حضرت سیدنا امام محمد باقر نام ونسب:اسمِ گرامی:سیدامام محمد۔(آپ کانام جدامجد سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکے نامِ نامی اسمِ گرامی پررکھاگیا)کنیت:ابوجعفر۔لقب:باقر،شاکر،ہادی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی المرتضی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ فاطمہ بنت سیدنا امام حسن تھا۔ یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہیں کہ آپ کاسلسلہ نسب دونوں طرف سے سیدالانبیاء حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ تک پہنچتاہے۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)باقر کی وجہ تسمیہ:باقر، بقرہ سے مشتق ہے اوراسی کا اسم فاعل بھی ہے ۔اس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں(المنجد)۔حضرت امام محمد باقر کواس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم ومعارف کونمایاں فرمایا اورحقائق احکام وحکمت ولطائف کے وہ سربستہ خزانے ظاہرفرما دئیے جو لوگوں پرظاہر و ہویدا نہ تھے۔(صواعق محرقہ،شواہدالنبوت)تاریخ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ احمد بن علی بن حسین رازی المعروف بہ جصاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ احمد بن علی بن حسین رازی المعروف بہ جصاص: امام زمانہ،مجتہد وقت، علامۂ عصر،حافظ حدیث،صاحب عفت ودیانت و زہد تھے۔۳۰۵ھ کو شہر بغداد میں پیدا ہوئے۔ابو بکر کنیت تھی،فقہ کو ابو سہل زجاج تلمیذ امام کرخی سے اخذ کیا اور حدیث کو ابا حاتم اور عثمان دارمی اور عبد الباقی بن قانع وغیرہ محدثین سے سُنا اور روایت کیا یہاں تک کہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کی ریاست آپ پر منتہی ہوئی اور دور دور سے لوگ واسطے استفادہ کے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے چنانچہ ابو عبداللہ محمد بن یحییٰ جر جانی شیخ قدوری و ابو الحسن محمد بن احمد زعفرانی وابو الفرح احمد بن عمر المعروف بہ اسلمہ وابو حفص محمد بن احمد نسفی اور ابو الحسن محمد بن محمد کازنی وغیرہ فقہائے بغداد نے آپ سے بڑا فیض حاصل کیا اور بو علی وبو احمد حاکم نے آپ سے حدیث کو سُنا۔قضاء خطاب کےلیےآپ کو کہا ۔۔۔
مزید
حضرت ابو بکر احمد بن علی خطیب بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
حضرت محمد عارف چشتی صابری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نام: آپ کا نام محمد عارف تھا۔ بیعت وخلافت: آپ نے لاہور ہی میں شیخ عبد الخالق چشتی سے بیعت کی اور خلافت حاصل کی۔ آپ اپنے شیخ کے جلیل القدر خلیفہ تھے۔ سیرت وخصائص: آپ صاحبِ کشف وکرامت، درویش، فقیر اور ولئ کامل تھے۔ آپ پربے شمار اسرارِ ربانی منکشف تھے۔ علومِ شریعت وطریقت کے یکسا ماہر تھے۔اور آپ کی شانِ فقری بھی بہت بلند ہے ،صابر وشاکر تھے جو میسر آتا تناول فرمالیتے، لیکن مہمانوں کی دل کھول کر خدمت فرماتے۔ آپ کو سماع کا بھی بہت شوق تھا۔ سماع میں آپ پر کیفیت طاری ہوجاتی تو ذوق و محبت میں رقص کرنے لگتے۔(لیکن ایک بات کا خیال رہے کہ قوالی سننے کے دوران اولیائے کرام کا جو رقص کرنا منقول ہوتا ہے تو ان کا رقص کرنا اپنے اختیار سے نہیں ہوتا بلکہ جب وہ اپنے کیفیت کے متعلق اشعار سنتے ہیں تو وہ بے خود ہوکر بے اختیار رقص کرنے لگتے ہیں ۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ حافظ عبدالخالق اویسی رحمۃ اللہ علیہ آپ اویسیہ خاندان کے کبریٰ مشائخ اور عظیم اولیاء اللہ میں سے تھے۔ صاحب وجد و سماع تھے۔ ذوق و شوق کے مالک تھے۔ سکرو جذب میں یگانہ روزگار تھے فقر و تجدید میں بڑی ثابت قدمی سے رہے بڑے بلند رتبہ تھے۔ روحانی فیضان جناب حضرت قرنی قدس سرہ سے پایا تھا۔ صاحب اجازت تھے اور تلقین و ارشاد میں معروف ہوئے ساری زندگی لوگوں کی اصلاح و ہدایت میں گذار دی چونکہ آباواجداد سے علم و فضل کی دولت ملی تھی۔ اس لیے جامع فضل ظاہری و باطنی ہوگئے حافظ ظاہرین محمود بن حافظ یعقوب آپ کے والد ماجد تھے جن کا فتوی چلتا تھا۔ وہ عالم عامل اور حافظ کامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا راہ دکھانا چاہا تو سب سے پہلے حضرت بلہے شاہ قصوری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بھائی گل شیر کو بھی ساتھ لے کر حضرت شیخ عبدالحکیم قادری قدس سرہ (جو اس وقت قطب وقت تھے) کی خدمت میں حاضری دی۔ حضرت عبدالحکیم ان۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ سید محمد عیسی گنڈا پوری رحمۃ اللہ علیہ موضع چودھواں تحصیل کلاچی ضِلع ڈیرہ اسمٰعیل خاں (صوبہ سرحد) ؟؟؟ھ/؟؟؟ء۔۔۔ ۱۲۲۰ھ/ ۱۸۰۶ء موضع چودھواں ضِلع ڈیرہ اسمٰعیل خاں قطعۂ تاریخِ وفات صاحب کشف و کرامت شہِ گنڈا پُوری سالِ رحلت ہے ملائک کی زباں پر صابر آپ کے نُور کی ہے صوبۂ سرحد میں ضیاء ’’دُرِّ شاہوارِ اَرم خواجہ محمد عیسیٰ‘‘ ۱۸۰۶ء (صابر براری، کراچی) آپ کی ولادت با سعادت موضع چودھیواں علاقہ گنڈا پور تحصیل کلاچی ضِلع ڈیرہ اسماعیل خاں (صوبہ سرحد) میں ہوئی۔ ظاہری تعلیم اپنے گاؤں ہی میں حاصل کی اور پھر تصوّف کی بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ آپ حضرت خضر علیہ السلام کے صحبت یافتہ تھے اور ہر روز اُن سے ملاقات کرتے تھے بلکہ آپ کی ابتدائی باطنی تربیّت حضرت خضرت علیہ السلام نے ہی کی تھی۔ اور اُنہی کے ارشارے پر ہی رامپور جا ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نام و نسب:آپ کا نام حبیب الرحمٰن اور آپ کے والد کا نام محمد نقی ہے۔ آپ مذہباً حنفی تھے۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت 28 شعبان 1283 ھ میں بھیکن پور جو کہ علی گڑھ کے دیہات میں ہےہوئی۔ تحصیلِ علم:آپ علیہ الرحمہ نے چند دن مولانا عبد الغنی قائم گنجی سے علم حاصل کیااور ان سے علومِ متعارفہ پڑھے۔اور اپنے دادا استاذ مفتی لطف اللہ کوئلی سے بھی کچھ علم حاصل کیا۔ اور مدرسہ العلوم علی گڑھ میں انگریزی زبان حاصل کی اور اس مدرسہ میں جو آگرہ میں تھا اور وہاں انشاء اور فنِ شعر میں توجہ ہوگئے۔ پھر آپ نے علومِ شرعیہ کی طرف توجہ دیا اور سب سے پہلےشیخ محدث حسین بن محسن انصاری جو بھوپال کے رہنے والے تھے ان ہی سے صحاح ِ ستہ بہت ہی تدبراور سمجھ سے پڑھی۔ اور شیخ عبد الرحمٰن بن محمد انصاری پانی پتی نے ا نہیں حدیث کی اجازت دی تھی۔ بیعت: آپ مراد آبا۔۔۔
مزید