے کام میں لگایا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور اب۔۔۔

مزید

الشیخ ابراہیم بن مصطفی نورالدین رحمتہ اللہ علیہ

۔۔۔

مزید

علامہ ضیاءالدین قادری رحمتہ اللہ علیہ

۔۔۔

مزید

خواجہ موئد الدین انصاری رحمتہ اللہ علیہ

زہد و تقوی کی مجسم تصویر، عاشق درگاہ مولی، واقف رمز و مصلحت خواجہ  موئد الملۃ والدین انصاری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جنہوں نے با ختیار خود مصلحت اور دنیاوی امور سے دست برداری کی اور محبت پیر کے ساتھ موافقت برتی۔ اللہ اللہ آپ عجیب و غیرب روش رکھتے تھے جس روز سے سلطان کے غلاموں کی سلک میں داخل ہوئے مرتے دم تک کسی چیز کی طرف مشغول نہیں ہوئے اور کسی شخص کی طرف توجہ نہیں کی لیکن سادات کرام یعنی کاتب حروف کے چچاؤں کے ساتھ جو سلطان المشائخ کی قربت کے ساتھ مخصوص تھے بالخصوص جناب سید حسین رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ غایت درجہ  کا التفات رکھتے تھے اور ان کی محبت کی طرف منسوب تھے آپ کو ذوق سماع اور جگر سوز کر یہ بہت لاحق رہتا تھا اور اس بارہ میں خصوصیت کے ساتھ یاران اعلی میں مشہور و معروف تھے اور یہ سب کچھ اس بات کا نتیجہ تھا کہ آپ حضرت سلطان المشائخ کی نظر خاص کےے ساتھ ملحوظ تھے اور حضور کے لباس خاص ۔۔۔

مزید

سید المرسلین قطب الحق رحمتہ اللہ علیہ

سید با صفا جگر گوشۂ مصطفے حسن و ملاحت کی کان لطافت و ظرافت کے سر چشمے دریاے پیغمبری کے چمکدار موتی قصر حیدری کے شب چراغ گوہر سید السادات نبیرہ سید المرسلین قطب الحق والدین حسین ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے منجھلے چچا تھے یہ بزرگ علم و فضل و ایثار ظاہر و باطن کی طہارت اور لطافت طبع میں بے نظیر زمانہ تھے اور عقل کامل فراست وافر رکھتے تھے جب تک زندہ رہے مجردانہ زندگی بسر کی اور متعلقین و نیز تزویج کے تعلق سے مبرار ہے آپ نے سلطان المشائخ کے خلیفہ مولانا فخر الدین زرادی کی خدمت میں علوم دینی کی تحصیل کی اور ہمیشہ مکان کا دروازہ کھلا رکھا جو شخص چاہتا بلا تامل آپ کے مکان میں چلا آتا اور غریب الوطنوں اور حاجتمندوں اور شہر کے باشندوں کو آمد و رفت کرنے سے کوئی مانع و مزاحم نہ ہوتا کیونکہ آپ کے مکان پر کوئی چوبدار اور دربان مقرر نہ تھا حتی کہ لوگ اس مقام تک بڑی جرأت و دلیری سے چلے جاتے ت۔۔۔

مزید