علامہ مولانا حافظ غلام رضا علوی قادری شاذلی
نام: غلام رضا
نسب: علوی
ولادت: 1942ء،
بروز پیر۔
مقامِ ولادت: تحصیل
پنڈی گھیب، ضلع اٹک، پنجاب، پاکستان
والدِ ماجد: حضرت حیات محمد علوی
تعلیم:حضرت علامہ مولانا
حافظ غلام رضا علوی قادری شاذلینے ابتدائی دینی تعلیم اپنے والدِ ماجد حضرت
حیات محمد علویسے حاصل کی اور حفظِ قرآنِ پاک بھی اُنھی سے کیا۔ 1958ء میں اپنے گاؤں سے ہجرت کر کے راولپنڈی تشریف لے آئے۔
یہاں عربی و فارسی کتب اپنے وقت کے کامل بزرگ حضرت سیّد
محمود شاہ سے پڑھیں۔حضرت سیّد محمود شاہ اپنے شاگردِ ارجمند کے بارے میں
فرمایا کرتے تھے:
’’اللہ تعالیٰ تجھے دین،
دنیا اور آخرت کے انعامات کے ساتھ چار چاند لگائے کیوں کہ میں نے تم جیسا ذوق و
شوق والا طالبِ علم نہیں دیکھا۔‘‘
آپ نے فاضلِ فارسی
کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا اور 1964ء میں قیامِ مدینۂ منوّرہ کے دوران
جامعہ اسلامیہ (اسلامک یونیورسٹی) سے قراءت اور تجوید کے فن میں کمال حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ نے قیامِ مدینۂ منوّرہ کےانھی اَیّام میں محدثِ وقت قطب الاقطاب فضیلۃ
الشیخ السید محمد ابراہیم الحسنی المدنی جو کہ مسجدِ نبوی کے پہلے
ڈائریکٹر تھے سے سلسلۂ شاذلیہ کی اجازت پائی۔ یہاں آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ
رمضان المبارک میں جس مقدّس مقام پر حضور تاجْدارِ اَنبیا
عَلٰی
نَبِیِّنَا وَعَلَیْھِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلام رمضان
المبارک میں بیٹھ کر جبریلِ امین کے
ساتھ قرآنِ مجید کا دور کیا کرتے تھے، اُسی مقام پر حضرت علامہ غلام رضا شاذلی اپنے شیخ کامل فضیلۃ الشیخ السید محمد
ابراہیم الحسنی المدنی کے ساتھ مل کر قرآنِ مجید کا دور کرتے رہے۔ اِنھی دنوں میں،
آپ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلویکے
خلیفۂ اجل قطبِ مدینہ فضیلۃا لشیخ حضرت مولانا
شاہ ضیا الدین احمد قادری مدنیکی خدمت میں
ایک طویل عرصہ رہنے کا شرف بھی حاصل ہوا، اُن سے بھی سلسلۂ قادریہ، شاذلیہ، سَنوسیہ
اور سمانیہ میں اجازت و سندِ خلافت حاصل کی۔
وقت کے غوث اور صاحبِ کشف و مطلع علی
الخواطر شخصیت حضرت سیّدالواصلین الرشیدی الشاذلی
نے آپ سے ایک دن فرمایا :
’’میں تمہیں اُس دن سے جانتا
ہوں جب ابھی تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔، تمہارا مقام اللہ ربّ العزت نے تم سے بھی
چھپایا ہوا ہے۔‘‘
دیگر رو حانی شخصیات جن سے آپ مستفیض ہوئے،
اُن میں فضیلۃ الشیخ السید محمد امین قطبی (المتوفّٰی1327ھ)
اور شیخ القراء الدبار المعرب خلوتی الشاذلی،
عظیم شاذلی بزرگ سیّدی عبدالناصر الحسینی اور ابی بکر
الجزازی الشاذلی بھی ہیں۔
حج و
زیارت:
1964ء میں حج
و زیارتِ حرمین شریفین کے لیے حاضر ہوئے۔ آپ نے 30 سے زائد حج ادا کرنے کی سعادت
حاصل کی۔
خطابت و امامت:
1964ء ہی میں، آپ نے اپنے
اُستاذِ محترم حضرت سیّد محمود شاہ اور حضرت قبلہ
بابو جی گولڑوی کے
ارشاد پر مسجدِ مٹکال میں خطابت کی ذمّے داری سنبھالی۔
آپ ایران کے سفارت خانہ پاکستان میں چودہ
سال تک نمازِ تراویح اور جمعتہ المبارک کی بھی امامت کراتے رہے۔
سفر:
آپ نے مصر، شام ، الجزائر اور دیگر ممالک
کے سفر کیے اور شیخ محی الدین ابنِ عربی، امام جلال الدین السیوطی الشافعی کے علاوہ صحابۂکرام
اور اہلِ بیعتِ
اَطہار کے مزارات کی زیارت سے بھی فیض یاب ہوئے۔
قیامِ بغداد کے دوران، مسجدِ سیّدنا غوثِ
اعظم میں آپ نے امامت کے فرائض انجام دیے۔
کتب خانہ (Library):
آپ کی لائبریری میں عربی و فارسی کی مطبوعہ
کتب تقریباََ 4000 اور قلمی نسخے تقریباََ 300 کے قریب موجود ہیں۔ آپ کی سرپرستی میں آپ کے حلقۂ مریدین نے
پنجاب میں برقی کتب خانوں(E-Libraries) کا ایک جال بچھا رکھا ہے،
جن کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔
وصال:
11؍ رجب المرجب 1442ھ مطابق 23؍ فروری2021ء۔
ماخذ:
حضرت علامہ حافظ غلام رضا علوی قادری
شاذلیسے متعلق یہ تمام معلومات، اِس فقیر (ندیم احمد نؔدیم نورانی) نے جناب طارق نذیر شاذلی صاحب کے مضمون سے لی ہیں،
جس کا لنک یہ ہے:
https://www.facebook.com/apnakisran/posts/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%B1%D8%B6%D8%A7-%D8%B9%D9%84%D9%88%DB%8C-%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8 %B4%D8 %A7%D8%B0%D9%84%DB%8C-%D8%B1%D8%AD%D9%85%DB%83-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8
%B9 %D9%84%DB%8C%DB%81-
