حضرت امام بکار بن قتیبہ بن اسد بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بکار بن قتیبہ بن اسد بصری: بصرہ میں ۱۸۲ھ میں پیدا ہوئے۔فقیہ عادل امام فاضل محدث ثقہ متورع زاہد تھے۔ فقہ یحییٰ بن بلال رازی اصحاب امام ابو یوسف اور نیز امام زفر سے حاصل کی اور انہیں سے علم شروط کو اخذ کیا اور حدیث کو اباداؤدطیالسی اور ان کے معاصرین سے سنا اور روایت کیا اور آپ سے ابو عوانہ اور ابن خزیمہ نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیاور طحطاوی نے فائدہ کثیر اٹھایا اور تخریج کی۔کتاب الشروط،کتاب المحاضر والسجلات،کتاب الوثائق والعہوتصنیف کیں اور ایک کتاب امام شافعی کے ان اعتراضوں کی تردیدی میں لکھی جو انہوں نے امام ابو حنیفہ کے بعض مسائل پر کئے تھے، تاریخ خلکان وغیرہ میں لکھا ہے کہ احمد طولون حاکم مصر آپ کو علاوہ تنخواہ کے ہزار دینار سالانہ دیا کرتا تھا اور اور آپ بجنسہ سر بمبر بند اس کو رکھ چھ۔۔۔
مزید
حضرت ابوالقاسم عبدالصمد واعظ دینوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا اسم گرامی عبدالصمد بن عمر بن اسحاق تھا فقہ و حدیث کے امام تھے، زہد و تقویٰ میں یگانۂ روزگار، اور مجاہدہ میں معروف تھے، آپ کا ذریعہ معاش یہ تھا کہ طبیبوں اور عطاروں کی دوائیاں کوٹ کر روزی کمایا کرتے تھے، آپ کی وفات بروز منگل مورخہ ۲۴؍ ماہ ذوالحج ۳۹۷ھ کو ہوئی تھی، آپ کا مزار پُر انوار حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے مزار کے پہلو میں ہے۔ شیخ ابوالقاسم چو از عالم برفتہست محبوب زمان عبدالصمد۳۹۷ھ سال وصل آں شہ کون و مکاننیز ابوالقاسم ولی عالی بداں۳۹۷ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ محمد نقشبندی عمر عرف پارسارحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ محمد بن محمد بن محمود حافظی بخاری المعروف بخواجۂ پارسا: آپ حافظ الدین کبیر محمد بخاری نسل میں خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی کے اغرہ خلفاء میں سے حافظِ فروع واصول اور جامع معقل و منقول،فائق علی الاقران تھے ۷۵۶ھ میں پیدا ہوئے۔ علوم اپنے شہر کے علماء و فضلاء سے پڑھے اور فقہ کو ابی طاہر محمد بن محمد بن حسن طاہری تلیذ صدر الشریعہ عبید اللہ محبوبی سے حاصل کیا اور کتاب فصل الخطاب حقائق علم لدنی اور دقائق طریق نقشندی مین تصنیف کی۔نفخات الانس میں لکھا ہے کہ آپ ۵۲۲ھ میں واسطے حج و زیارت کے بخارا سے نہضت فرما ہوکر نسف و صغانیاں و ترمذ و بلخ و ہرات و جام وغیرہ سے گذر ے جہاں کے علماء ورؤ سانے آپ کی بری تکریم کی۔جب حج سے فارغ ہوئے تو آپ کو امراض لاحق ہوئے یہاں تک کہ آپ نے طواف و داع کا سواری پر کیا او۔۔۔
مزید
حضرت شیخ جلال الدین صابری کریم الطارفین رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔
مزید
حضرت مولانامفتی غلام سرور لاہوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نام ونسب: آپ کا نام غلام سرور بن مفتی غلام محمد قریشی ،اسدی،ہاشمی ہے۔ تاریخ و مقامِ ولادت: آپ کی ولادت 1244 ھ/ 1837 ء میں محلہ کوٹلی مفتیاں ،لاہور میں ہوئی۔ تحصیلِ علم:آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم والدِ ماجد سے حاصل کی، علمِ طب بھی انہی سے حاصل کی، پھر علامہ مولانا غلام اللہ قصوری ثم لاہوری کی خدمت میں حاضر ہوکر تمام مروجہ علوم، تاریخ اور لغت کی تحصیل کی۔ بیعت: آپ اپنے والدِ ماجد کے دستِ حق پرست پرسلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت ہوئے۔ سیرت وخصائص:مفتی صاحب بے شمار خوبیوں کے مالک تھے، وہ بیک وقت جید عالم، بلند پایہ شاعرو ادیب، معلمِ اخلاق، باکمال تاریخ گو، مستند مورخ، مشہور زمانہ سوانح نگار اور سب سے بڑھ کر سرورِ دو عالم ﷺ، صحابہ کرام اور اولیائے عظام کے محبِ صادق تھے۔ آپ کے خاندان کے تمام بزرگ سنی، حنفی، مفتئ وقت اور جامعِ ۔۔۔
مزید