جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

سیّدنا علاء ابن حضرمی رضی اللہ عنہ

  ۔حضرمی کانام عبداللہ بن عبادبن اکرین ربیعہ بن مالک بن عویف بن مالک بن خزرج ابن ابی صدف تھااوربعض لوگوں نے ان کانام عبداللہ بن عماربیان کیاہے اوربعض نے عبداللہ بن ضماراوربعض نے عبداللہ بن عبیدہ بن ضماربن مالک۔دارقطنی نے کہاہے کہ املوکی نے بیان کیاہے کہ صحیح نام عبداللہ بن عبادتھااس میں تصحیف ہوگئی ہے۔سب لوگوں کا اس بات پراتفاق ہے کہ قبیلۂ حضرموت سے تھےاورحرب بن امیہ کے حلیف تھے۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کا حاکم مقررکیاتھاجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات ہوئی تویہ وہیں تھے حضرت ابوبکرنے اپنی خلافت میں ان کو قائم رکھاپھرحضرت عمرنے بھی قائم رکھا۔پھرحضرت عمرکی خلافت میں۱۴ھ؁ ہجری میں ان کی وفات ہوئی اوربعض لوگ کہتے ہیں ۲۱ھ؁ ہجری میں جبکہ وہ بحرین کے عامل تھے ان کے بعد حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ کو بحرین کا عامل مقررکیا۔یہ علاء بن حضرمی وہی ہیں جن کا ایک بھائی عامر۔۔۔

مزید

سیّدنا علاء ابن حارثہ رضی اللہ عنہ

   بن عبداللہ بن ابی سلمہ بن عبدالعزی بن غیرہ بن عوف بن ثقیف۔سرداران ثقیف میں سے تھےمولفتہ القلوب میں سے ایک شخص تھے۔بنی زہرہ کے حلیف تھے۔ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی غنیمت سے سواونٹ دئیے تھے۔ابواحمدعسکری نے ان کے والد کانام جاریہ اوربعض لوگوں نے خارجہ بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابن معاذ رضی اللہ عنہ

  ۔قریشی تیمی ہیں یا(ان کانام)معاذبن عثمان ہے۔ان کی (روایت کردہ)حدیث ابن عینیہ نے اسی طرح حمید بن قیس سے انھوں نےمحمدبن ابراہیم بن حارث تیمی سے انھوں نے اپنی قوم بنی تیم کے ایک شخص سےجوعثمان بن معاذیامعاذ ابن عثمان کہے جاتےتھےنقل کرکے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتےہوئے سنا کہ تم لوگ رمی جمارکیاکرو چھوٹی کنکریوں سے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنےلکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابن مظعون رضی اللہ عنہ

   بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح بن عمروبن ہصیص بن کعب بن لوی بن غالب قریشی جمحی ہیں ۔ان کی کنیت ابوسائب تھی۔سخیلہ بنت عنبس بن اہیان بن حذافہ بن جمح ان کی والدہ تھیں اوریہی سائب بن مظعون اورعبداللہ بن مظعون کی والدہ تھیں یہ عثمان اول(زمانہ) اسلام (میں)اسلام لائے تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ عثمان بن مظعون تیرہ آدمیوں کے بعد اسلام لائے تھے انھوں نے اوران کےبیٹے سائب نے مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ حبش کی طرف ہجرت کی تھی یہ پہلی ہجرت تھی۔عثمان حبش ہی میں تھے کہ ان کوخبرپہنچی کہ قریش اسلام لے آئے پس یہ واپس چلے آئے۔ہم کوابوجعفر بن سمین نے اپنی سندکویونس بن بکیرتک پہنچاکر ابن اسحاق سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے جب ان لوگوں کوجوکہ حبش میں تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اہل مکہ۱؎کے سجدہ کرنے کی خبرپہنچی تووہ لوگ وہاں سے چل نکلے اوران کے ساتھ اورلوگ بھی تھےاورخیال یہ کرتے تھےک۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابن محمد رضی اللہ عنہ

 بن طلحہ بن عبیداللہ تیمی ہیں ابن ابی علی نے ان کوصحابہ میں بیان کیاہے ہم کوبن ابی بکر نے کتابتاً خبردی وہ کہتے تھےہم سے سعیدبن ابی رجاء نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم کو احمد بن فضل مقری نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد ابن اسحاق نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن محمد بن حارث نے بیان کیاوہ کہتےتھےہمیں صالح بن احمدابن ابی مقاتل نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عمار بن خالدنےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسد بن عمرونے (امام اعظم)ابوحنیفہ(یعنی نعمان بن ثابت) سے انھوں نےمحمد بن منکدر سے انھوں نے عثمان بن محمد بن طلحہ بن عبیداللہ سے نقل کرکے بیان کیا وہ کہتےتھےہم شکارکے گوشت کاذکرکررہےتھےجس کوغیرمحرم نے شکارکیاہوکہ آیا اس کواحرام والے کھاسکتے ہیں(اس وقت)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم خواب استراحت فرمارہے تھے۔یہاں تک کہ (اسی ذکرمیں)ہم لوگوں کی آوازیں بلندہوگئیں آپ بیدارہوئے اورفرمایاکس چیز میں جھگڑتے ہو ۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابی قیس رضی اللہ عنہ

   بن ابی العاص بن قیس بن عدی سہمی ہیں یہ اپنے والدکے ساتھ فتح مصر میں شریک تھے اس کوابوسعیدبن یونس نے کہاہے۔لیث بن سعد نے یزیدبن ابی حبیب سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ)عمروبن عاص کے پاس لکھاکہ جن لوگوں نے تحت الشجرہ بیعت کی ہے جوتمھارے سامنے موجودہیں ہرایک کودوسو(درہم مشاہرہ)وظیفہ دیا کرو۔اوروہی اپنےاور اپنےعزیزوں کے واسطے مقررکرو اورخارجہ بن حذافہ کوان کے شجاعت کے سبب سے(وہی)مقررکرو۔اورعثمان بن قیس کوشرف مہمان نوازی کے سبب سے(وہی)مقرر کرو۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  ۔(حضرت)انس کی (روایت کردہ)حدیث میں ذکرہے(اور)اس (حدیث)کوکثیر بن سلیم نے انس بن مالک سے روایت کیاہے۔حضرت انس کہتےتھے کہ عثمان بن عمرو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے۔یہ اپنی قوم کے امام تھے اوربدری تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم اپنی قوم کے ساتھ نمازپڑھاکرو توبہت طول نہ دیاکرو کیوں کہ اس میں بوڑھے اورکمزوراورحاجتمند لوگ(ہوتے)ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اوران دونوں نےکہاہے کہ اسی طرح یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔اورکہاگیاہے کہ یہ عثمان بن عمروہیں اوربدری تھے۔اوریہ حدیث عثمان بن ابی العاص ثقفی (کی روایت)سے مشہورہے۔یہ بدری نہ تھے ثقیف کے وفد کے ساتھ اسلام لائے تھے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  انصاری ان کوابوالقاسم طبرانی نے معجم میں بیان کیاہے۔ابونعیم نے کہاہے کہ یہ میرے نزدیک نعمان بن عمروبن رفاعہ ہیں اورانھوں نے وہ حدیث روایت کی ہے جوہم سے ابوموسیٰ نے کتابتہً بیان کی وہ کہتےتھے ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے محمد بن عمرو بن خالد حرانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ہمارے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابن لہیعہ نے ابوالاسود سے انھوں نے عروہ سے ان انصار کے نام میں جوغزوۂ بدرمیں شریک تھے عثمان بن عمرو بن رفاعہ بن حارث بن سواد(کےنام ) کو (بھی)نقل کیاہے۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ

  امیرالمومنین صاحبُ الِحلم والحَیا ذوالنورین  بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف قریشی اموی ہیں ان کانسب اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب عبدمناف میں مل جاتاہے ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابوعمروبیان کی ہے یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ پہلے ان کی کنیت ان کےبیٹے عبداللہ کے نام پررکھی گئی تھی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تھیں پھران کی کنیت ابوعمروہوگئی حضرت عثمان کی والدہ اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس عبداللہ بن عامرکی پھوپھی زاد بہن تھیں اور اروی کی والدہ بیضابنت عبدالمطلب تھیں جورسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی تھیں ذوالنورین انھیں کالقب ہے امیرالمومنین تھے یہ اول(زمانہ)اسلام میں اسلام لائے تھے ان  کوحضرت ابوبکر نے اسلام کی طرف بلایاتھا پس اسلام لے آئےیہ اسلام لانے والوں میں چوتھے شخص ہیں ہم کو ابوجعفرنے اپنی سندکویون۔۔۔

مزید

سیّدنا عثمان ابن عثمان رضی اللہ عنہ

   بن شرید بن سوید بن ہرمی بن عامربن مخزوم قریشی مخزومی ہیں ۔ان کی والدہ صفیہ بنت ربیعہ بن عبدشمس ہمشیرہ عتبہ بن ربیعہ اورشیبہ بن ربیعہ تھیں۔یہ مہاجرین حبشہ میں سے ہیں غزوۂ بدر میں شریک تھے اوراحد میں شہیدہوئے یہ شماس کےنام سے مشہورتھے ۔اوراسی طرح ان کو ابن اسحاق نے ذکرکرکے کہاہے کہ شماس بن عثمان ہیں ہشام بن کلبی نے کہاہے کہ شماس بن عثمان کانام عثمان ہے ان کا نام شماس اس وجہ سے مشہورہوگیا کہ ایام جاہلیت میں نصرانیوں کے بعض سردار مکے میں آئے تھے لوگ ان کی خوبصورتی کودیکھ کر تعجب کرنے لگے توعتبہ بن ربیعہ نے جوان کے ماموں تھےکہا(یہ بات کیاتعجب خیز ہے)میں تمھارے پاس ایسے شماس (یعنی آفتاب تاباں)کو لاؤں جوان سے بھی زیادہ خوبصورت ہواوراپنے بھانجے عثمان بن عثمان کولائے اسی دن سے ان کا نام شماس ہوگیااوراسی نام سے پکارے جاتےتھے ہشام کے قول کے مانند زبیرنے بھی کہاہے اورزہری تک اس کا نسب ۔۔۔

مزید