ابن عمرو حمجی۔مدنی۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہی کہ آپ اپنی موچھیں اور ناخون جمعہ کے دن ترشواتے تھے اس کی سند میں کچھ کلام ہے۔ ان سے ابراہیم بن قدامہ نے روایت کی ہے۔ان کا شمار اہل شام میں ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن حرام بن ثعلبہ بن حرام بن کعب بن غنم بن سلمہ بن سعد بن علی بن اسد بن ساردہ بن یزیدبن جشم بن خزرج انصاری خزرجی سلمی۔ان کی کنیت ابوجابر ہے بوجہ اسکے کہ جابر بن عبداللہ ان کے بیٹے تھے۔یہ عبداللہ بیعت عقبہ میں شریک تھےاور غزوہ بدرمیں بھی شریک تھے اور بنی سلمہ کے نقیب تھے یہ بھی اور براء بن معرور بھی۔ان کو عروہ اور ابن شہاب اور موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ان لوگوں میں ذکرکیاہے جوبدراور احد میں شریک تھے اور احد میں شہید ہوئے ہمیں محمد بن محمد بن سرایا بن علی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں عبدالاول بن عیسیٰ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو منصور بن ابی عاصم یعنی فضیل ابن یحییٰ فضیلی نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی شیخ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم نے محمد بن سکندر سے سنا وہ کہتے تھے میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سناوہ کہتے تھے میرے والد احد کے ۔۔۔
مزید
ابن عمروبن حزم انصاری۔عمارہ بن عمرو بن حزم کے بھائی ہیں ان کا ذکر مغازی میں آتا ہے مگر ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمرو۔حضری۔بنی امیہ کے حلیف تھے۔واقدی نے کہا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے تھے۔انھوں نے حضرت عمربن خطاب سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصراً لکھاہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمروبن حلحلہ ۔ان کا ذکر لوگوں نے صحابہ میں کیا ہے مگر یہ غلطی ہے محمد بن عبداللہ بن عمرو بن حلحلہ نے اپنے والدسے اور رافع بن خدیج سے روایت کی ہے کہ یہ دونوں کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنااورمسواک کرنا ہربالغ پرواجب ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن عمروبن زید بن خمز بن عوشیاں بن عمرو بن مالک بن تیہان الہانی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے تھےحضرت نے ان کا نام پوچھاتو انھوں نے کہا عبدالزیٰ حضرت نے فرمایاتمھارانام عبداللہ ہے۔اس کوکلبی نے بیان کیا ہے۔۔۔۔
مزید
خواجہ رفیع الملۃ والدین سلطان المشائخ کے حقیقی بھانجے ہیں جو مکارم اخلاق کے ساتھ موصوف اور جناب سلطان المشائخ کی قربت و شفقت کے ساتھ مخصوص و معروف تھے اور بچپن کے زمانہ سے بڑھا پے تک سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائے ہوئے تھے۔ آپ سلطان المشائخ کی مہربانی و شفقت کی وجہ سے کلام ربانی کے حافظ ہوگئے تھے۔ سبحان اللہ اس شفقت و مہربانی کا کیا کہنا جو سلطان المشائخ کو آپ پر تھی کہ اگر کسی وقت یہ بزرگ کھانا کھاتے وقت دستر خوان پر نہ ہوتے تو سلطان المشائخ با وجود اس قدر بزرگوں کے ہوتے کھانے میں توقف کرتے اور ان بزرگ کے پہنچنے کا انتظار کرتے۔ آپ کے پاس جو تحفے اور ہدیئے آتے ان میں سے کافی حصہ آپ کو بھیجتے او راپنے تمام اقرباء کی فہرست میں اس بزرگ کااول نمبر رکھتے اور اپنے فرزندوں کی جگہ ظاہر و باطن میں آغوش محبت اور سایۂ عاطفت میں پرورش کرتے تھے ہر وقت انہیں دیکھ کر مسکراتے اور نہایت خن۔۔۔
مزید
مولانا فخرالدین مروزی افضل زہاد زینت عباد مولانا فخر الملہ والدین جمال ورع اور کمال تقوی سے آراستہ تھے اور قطع نظر اس کے کلام ربانی کے حافظ تھے آپ سلطان المشائخ کے مصاحبان قدیم اور مریدان سابق میں شمار کیے جاتے تھے آخر عمر میں سلطان المشائخ کی خدمت میں زندگی بسر کی اور غیاث پور تو طن اختیار کیا باوجود مبالغہ تقویٰ اور انتہا درجہ کی طہارت و تزکیہ کے ترک و تجرید میں بہت کوشش کی۔ آپ ہمیشہ کلام مجید کے لکھنے میں مصروف رہتے اور اختلاف خلق سے الگ زندگی بسر کرتے تھے عظمت و کرامت میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے اور مردانِ غیب سے ملاقات حاصل ت ھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں اپنا ایک واقعہ اس طرح بیان کرنے لگے کہ ایک دن مجھ پر پیاس کا غلبہ ہوا اور میرے پاس کوئی ایسا شخص نہ تھا جس سے پانی مانگوں۔ دفعۃً پانی کا بھرا ہوا ایک کوزہ غیب سے پیدا ہوا۔ میں نے اس کوزہ کو فوراً توڑ ڈالا سارا۔۔۔
مزید