بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب یہ مہاجرین حبش سےتھے اوروہیں ہلاک ہوئےانھوں نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی تھی یہ جعفرنے کہاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ نے ان کوعروہ بن اثاثہ عدوی بیان کیاہےاوران کا تذکرہ اس بیان سے پیشترہوچکاہےاوریہ بھی کہاہے کہ یہ مہاجرین فتح سے تھے مگروہاں ان کانسب نہیں بیان کیاپھر یہاں ان کوعروہ بن عبدالعزی کہاہےاورنسب بھی بیان کیااورکہاہے کہ مہاجرین حبش سےہیں اوروہ دونوں ایک ہیں حالانکہ وہ ابن اثاثہ بن عبدالعزی ہیں اورانکے بیان میں ان کا نسب پہلے گذرچکاہے جس طرح کہ ابوعمراورزبیروغیرہمانےذکرکیاہےاورشک نہیں کہ ابوموسیٰ نے چونکہ اس تذکرہ میں عروہ کوابن اثاثہ اورمہاجرین فتح سے لکھاہوادیکھااوران کانسب انکو معلوم نہ تھااوریہاں عروہ کوابن عبدالعزی لکھاہوادیکھاعبدالعزی نام ان کے داداکاتھا لہذاانھوں نے ان دونوں کو دو شخص خیال ۔۔۔
مزید
بن عبیدبن رفاعہ ان کوبھی اسمعیلی نے بیان کیاہے اوراپنی سند کے ساتھ عمروبن دینارسے انھوں نے عروہ ابن عبید بن رفاعہ سے روایت کی ہے کہ اسماء بنت عمس اپنے تین لڑکوں کو لے کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئیں اوران لڑکوں کوافسون سکھانے کی آپ سے اجازت مانگی آپ نے فرمایاسکھادو۔اسمعیلی نے کہاہے کہ عمروبن دینارنے عروہ بن رفاعہ انصاری سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبیدبن رفاعہ ان کوبھی اسمعیلی نے بیان کیاہے اوراپنی سند کے ساتھ عمروبن دینارسے انھوں نے عروہ ابن عبید بن رفاعہ سے روایت کی ہے کہ اسماء بنت عمس اپنے تین لڑکوں کو لے کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئیں اوران لڑکوں کوافسون سکھانے کی آپ سے اجازت مانگی آپ نے فرمایاسکھادو۔اسمعیلی نے کہاہے کہ عمروبن دینارنے عروہ بن رفاعہ انصاری سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کوابن شاہین نےبیان کیاہے۔ہم کوعبدالوہاب بن ابی منصور صوفی نےاپنی سندکو ابوداؤد(سجستانی)تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھےہم سے احمد بن حنبل وابوبکربن ابی شیبہ نے بیان کیا ہے وہ کہتےتھے ہم سے وکیع نے سفیان سے انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے انھوں نے عروہ بن عامرسے نقل کرکےبیان کیاوہ کہتےتھے کہ احمدقریشی نے کہاکہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے فال بدکے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا کہ فال نیک اچھی چیزہے اورمسلمانوں کوفال بد پر خیال نہ کرناچاہیے۔پس جس وقت کوئی شخص تم میں سے فال بددیکھے توکہے۱؎ اللہم لایاتی بالحسنات الاانت ولایدفع السیئات الاانت لاحول ولاقوۃ الابک۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھ کرکہاہے کہ ابن ابی حاتم نے کہاہے کہ عروہ بن عامر نے ابن عباس اورعبید بن رفاعہ سے(حدیث کی)سماعت کی ہے ان سے حبیب نے روایت کی ہے اس بناپریہ حدیث مرسل ہوگی اورابواحمد عسکری نےکہاہے کہ عروہ بن عامرجہنی۔۔۔
مزید
ہیں اس کوابوبکراسمعیلی نےبیان کیاہے ان سےان کے بیٹے محمدنے روایت کی ہے وہ کہتےتھےکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ قیامت کی علامتیں یہ ہیں کہ ویران(مقام) آباد ہوجائیں اورآباد(مقام)ویران ہوجائیں گےاورجہاد(کامال غنیمت)فیہ ہوجائےگااورآدمی امانت کواپنے قلب اس طرح نکال ڈالےگاجس طرح اونٹ درخت سے پتے کھینچ لیتاہے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نےلکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بعض نے کہاہے کہ ابن ابی الجعدبارقی ہیں اوربعض نے ازدی کہاہے یہ ابن مندہ اورابونعیم کابیان ہے کوفہ میں رہتےتھےان سے شعبی اورسبیعی اورشبیب بن غرقدہ اورسماک بن حرب اور شریح بن ہانی وغیرہم نے روایت کی ہے یہ ان لوگوں میں تھے جن کوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شام بھیجاتھااہل کوفہ میں تھےاورسرحدروزکے محافظ تھےاوران کے ساتھ بہت سے گھوڑے تھےان میں ایک گھوڑا ایساتھاکہ جسے دس ہزار درہم کالیاتھاشبیب بن غرقدہ نے کہاہے کہ عروہ بن جعدہ کے گھرمیں نےسترگھوڑے جہاد فی سبیل اللہ کے لیے بندھے ہوئے دیکھے ہم کو عبداللہ بن احمد خطیب نے اپنی سند کوابوداؤد طیالسی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھےہم سے جریربن حازم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں زبیربن حریث ازدی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں نعیم بن ابی ہندنےعروہ بن جعدبارقی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھےکہ (ایک مرتبہ)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا گیاکہ آپ اپنے گھوڑےکےرخس۔۔۔
مزید
بن صلت بن حبیب بن حارثہ بن بلال بن سماک بن عوف بن امری القیس بن بہثہ بن سلیم سلمی ہیں بنی عمرو بن عوف کے حلیف تھےمحمدبن اسحاق اورواقدی نے ان کو ان لوگوں میں بیان کیا ہے جوکہ بیرمعونہ کے واقعہ میں شہیدہوئےتھے۔مشرکوں نے واقعہ بیرمعونہ میں عروہ بن اسماء کے امان دینے کی خواہش کی کیوں کہ یہ عامربن طفیل کے دوست تھےمگرباوجودیکہ ان کی قوم بنی سلم نے ان کوامان طلب کرنے کی بہت ترغیب دی انھوں نے منظونہ کیااورکہاکہ میں اپنے ساتھیوں سے اپنی جان عزیزنہیں رکھتابعداس کے آگے بڑھے اورلڑے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
عدوی ہیں مہاجرین فتح مکہ سے تھےاورعمرو بن عاص کے اخیانی بھائی تھےاس کو ابوموسیٰ نے کہاہے اورابوعمرنے کہایہ عروہ بن اثاثہ ہیں اوربعض نےکہاہے کہ یہ ابی اثاثہ بن عبدالعزی بن حرثان بن عوف بن عبیدبن عویج بن عدی بن کعب قریشی عدوی ہیں قدیم الاسلام تھےشہرحبش کی طرف انھوں نے ہجرت کی تھی مگرابن اسحاق نے ان کومہاجرین حبش میں نہیں ذکرکیاہے ہاں موسیٰ بن عقبہ اورابومعشر اورواقدی نے ذکرکیاہے۔میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ کا یہ کہناکہ یہ مہاجرین فتح مکہ سے تھےسمجھ میں نہیں آتاہجرت فتح مکہ کے ساتھ ہی منقطع ہوگئی تھی ابوموسیٰ نے ان کے تذکرہ کودودفعہ کیاہےاورکہاہے کہ عروہ بن عبدالعزی ہیں اور ان پروہاں کلام وارد ہوگا۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
تمیمی ہیں یہ صحابی تھے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہےاورابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھ کرکہاہے کہ یزید بن عبداللہ نے صفوان بن امیہ سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرتھے کہ عرفطہ بن نہیک تمیمی کھڑے ہوئے اورکہایارسول اللہ میں اورمیرے گھروالے شکارسے رزق حاصل کرتے ہیں اوراس میں ہمارے لیے حصہ وبرکت ہے اور وہ اللہ عزوجل کے ذکراورنمازجماعت سے بازرکھنے والاہے اورہم کو اسی کی طرف حاجت ہے کیا پس آپ اس کو حلال کہتےہیں یاحرام آپ نے فرمایاحلال کہتاہوں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال کیاہے اورپوری حدیث بیان کی۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اسدی ہیں ان کی کنیت ابومکعت تھی ان کا تذکرہ ابومکعت اورابومصعب میں بیان کیاگیاہے پس چاہیے کہ وہاں ان کا حال دیکھاجائے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید