کثرت علم اور نہایت ورع و تقوی کے ساتھ آراستہ تھے با وجود یکہ آپ علمی تبحر میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے لیکن کبھی قلم فتویٰ ہاتھ میں نہیں لیا گو آپ سب سے آخر سلطان المشائخ کی خدمت میں پہنچے لیکن حضور کی سعادت بخش نظروں کی برکت سے جملہ اوصاف میں یاران اعلیٰ میں موصوف ہوگئے تھے اور طریقہ سلف پر سماع کا اتباع کرتے تھے۔۔۔۔
مزید
ابن عمر و بن احوص۔ہمیں عبداللہ بن احمد خطیب نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں طراد بن محمد زینبی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں بلالی حفارنےحسین بن یحییٰ بن عباس سے انھوں نے حسن بن محمد بن صباح سے انھوں نے عبیدہ بن حمیدسے انھوں نے یزید بن ابی زیاد سے انھوں نے سلیمان بن عمرو بن احوص سے انھوں نے اپنی والدہ سے روایت کرکے خبردی کہ ہو کہتی تھیں میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرہ العقبہ کے پاس سواری پردیکھا آپ فرمارہے تھے کہ اے لوگو جو شخص حجرہ کو کنکر یاں مارے تو اسے چاہیے کہ خذف کی کنکریوں سے مارے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں کنکریاں دیکھیں پھر آپ نے کنکریاں ماریں اور سب لوگوں نے ماریں پھرآپ لوٹ گئے اس کے بعد ایک عورت اپنے لڑکے کو لے کر آئی اس لڑکے کو کچھ بیماری تھی پھراس عورت نے کہاکہ اے نبی اللہ میرا بیٹایہ ہے پس اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن بجزہ بن خلف بن صداد بن عبداللہ بن قرطہ بن عدی بن کعب قرشی عدوی۔فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ہم ان کی کوئی روایت نہیں جانتے۔ ان کا تذکرہ موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ان لوگوں میں کیاہے جو خاندان بنی عدی بن کعب سے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور ابومعشر نےکہا ہے کہ ان کا خاندان یمن میں ہے ان کے گھرانے کو بجرہ بن عبداللہ بن قرط نے قتینی بتایاتھا۔۔۔۔
مزید
آپ لاہور کے صاحبِ حال اور صاحب وجد صوفیا میں سے تھے آپ سیّد حیدر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے اور وہ شیر شاہ لاہوری کے خلیفہ تھے آپ ریشم کے کپڑے بنا کر گزر اوقات کرتے تھے اور ہر سال میں آپ سترہ عرس سالانہ کیا کرتے تھےجن میں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، عاشورہ مبارک، عرس حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ ، عرس حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ، عرس حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ اور عرس حضرت خواجہ علی احمد صابر رحمۃ اللہ علیہ ،منایا کرتے تھے۔ ان عرسوں پر بڑا پیسہ خرچ کرتے اور سماع کی مجالس قائم کرتے تھے آپ کے مریدوں میں آپ کی کرامات بڑی مشہور ہیں ہم اس مختصر سی کتاب میں وہ کرامات نہیں لکھ سکتے ہر رات تین بار غسل کرتے اور اللہ کی عبادت میں ساری رات گزار دیتے دنیا کی لذیذ سے چیزوں سے پرہیز کرتے بعض اوقات ح۔۔۔
مزید
شیخ علی الاطلاق قطب باتفاق، اسرر کے سر چشمہ، انوار کے مطلع، دنیا جہان کی شمع، بنی آدم کے بادشاہ نامدار شیخ الاسلام قطب الحق والدین بختیار اوشی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں۔ آپ جناب شیخ الاسلام معین الدین حسن سنجری کے مشہور اور نامور خلیفہ اور اکابر اولیاء کے سرتاج۔ اجلہ اصفیا کے مقتدا ہیں تمام اولیاء وقت اور اصفیاء عصر آپ کے معتقد و فرما نبردار تھے اور نہایت وقعت و قبول کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ’’ولِی معَ اللہ‘‘ کے شغل کے ساتھ موصوف اور ترک و تجرید کے ساتھ مخصوص تھے۔ آپ رجب المرجب کے مہینے ۵۲۲ ہجری میں شہر بغداد امام ابو اللیث سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ کے مسجد میں شیخ شہاب الدین سہروردی اور شیخ اوحد کرمانی اور شیخ برہان الدین چشتی اور شیخ محمد صفاہانی کے سامنے شیخ الاسلام شیخ معین الدین سنجری کی بیعت کے شرف سے ممتاز ہوئے اور آپ کے اعتقاد و ارادت کا حلقہ اطاعت کے کان می۔۔۔
مزید
عارفوں کے سلطان عاشقوں اور محقیقں کے تاج، اصحاب دین کے پیشوا، ارباب یقین کے مقتدا، عالمِ گمنامی و عزلت کے گوشہ نشین سِرّ دوست کے مخزن، اقلیم اعظم کے سردار اقطاب عالم کے قطب یعنی شیوخ العالم شیخ فرید الدین شکر بار مسعود گنج شکر اجودھنی چشتی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں جو فقر اور مساکین کے پناہ اور سلمان کے فرزند رشید ہیں اور جوابدی سعادت اور سرمدی دولت سے مالا مال ہیں۔ شیخ فرید الدین قدس سرہ اتقا و پرہیز گاری ورع و زہد، ترک دنیا تجرید عشق کا شوق اور کلام محبت کے اشارات و رموز میں بے نظیر زمانہ اور اپنے عہد و دولت مہد میں یگانہ تھے۔ میدانِ کرامت اور عالم دین کے سرداروں سے سبقت لے گئے تھے اور اپنی بے مثل شہرت میں مستثنیٰ اور ممتاز تھے۔ آپ شیخ الاسلام قطب الدین بختیار اوشی کے معزز خلیفہ تھے اور ان کے باجاہ و جلال اور عظمت و بزرگی کے دربار سے عام اور مطلق اجازت رکھتے تھے آپ ایسے عالی ہمت اور ۔۔۔
مزید
شاہ اہل تصوف مجرد ز آفت تکلف عالم باعمل عابد بے کسل تہجد گزار صائم الدہر والی حضرت متعالی شیخ الاسلام حمید الملتہ والدین سوالی انبیاء و مرسلین کے وارث ابو احمد سعید صوفی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں۔ یہ بزرگ شیخ الاسلام معین الدین حسن سنجری کے ممتاز خلیفہ اورشیخ الاسلام قطب الدین بختیار اوشی قدس اللہ سرہ العزیز کے ہم خرقہ ہیں۔ آپ حضرت خطۂ ناگور کے باشندے تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ جب یہ بزرگ شیخ معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے اور توبہ نصوح کی دولت سے مالا مال ہوئے تو لوگوں نے جبراً و قہراً آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ آپ اس بیعت کو فسخ کردیں اور برسرِ انکار ہوجائیں لیکن شیخ حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا اور صاف جواب دیا کہ جاؤ بیٹھو۔ میں نے اپنا ازار بند ایسا مضبوط و مستحکم باندھا ہے کہ کل بہشت کی حوروں کے سامنے بھی نہیں کھولوں گا سلط۔۔۔
مزید
بدر السالکین شمس العارفین محبت کے جنگل کے شیر مودت کے سر چشمے شیخ بدر الدین غزنوی ہیں۔ جو پسندیدہ احوال اور منتخب و برگزیدہ افعال رکھتے اور اپنے زمانے میں اہل سماع و عشق کے درمیان محتشم اور شیخ الاسلام جناب قطب الدین بختیار اوشی کے ممتاز و معزز خلیفہ تھے۔ مشائخ روزگار آپ کی بزرگی کے معترف و معتقد تھے آپ نہایت موثر لفظوں میں وعظ کہتے جس کا اثر سننے والوں پر بہت کچھ پڑتا۔ خلق خدا کو اپنی دل پذیر اور با اثر تقریر سے رشک میں ڈالتے اور دلوں کو راحت و آسائش پہنچاتے آپ بیشتر ادائے محبت میں تھے آپ کا نہایت قیمتی دیوان ہے جو عاشقانِ خدا کے لیے دستور العمل ہے۔ شیخ بدر الدین غزنوی کے غزنی سے لاہور اور پھر لاہور سے دہلی میں آنے اور شیخ لاسلام جناب قطب الدین بختیار قدس اللہ سرہما العزیز کی خدمت میں بیعت کرنے کا بیان حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ شیخ بدر الدین غزنوی کا بیان۔۔۔
مزید
اہل شریعت کے پیشوا اہل طریقت کے مقتدا اولیاء عرب میں توکل کے ساتھ گلاب کی طرح مشہور سر سے قدم تک تمام دل یعنی شیخ نجیب الدین متوکل قدس اللہ سرہ العزیز ہیں جو شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین کے خلیفہ اور بھائی تھے۔ یہ بزرگ عجیب و غریب معاملہ رکھتے تھے اور عجب طرز و روش کے آدمی تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ شیخ نجیب الدین متوکل باوجود یکہ ستر سال شہر میں مقیم رہے لیکن کوئی گاؤں کوئی وظیفہ پاس نہ رکھتے تھے اپنے فرزندوں اور متعلقین کے ساتھ توکل پر گزارا کرتے اور نہایت خوشی کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ میں نے شیخ نجیب الدین جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شیخ نجیب الدین نہایت بھولے اور دنیا سے بے خبر آدمی تھے۔ آپ بالکل نہ جانتے تھے کہ آج کون سا دن ہے اور یہ کون سا مہینہ اور یہ کس قدر درم ہیں۔ سلطان المشائخ نے۔۔۔
مزید
علم کے دریا تحمل و وقار کی کان تقوی سے آراستہورع سے پیراستہ مولانا شہاب الملۃ والدّین ہیں جو کثرت علم اور بے انتہا فضائل کے ساتھ مشہور تھے اوراکثر اوقات شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور اگر شیخ شیوخ العالم کی مجلس میں کوئی علمی بحث چھڑ جاتی تو آپ اس باب میں بحث شروع کرتے اور اس بحث کو نہایت دل آویز تقریر کے ساتھ تمام کرتے یہاں تک کہ شیخ شیوخ العالم کی تسلی ہوجاتی۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ مجھ میں اور مولانا شہاب الدین میں محبت کا طریقہ سلوک تھا اور یہ بھی فرماتے تھے کہ ایک دفعہ شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں بغیر اختیار و قصد کے مجھ سے ایک جرأت و دلیری ہوگئی تھی اور اس کا قصہ یہ ہے کہ ایک دن عوارف کا نسخہ شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں موجود تھا اور آپ اس میں سے کچھ فوائد بیان فرما رہے تھے وہ نسخہ نہایت باریک خط سے لکھا ہوا تھ۔۔۔
مزید