میں سے ایک شخص ہیں ان کا نسب نہیں بیان کیاگیاہے۔جریربن عبیدالحمید نے عطاء بن سائب سےانھوں نے ابوعبدالرحمن سلمی سے نقل کیاہے کہ وہ کہتے تھے مجھ سے عبیدنے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص تھے اس حدیث کی سندکوآپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا کر بیان کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جو شخص نماز پڑھ کراپنے مصلے پربیٹھ جائے اور اللہ تعالیٰ کاذکرکرے توگویاوہ شخص نمازہی میں ہے اس وجہ سےکہ فرشتےبرابراس کے لئے استغفار کرتےرہتے ہیں کہتے ہیں اے اللہ اس کوبخش دے اے اللہ اس پر رحم کراورجوشخص مسجد میں آکر نمازکاانتظارکرے اس کابھی یہی حکم ہے۔اس کو ابن فضیل اورحمادبن سلمہ وغیرہمانے عطاء سے انھوں نے عبدالرحمٰن سے انھوں نے اس شخص سے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلمسے سناہے اسی کے مثل روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابوعامرتھی اشعری ہیں غزوہ اوطاس کے واقعہ۸ھ میں شہیدہوئے بیان کیا گیاہے کہ دریدبن صمہ نے ان کوشہیدکیاتھامگریہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ درید(اس زمانہ میں) ایسے بوڑھے ہوچکے تھے کہ خود اپنی حفاظت سے معذورتھے وہ کیونکرکسی کو قتل کرسکتے تھے ان کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے مغفرت کی تھی۔اوران کانام عبیدرکھاتھاان سے ان کے بیٹے عامراوران کے بھتیجے ابوموسیٰ اشعری نے روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ باب الکنیت میں اس مقام سے زیادہ لکھاجائےگایہ اپنی کنیت (ابوعامر)کے ساتھ زیادہ مشہورتھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔میں کہتاہوں۔بعض علماء نے بیان کیاہے کہ لوگوں کا ان ابوعامرکے حق میں جوغزوہ اوطاس میں شہیدہوئےتھےیہ بیان کرناکہ وہ ابوموسٰی کے چچاتھےغلط ہے کیوں کہ ابوعامردوآدمیوں کی کنیت ہے ایک وہ جن کانام عبیدبن سلیم بن حضارہےجوابوموسیٰ کے چچاہیں اوروہی غزوۂ اوطاس میں شہیدہوئےتھے۔۔۔
مزید
خزاعی ہیں کوفے میں رہتےتھے ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔اوزاعی نے ابوعبیہ سے جوسلیمان بن عبدالملک کے دربان تھےانھوں نے قاسم بن مخیمرہ سے انھوں نے عبیدبن نضلہ سے روایت کی ہے کہ ایک سال قحط کے زمانہ میں صحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ غلہ کانرخ مقررکردیجیے(بقال روزبروزگراں کرتے جاتے ہیں)حضرت نے فرمایانہیں (میں ایسانہیں کروں گا)اللہ تعالیٰ مجھ سے اس سال کی بابت سوال کرے گاجس میں تمھارے لیے کوئی ایسی بات کروں جس کاخدانے مجھےحکم نہیں دیابلکہ تم لوگ اللہ سے اس کے فضل کی دعامانگو۔ اورشعبہ نےمنصورسے انھوں نے ابراہیم بن عبیدبن نضیلہ سے انھوں نے مغیرہ بن شعبہ سے ان دونوں عورتوں کا قصہ روایت کیاہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کوخیمہ کاستون ماردیاتھا اور اس عورت کو مع اس کے پیٹ کے بچے کے قتل کرڈالاتھاپس اس روایت کی بناپریہ عبیدتابعی ہوں گےواللہ اعلم۔ان کا تذکرہ ابونعی۔۔۔
مزید
بعض نے ان کوعبیداللہ بن معیہ بیان کیاہے۔ان کاحال پہلے گذرچکاہے ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ان کوعبیدبن معاذاوربعض نے عتیک بن معاذاوربعض نے ان کوزید بن صامت بیان کیاہےان کی کنیت ابوعیاش تھی زرقی ہیں ان کا حال ردیف زامیں پہلے گذرچکاہے اور عبید بن زیدکے نام میں بھی ان کابیان ہے ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن انس انصاری ہیں ۔یہ معاذبن عبداللہ بن خبیب جہنی کے والد کے چچاتھے عبداللہ بن سلیمان بن ابی سلمہ مدنی معاذبن عبداللہ بن خبیب جہنی سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے اپنے چچاعبیدسے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ باہرتشریف لائے اورآپ کے جسم مبارک پر غسل کی علامت پائی جاتی تھی اورآپ کی طبیعت بشاش تھی پس ہم لوگوں نے یہ گمان کرکے کہ آپ نے ازواج سے خلوت کی ہوگی عرض کیایارسول اللہ آپ نے خوشی کے ساتھ صبح کی۔ فرمایاہا الحمدللہ پرآپ نے دولت مندی کاذکرکرکے فرمایادولت مندی میں کوئی قباحت اس شخص کے واسطے نہیں جواللہ برترسے ڈرتاہےمگرجوشخص اللہ برترسے ڈرتاہے اس کے واسطے تندرستی دولت مندی سے بہترہےاورطبیعت کابشاش ہوناخوش رہنابھی ایک نعمت ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اسدی ہیں عباد بن عوام نے حصین بن عبدالرحمن سے انھوں نے عبیدبن مسلم صحابی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے جوغلام اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کرے اوراپنے آقاکی بھی فرماں برداری کرے اس کو دوناثواب ملتاہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔لیکن ابوعمرنےکہاہے(یہ حدیث)عباد بن حصین سے روایت کی گئی ہے اور وہ کہتے تھے میں نے عبدبن مسلم سے سناہے اورابن مندہ اورابونعیم نے عبادبن عوام سے انھوں نے حصین بن عبدالرحمن سے انھوں نے عبیدبن مسلم سے روایت کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں ان کوابن قانع نے بیان کیاہےاوراپنی سند کے ساتھ عبیدبن عبیدمراوح مزنی سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے ایک مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (مقام)نقیع میں نزول فرمایاتھا اورحال یہ تھا کہ لوگ لوٹ جانے کااندیشہ کررہے تھے اتنے میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے منادی (یعنی مؤذن نے پکارااللہ اکبر میں نے(اپنے دل)میں اس مؤذن سے مخاطب ہوکر کہاکہ تونے ایک بڑے کی بڑائی بیان کی پھرمنادی نے کہااشدان لاالہ الااللہ میں نے (اپنے دل میں) کہاان لوگوں کے پاس (ضرور۔خداکی طرف سے)کوئی خبر(آئی)ہےورنہ( اس قدرجزم ویقین کے ساتھ بلفظ شہادت نہ بیان کرتے)پھرمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا اور اسلام لایاآپ نے مجھ کووضوتعلیم کیااور میں نےآپ کے ساتھ نمازاداکی آپ نے نقیع کوحمی۱؎ بنا لیا اورمجھے وہاں کاعامل مقررکردیا یہ غسانی کابیان ہے۔ ۱؎ حمی اس مقام کوکہتے ہیں جوبادشاہ کے مویشی چرانے کے ۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابوامیہ تھی معافری ہیں صحابی تھے جیساکہ ابوسعیدبن یونس نے بیان کیاہے اور کہاہےکہ یہ فتح مصر میں شریک تھے ان سے ابوقبیل معافری نےروایت کی ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابوامیہ تھی معافری ہیں صحابی تھے جیساکہ ابوسعیدبن یونس نے بیان کیاہے اور کہاہےکہ یہ فتح مصر میں شریک تھے ان سے ابوقبیل معافری نےروایت کی ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید