جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

سیّدنا عقبہ ابن نافع رضی اللہ عنہ

   بن عبدالقیس بن لقیط بن عامر بن امیہ بن حارث بن عامربن فہر قریشی فہری ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں پیداہوئےتھےمگرآپ کی فیض صحبت سے شرف یاب نہیں ہوئے تھے۔یہ عمروبن عاص کے خالہ زادبھائی تھے عمروبن عاص نے ان کوافریقہ پرحاکم کردیاجب کہ وہ مصرپر(حاکم)تھےپس یہ عقبہ(قبیلہ)لوانہ اور مراتہ کے پاس گئے توان لوگوں نے ان کی تابعداری کی پھرکافرہوگئے پس اسی سال میں انھوں نے پرجہاد کیاپس وہ قتل کیے گئےاورقیدکیے گئےاوریہ ۴۱ھ؁ ہجری کاواقعہ تھااور۴۲ھ؁ہجری میں دامس کوفتح کیااوروہاں والوں کو قتل کیااورقید کیااور ۴۳ھ؁ ہجری میں انھوں نےشہرسودان کے بہت سے مواضع فتح کیے اورودان کوفتح کیااور یہ افریقہ کے ایک شہربرقہ کے اطراف سے ہےاوربربرکے تمام شہروں کوفتح کیاتھااوریہ وہی شخص ہیں جنھوں نے قیروان کی حضرت معاویہ کے زمانہ میں بنیاد ڈالی تھی اوریہ بلادافریقہ  کے اصل شہروں سے تھااورامراک۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن مالک رضی اللہ عنہ

   لیثی ہیں صحابی تھےان کااہل بصرہ میں شمارتھا۔ہم کوابوالفرح بن محمود نے اپنی سند کے ساتھ ابوبکربن عاصم سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا وہ کہتےتھےہم سے سلیمان بن مغیرہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حمید بن ہلال نےبشربن عاصم سے انھوں نے عقبہ ابن مالک سے نقل کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکربھیجا اس نے ایک قوم پرلوٹ مارکرناشروع کی پس قوم سے ایک مردبھاگا(چنانچہ)لشکرمیں سے ایک شخص تلوارننگی لیے ہوئے اس کے پیچھے چلا تو اس سے بھاگنے والے نے کہاکہ میں مسلمان ہوں اس نے اس کے کہنے کی طرف کچھ خیال نہ کیااورضرب لگاکراس کو مارڈالا۔پس یہ خبر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچی آپ نے قاتل کے حق میں سخت کلام کہااس کی خبرقاتل کو ملی توایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھےکہ یکایک قاتل نے کہاکہ (وہ مقتول مسلمان نہ تھا بلکہ)ق۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن مالک رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے اوراپنی سند کے ساتھ یزیدبن ہارون سے انھوں نے یحییٰ بن معیدسے انھوں نے عبیداللہ بن زحرضمری سے انھوں نے ابوسعید رعینی سے انھوں نے عبداللہ بن مالک جہنی سے نقل کیاہے کہ ان کو عقبہ بن مالک نے خبردی کہ عقبہ کی بہن نے یہ نذر مانی تھی کہ میں بیت اللہ شریف تک برہنہ پااوربغیرچادراوڑھے ہوئے جاؤں گی۔عقبہ نے اس کا تذکرہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کیاآپ نے عقبہ سے فرمایا کہ اپنی بہن سے کہدو کہ سوار ہولےاورچادراوڑھ لے اورتین روزہ رکھے اس کوایک گروہ نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے عبیداللہ سے نقل کرکے روایت کیاہے اوران سب نے کہاہے کہ عقبہ ابن عامرہیں اوریہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن کدیم رضی اللہ عنہ

   بن عدی بن حارثہ بن زید مناہ بن عدی بن عمروبن مالک بن نجارصحابی تھے فتح مصرمیں بھی شریک تھےانھوں نے مصرمیں اپنی اولاد چھوڑی تھی۔ان کی کوئی روایت مشہورنہیں ہے اس کو ابن یونس نے ذکرکیاہےعدوی نے کہاہے کہ عقبہ بن کدیم بن عمروبن حارثہ بن عدی بن عمرو غزوۂ احد میں اوراس کے بعدکے مشاہد میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن قنیطی رضی اللہ عنہ

   بن قیس بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری حارثی ہیں یہ اپنے والد اورعبداللہ بن قنیطی کے ساتھ غزوۂ احد میں شریک تھے اوریہ عقبہ اورعبداللہ جسرابی عبیدہ کے واقعہ میں شہیدہوگئے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  بن ثعلبہ بن اسیرہ اوربعض نے کہاہے کہ ثعلبہ بن عسیرہ اوربعض نے کہاہے ثعلبہ بن اسیرہ بن عسیرہ بن عطیہ بن خدارہ بن عوف بن حارث بن خزرج اوربعض نے کہاہے عقبہ بن عمروبن ثعلبہ بن اسیرہ بن عسیرہ بن عطیہ بدرسی ہیں ان کی کنیت ابومسعود تھی یہ اپنی کنیت ہی سے مشہور تھے۔غزوۂ بدرمیں شریک نہ تھے بلکہ بدر۱؎ میں رہتے تھے۔ہاں عقبہ ثانیہ میں شریک تھے جو لوگ عقبہ ثانیہ میں شریک تھے ان سب سے یہ کم سن تھے۔اس کو ابن اسحق نے بیان کیاہے غزوۂ احد اور اس کے مابعد کے غزوات میں شریک تھے(امام)بخاری وغیرہ نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھےمگرصحیح نہیں ہے۔کوفہ میں رہتے تھےاورحضرت علی کے شاگردتھےحضرت علی نے جب صفین کی طرف کوچ کیاتو ان کو کوچہ میں نائب کردیاتھا۔ان سے عبداللہ بن یزیدخطمی اورابووائل اورعلقمہ اورمسروق اورعمروبن میمون اورربعی ابن خراش وغیرہ نے روایت کی ہے ان کوہم انشاء اللہ تعالیٰ باب الکنیت میں بیا۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن عثمان رضی اللہ عنہ

   بن خلدہ بن مخلد بن عامر بن زریق انصاری زرقی ہیں یہ اوران کے بھائی سعد بن عثمان غزوۂ بدرمیں شریک تھے ہم کوابوجعفربن سمین نے اپنی سند کویونس بن بکیرتک پہنچاکرانھوں نے ابن اسحاق سے نقل کرکے ان لوگوں کے نام کی خبردی جوغزوۂ بدرمیں موجودتھے خبردے کرکہا کہ بنی زریق بن عامرسے پھربنی مخلد بن عامربن زریق سے اورابوعبادہ اوروہ سعد بن عثمان بن خلدہ بن مخلد اوران کے بھائی عقبہ بن عثمان تھےابن اسحاق نے کہاغزوۂ احد کے واقعہ میں سےعقبہ بن عثمان اورسعدبن عثمان یہ انصارسے دوشخص بھاگےاوراعوض کے مقابل ایک پہاڑپرپہنچے اوروہاں  تین روز تک ٹھہرے رہے۔پھروہاں سے واپس ہوکر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئےپھرانھوں نے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم لوگ اس لڑائی سے چلے گئے وسعت پاکر۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن عبد رضی اللہ عنہ

  ان کونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹی سی تلوارعنایت کی تھی اورفرمایاتھا کہ اگرتم اس سے لگانے کی قدرت نے پاناتواس سے نیزہ لگانااس کویحییٰ بن صالح حاظی نےمحمد بن قاسم طائی سے انھوں نے عقبہ سے روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں۔ان کوطبرانی نے صحابہ میں بیان کیاہے اورانھوں نے (یعنی طبرانی نے) اپنی سندکے ساتھ عبدالرحمن بن عقبہ سے انھوں نے اپنے والدعقبہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں ان کے ایک تیرلگ گیاتھا۔وہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئےسناکہ جس مسلمان نے مجھ کودیکھاہے وہ دوزخ میں نہ ڈالاجائےگا اور نہ وہ مسلمان جس نے میرے دیکھنے والے کودیکھاہے نہ وہ مسلمان جس نے میرے دیکھنے والے کے دیکھنے والے کودیکھاہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابونعیم نے جبربن عتیک کے غلام عقبہ کے سواان کوکہاہے اوردونوں کودوشخص کہا ہے۔لیکن ابن مندہ نے کہاہے کہ عقبہ ابوعبدالرحمن  جہنی جبربن عتیک کے غلام ہیں اور یہ متناقض ہے کیوں کہ جبربن عتیک کے غلام فارسی ہیں جہنی نہیں ہیں اورجبربن عتیک انصاری ہیں پس ان کو جہنیہ سے نسبت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔پھ۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ عبداللہ رضی اللہ عنہ

   کے والد تھے شریک نے عبداللہ بن عمرسے انھوں نے عبداللہ بن عقبہ سے انھوں نے اپنے والدسے نقل کرکےمرفوع بیان کیاہے وہ کہتےتھےکہ تم مومن کو اس چیزمیں مجتہد پاؤگے جس میں وہ قدرت رکھتاہے اورجس چیزمیں قدرت نہیں رکھتا اس میں افسوس کرنے والاپاؤگے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید