پیر , 14 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 29 June,2026

نام سے تلاش

تاریخ سے تلاش

(6)  تلاش کے نتائج

شیخ مجدالدین بغدادی

شیخ مجدالدین بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:مجدالدین۔ کنیت :ابو سعید ۔لقب:ابوالفتح۔بغداد کی نسبت سے بغدادی کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: ابوالفتح مجدالدین شرف بن مؤید بن ابی الفتح بغدادی ۔علیہم الرحمہ۔تصحیح: آپ کااسمِ گرامی:مجَدُالدّین ہے۔نہ کہ مجددالدین۔ تاریخِ ولادت:  آپ کی ولادت باسعادت 554ھ،مطابق 1159ءکوبغدادمیں ہوئی۔ تحصیلِ علم:  آپ کے والدِگرامی اور والدہ محترمہ اپنے وقت کےتعلیم یافتہ انسان تھے۔والداوروالدہ دونوں طبیب تھے۔بغداد میں ان کاکوئی ثانی نہیں تھا۔ان کی مہارت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب شاہِ خوارزم نے خلیفہ بغداد سے اپنے علاج کےلئےکوئی طبیب مانگا،تو انہوں نے آپ کے والد کو بھیج دیا۔ابتدائی تعلیم وتربیت والدین کے زیر سایہ ہوئی۔پھربغداد کےصاحبان ِعلم سے تحصیل ِعلم کیا۔آپ کاشماراس وقت کے کاملین میں ہوتا تھا۔ بیعت وخلافت: امام الاولیا۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ عبدالشہید نقشبندی

حضرت خواجہ عبدالشہید نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا سید عبدالجلیل بلگرامی

حضرت مولانا سید عبدالجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ           سید عبد الجلیل بن سید احمد حسینی واسطی بلگرامی: محدث،مفسر،فقیہ، ادیب،لغوی،علامہ بارع کوکبِ ساطع،قاموس اللسان طلبیق البیان تھے،۱۳؍ ماہ شوال ۱۰۱۷؁ھ کو بلگرام میں پیدا ہوئے اور وہاں کے اساتذہ سے علوم حاسل کیے اور حیدث کو سید مبرک شاہ مھدث واسطی حسینی بلگرامی متوفی ۱۱۰۵؁ھ تلمیذ شیخ نور الحق محدث سے سنا اور ادب کو شیخ غلام نقشبند لکھنوی سے اخذ کیا اور فنون عالیہ خصوصاً تفسیر و حدیث و سیر واسماءالرجال اور تاریخ عرب و عجم حاصل کیے۔عربی،فارسی، ترکی،ہندی میں بڑے عارف تھے اور نہایت طلاقت لسانی سے ان چاروں میں گفتگو کرتے تھے۔اورنگ آباد میں سید علی معصوم صاحب کتاب سلاقۃ العصر سے ملاقات کی جنہوں نے آپ کی نسبت بہت عمدہ شہادت دی اور کہا کہ میں نے ہند  میں آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔  &nbs۔۔۔

مزید

حضرت مولانا حکیم فخر الدین الہ آبادی

حضرت مولانا حکیم فخر الدین الہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا حکیم فخر الدین احمد الہ آباد کے مشہور مشائخ خاندان کے فرد تھے۔ ۱۲۳۱ھ میں دائرہ شاہ رفیع الزماں میں آپ کی ولادت ہوئی، لکھنؤ جاکر مولانا مفتی محمد یوسف ومولانا مفتی محمد اصغر فرنگی محلی سے علوم مروجہ کی تکمیل کی، وطن واپس ہوکر خاندانی سجادہ کو رونق دی، معرکہ علاج کرتے تھے ، حکیم بادشاہ کے لقب سے مشہور تھے، ساتھ ہی درس وتدریس اور تصنیف و کا مشغلہ بھی ر کھتے تھے۔مولوی محمد اسماعیل دھلوی کے رسالہ تقویۃ الایمان کے رد میں ’’ازالۃ الشکوک والا بام‘‘ آپ کی عمدہ اور کامیاب تصنیف ہے۔ ۲۳ ربیع الثانی ۱۳۰۳ھ میں آپ نے وفات پائی محلہ یحییٰ پور الہ آباد میں دفن ہوئے۔ (تذکرہ کاملان رامپور)۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ابوالاحیاء محمد نعیم قادری رزاقی لکھنوی

حضرت مولانا ابوالاحیاء محمد نعیم قادری رزاقی لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید