جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

سیّدنا علاثہ ابن صحار رضی اللہ عنہ

   سلیطی خارجہ بن صلت کے چچاہیں ابن ابی خیثمہ نے ابوعبیدیعنی قاسم بن سلام سے نقل کرکے ایساہی بیان کیاہے اس اختلاف کا ذکرعلاءبن صحارکے نام میں ہوچکاہے۔شعبی نے خارجہ بن صلت سے روایت کی ہے کہ ان کے چچانبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئےجب لوٹ کر اپنے وطن جانے لگے توان کا گذرایک اعرابی پرہوا جومجنون ہوگیاتھااورزنجیروں میں جکڑاہواتھا لوگوں نے ان سے کہاکہ کیاآپ کے پاس کوئی چیز ایسی ہے جس سے اس مجنون کی دواکریں آپ کے نبی توبہت فائدہ کی چیزیں لائے ہیں انھوں نے کہا پھرکہتےتھے کہ میں نےاس پر سورۂ فاتحہ پڑھکرتین روزدم کی ہرروزدومرتبہ پڑھتاتھا پس وہ مجنون اچھاہوگیاتوان لوگوں نے مجھ کو سوبکریاں دیں مگر میں نے ان کو نہ لیایہاں تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اورمیں نے آپ سے بیان کیاآپ نے فرمایاتم نے اس کے سوااورکچھ بھی کہاتھامیں نے عرض کیاکہ نہیں آپ نے فرمایا۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن یزید رضی اللہ عنہ

بن انیس فہری۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھااورمصرمیں بعد اس کے فتح ہونے کے گئےتھے ان کی اولاد بھی مصرہی میں ہے۔ابوالحارث یعنی احمد بن سعید فہری کے داداتھے۔ یہ ابوسعید بن یونس کاقول تھا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن وہب رضی اللہ عنہ

   بن محمد بن وہبان بن خباب بن حجیربن عبدبن مغیص بن عامربن لوی فتح قادسیہ میں شریک تھے حضرت عثمان نے حضرت معاویہ کولکھاتھاکہ ان کوجزیرہ کاعامل بنادو چنانچہ انھوں نے بنادیاتھا۔انھوں نے زمینب بنت عقبہ بن ابی معیط سے نکاح کیاتھا۔فتح مکہ کے نومسلموں میں سے تھےمقام رقہ میں کچھ دنوں حاکم رہےتھے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔مگران کو ابوعروبہ اورابوعلی بن سعید نے جزریوں کی تاریخ میں ذکرنہیں کیاحالانکہ وہ دونوں فن حدیث میں جزریوں کے امام ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن مسروح رضی اللہ عنہ

   حجازی۔عمروبن تمیم بن عویم نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ میری بہن ملیکہ اوردوسرے قبیلہ کی ایک عورت جس کانام ام عفیف بنت مسروح تھاہمارے قبیلہ کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں اس شخص کانام حمل بن مالک بن نابغہ تھااس کے بعدپوری حدیث ذکرکی جس میں یہ مضمون بھی تھا کہ علاء بن مسروح نے عرض کیاکہ یارسول اللہ کیاہم اس بچہ کی دیت بھی دیں جس نے نہ کچھ پیاہونہ بولاہونہ رویاہوکیاایسے بچہ کی دیت بھی آئے گی تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےکہاکہ تم توایسی مقفیٰ عبارت بولتے ہو جیسی زمانہ جاہلیت میں بولی جاتی تھی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  انصاری صحابی ہیں۔حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن عقبہ رضی اللہ عنہ

  ۔انھوں نے (کچھ دنوں)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خط وکتابت کاکام کیاہے۔ان کا ذکرعمروبن حزم کی حدیث میں ہے ان کو جعفر نے ذکرکیاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء رضی اللہ عنہ

  بعض لوگ ان کا نام علاثہ بیان کرتے ہیں بیٹےتھے صحارسلیطی کے قبیلۂ بنی سلیط سے نام کعب بن حارث بن یربوع تھاتمیمی سلیطی تھے۔یہ علاء خارجہ بن صلت کے چچاتھے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ ابن ابی خیثمہ نے بیان کیاہے کہ مجھ سے ان کا نام ابوعبیدقاسم بن سلام سے نقل کرکے بیان کیاگیاہے۔اورمستغفری نے بیان کیاہے کہ ان کاعلاقہ بن شجارتھایہی قول علی بن مدینی کاہے یعنی یہ وہی سلیطی ہیں جن سے حسن نے روایت کی ہےاوربعض لوگ ان کو ابن سجاعہ کہتےہیں اورنیز انھوں نے ابن ابی خیثمہ سے انھوں نے ابوعبیدسے نقل کیاہے کہ خلیفہ نے بیان کیا کہ خارجہ کے چچاکانام عبداللہ بن عثام بن عبدقیس بن خفاف تھاقبیلہ بنی حنظلہ کے خاندان براجم سے تھےاورنیز ظلیفہ سے منقول ہے کہ انھوں نے کہاان کانام علاثہ بن شجارتھاابویعلی نسفی  کے قلم کالکھا ہواایساہی ہے اوربردعی نے بھی ان کو ابن شجاربیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابن۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن سعد رضی اللہ عنہ

   ساعدی۔ان سے ان کے بیٹے عبدالرحمٰن نے روایت کی ہے کہ وہ  ان لوگوں میں تھے جنھوں نے فتح مکہ کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔عطاء بن یزیدبن مسعود نے جوقبیلہ بنی حبلیٰ میں سےتھے سلیمان بن عمروبن ربیع بن سالم سے انھوں نے عبدالرحمن بن علاء سے جوقبیلہ بنی ساعدہ میں سے تھے انھوں نے اپنے والدعلاء بن سعدسے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے اصحاب سے فرمایاکہ کیاتم لوگ بھی سنتے ہوجومیں سن رہا ہوں صحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ آپ کیاسنتے ہیں فرمایاآسمان سے چرچراہٹ کی آواز آتی ہے اورآنا بھی چاہیے کیوں کہ اس میں پیررکھنے کی جگہ بھی ایسی نہیں ہےجہاں کوئی فرشتہ قیام یا رکوع یا سجود میں نہ ہو پھرآپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔۱؎ وانا لنحن الصافون وانا لنحن المسبحون۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎ترجمہ اوربیشک یقیناً ہم صف باندھن۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن سبع رضی اللہ عنہ

   صحابی ہیں مگران کے صحابی ہونے میں کلام کیاگیاہے ان سے سائب بن یزید نے روایت کی ہے اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کانام علاء بن حضرمی ہے یہ ابوعمرکاقول ہے اورابوموسیٰ نے کہا ہےکہ ان کا نام علاء بن سبع ہے صحابی ہیں۔ان دونوں نے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن خباب رضی اللہ عنہ

   کوفہ میں رہتےتھےان سے ان کے بیٹے عبداللہ اورعبدالرحمٰن بن عابس نے روایت کی ہے سماک بن حرب نے عبداللہ بن علاء سے انھوں نے اپنےوالدسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدارہوئےتوفرمایا۱؎کہ اگراللہ چاہتاتوہمیں(وقت پر)بیدارکردیتا مگراس نے چاہا کہ تمھارےبعدوالوں کے لئے یہ کام ہوجائے۔ان کی حدیث لہسن کے کھانے کہ بابت بھی ہے۔ ابوعمرنے کہاہے کہ لوگوں نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے مگرمیں خیال کرتاہوں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنااورابواحمد عسکری نے کہاہے کہ ان کا نام علاء بن خباب ہے اوربعض لوگ ان کوعلاء بن  عبداللہ بن خباب کہتےہیں۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎واقعہ شب تعریس کاہے کہ اس دن تمام صحابہ سفرکی تکلیف میں ایسے خستہ ہوگئےتھے کہ نمازفجر قضاہوگئی سب بعد طلوع آفتاب بیدارہوئے حتی کہ خود سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی حالت ہوئی۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد۔۔۔

مزید