پیر , 14 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 29 June,2026

نام سے تلاش

تاریخ سے تلاش

(10)  تلاش کے نتائج

حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل

حضرت سیدنا امام مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسلم ابن عقیل (شہادت: 9 ذوالحجۃ 60ھ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی حضرت عقیل ابن ابوطالب کے بیٹے تھے یعنی امام حسین علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ ان کا لقب سفیر حسین علیہ السلام اور غریبِ کوفہ (کوفہ کے مسافر) تھا۔ واقعۂ کربلا سے کچھ عرصہ پہلے جب کوفہ کے لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو خطوط بھیج کر کوفہ آنے کی دعوت دی تو انہوں نے حضرت مسلم ابن عقیل کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ روانہ کیا۔ وہاں پہنچ کر انہیں صورتحال مناسب لگی اور انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط بھیج دیا کہ کوفہ آنے میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر بعد میں یزید نے عبید اللہ ابن زیاد کو کوفہ کا حکمران بنا کر بھیجا جس نے حضرت مسلم بن عقیل اور ان کے دو کم سن فرزندوں کو شہید کروا دیا۔ ابتدائی واقعات جب امام حسین علیہ السلام نے حضرت مسلم بن عقیل کو کوفہ جانے کا حکم ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حارث بن اسامہ

حضرت شیخ حارث بن اسامہ رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت ابوبکر عبداللہ بن باہر دینوی

حضرت ابوبکر عبداللہ بن باہر  دینوی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت ابوالحسن بن عالم بصری

حضرت ابوالحسن بن عالم بصری رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محمد فاضل سعدی گجراتی سورتی

حضرت شیخ محمد فاضل سعدی گجراتی سورتی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ مولانا محمد نظام بخش

حضرت شیخ مولانا محمد نظام بخش سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی

حضرت مولانا مفتی محمد لطف اللہ علی گڑھی علیہ الرحمۃ پلکھنہ ضلع علی گڈھ کےساکن، مولوی محمد اسد اللہ کے بیٹے، محمد لطف اللہ نام، ۱۲۴۴؁ھ میں ولادت ہوئی، والد نے ‘‘چراغم’’ مادۂ تاریخ کہا، حضرت شاہ جمال علی گڈھی سےنسلی مولانا عنایت وابستہ ہے، ابتدائی درسیات مقامی معلموں سےپڑھیں، کان پور مدرسۂ فیض عام میں مولانا عنایت احمد سےتکمیل علوم کی ۱۲۷۸؁ھ میں اُستاذ نےاُن کو مدرسہ کا مدرس دوم مقرر کیا، خود حجکی نیت سےجاتے ہوئے جدہ کے قریب غریق بحر رحمت ہوئے، مفتی صاحب نے سات برس تک مدرسہ فیض عام میں درس دیا، اسی سنہ میں مدرسہ جامعہ مسجد علی گڈھ میں بحیثیت مدرس اول تقرر ہوا، فارغین کی پہلی جماعت میں حضرت اُستاذ زمن مولانا شاہ احمد حسن کانپوری جیسے اکابر عالم تھے، غیر مقلد مولوی اسماعیل علی گڑھی سےتحریری مناظرہ رہا۔ ۱۳۱۲؁ھ میں دائی ریاست حیدر آباد کی دعوت پر وہاں تشریف لے گئے، اور صد۔۔۔

مزید

حضرت مولانا قاضی زین العابدین دہلوی

حضرت مولانا قاضی زین العابدین دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قاضی زین العابدین بن حضرت حافظ غیاث الدین تارک الدنیا بن حضرت قاضی رحیم الدین ، محلہ پہاڑ گنج شہر دہلی میں ۹ ذوالحجہ ۱۳۱۹ھ/۱۹۰۱ء کو تولد ہوئے۔ آپ کے جد بزرگوار قاضی رحیم الدین شاہان مغلیہ کے ادوار سے محکمہ قضاء کے عہدے پر فائز تھے اور آپ کا خاندان ’’شاہی قاضی‘‘ کے نام سے موسوم تھا۔ آپ کے والد قاضی حافظ غیاث الدین بحالت جوانی میں داعی اجل کو لبیک کہہ کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے وصال کے وقت قاضی زین العابدین کی عمر صرف ڈھائی سال تھی۔ آپ کی نگہداشت اور پرورش آپ کی والدہ مکرمہ کے ظل عاطفت  میں انجام پذیر ہوئی۔ تعلیم و تربیت: آپ نے ابتدائی تعلیم اردو و حفظ قرآن کی سعادت بعمر گیارہ سال میں حافظ عبدالقادر سے حاصل کی۔ دارالعلوم فتحپوری دہلی کے ’’شعبہ فارسی‘‘ میں داخلہ لیا۔ جناب من۔۔۔

مزید

حضرت مولانا قاری محمد طفیل نقشبندی

حضرت مولانا قاری محمد طفیل نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قاری محمد طفیل نقشبندی بن حاجی عبدالرحمن ۱۹۰۵ء کو امر تسر (پنجاب ، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد حاجی عبدالرحمن نقشبندی مجددی جماعتی ، امیر ملت حضرت مولانا پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری رحمۃ اللہ علیہ (علی پور شریف ضلع نارووال ، پنجاب) کے مرید اور خلیفہ تھے۔ حیدرآباد (سندھ) میں ان کا وصال ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔ جدامجد حاجی اللہ رکھا جنت المعلیٰ قبرستان مکہ مکرمہ میں مدفون ہوئے۔ تعلیم و تربیت : قاری صاحب نے دس سال کی عمر میں ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے میں قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم قاری کریم بخش شاگرد قاری عبدالخالق سہارنپوری ، قاری خدا بخش اور قاری ظفر علی سے حاصل کی۔ روایت حفص قاری عبدالرزاق لکھنوی سے حاصل کی ۔ جنگ جرمن (۱۹۳۹ء سے لے کر ۱۹۴۱ء تک) کے عرصے میں قاری صاحب حرمین شریفین میں رہے اور مدینہ من۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبد الرحمن سلہٹی

حضرت مولانا عبد الرحمن سلہٹی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بنگال کے مشاہیر علماء تھے، اپنے بڑے بھائی حضرت مولانا عبد القادر سے کسب علوم کیا، آپ کی ساری زندگی تدریس وتصنیف اور وعظ و تذکیر میں گذری، اس دیار میں آپ نے مولوی اسماعیل کی تحریک کا انسداد کیا۔۔۔۔

مزید