بانی سلسلۂ اشرفیہ مخدوم سیّداشرف جہانگیرسمنانی
نام : سیّد اشرف
نسب: آپ نسباً سیّد ہیں۔
اَلقاب :
جہانگیر ، شاہِ سمنان ، محبوبِ یزدانی، غوث العالم، اَوحَد الدین، تارک
السلطنت
آپ
کا سلسلۂ نسب یہ ہے:
مخدوم سلطان سیّد اشرف جہانگیر سمنانی
بن سلطان سیّد ابراہیم بن سلطان سیّد
عمادالدین نور بخشی بن سلطان سیّد نظام الدین محمد علی شیر بن سلطان سیّد ظہیرالدین محمد بن سلطان سیّدتاج الدین بہلول بن
سلطان سیّد محمود نور بخشی بن سیّد مہدی بن سیّد اکمل الدین بن سیّد جمال الدین بن سیّد حسین
نسیف بن سیّد ابو حمزہ احمد بن سیّد ابو موسیٰ
علی بن سیّد اسماعیل ثانی بن سیّد
ابوالحسن محمد بن سیّد اسماعیل عارج بن حضرت امام جعفر صادق بن حضرت امام محمد باقر
بن حضرت امام زین العابدین بن حضرت امام حسین بن حضرت امیرالمومنین اسداللہ الغالب علی ابن ابی طالب (رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم)
ولادتِ باسعادت:
آپ نے 712ھ میں اس
عالم کو روشنی بخشی۔
ولادت کی پیشین گوئی:
آپ کی
ولادت سےقبل حضرت خواجہ احمدیسوی کی روح پاک نےآپ کی والدۂ ماجدہ کومطلع کیاتھاکہ آپ
کےگھرایک لڑکاپیداہوگا،جواپنےنورولایت سےدنیاکوروشن کرےگا۔
والدِ گرامی:
آپ کےوالدسلطان
ابراہیم (المتوفّٰی 723ھ)سمنان کےبادشاہ تھے۔
والدۂماجدہ:
آپ کی والدۂ ماجدہ کانام خدیجہ بیگم تھا۔آپ
سمنان کےشاہی خاندان سےتعلق رکھتے تھے۔
تعلیم
و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ
کےوالدِماجدکےسایۂ عاطفت میں ہوئی۔آپ نےسات سال کی عمرمیں قرآن شریف حفظ
کیااورساتھ ہی ساتھ قراءت بھی سیکھی۔پھرعلوم ظاہری کی طرف توجہ فرمائی۔چودہ سال کی
عمرمیں تحصیل علوم ظاہری سےفراغت پائی۔
والدِ ماجدکاوصال:
ابھی
آپ علومِ ظاہری سےفارغ ہی ہوئےتھےکہ آپ کے والدِ ماجدنےداعی اجل کو لبیک کہا۔ تخت
نشینی والدِ محترم کےانتقال کےبعدآپ تخت پرجلوہ افروز ہوئے اور حکومت سنبھالی۔
تخت سےدست برداری:
حضرت خضرعلیہ
السلام کی نصیحت آپ کی زندگی میں کایاپلٹ کاباعث ہوئی۔آپ
تاج وتخت سے دست بردارہوئے۔ حکومت سلطان محمودکےسپردفرمائی اوراپنی والدۂ ماجدہ
سےاجازت لے کرہندوستان روانہ ہوئے۔
ہندوستان میں آمد:
اوچ
شریف پہنچ کرحضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشتکےروحانی فیوض وبرکات سے مستفیدومستفیض
ہوئے،پھردہلی سے بنگال روانہ ہوئے۔
بشارت:
آپ
حضرت اُوَیس قرنی کی زیارت
سےخواب میں مشرف ہوئے۔انہوں نےآپ کو ذکرِ اُوَیسیہ تعلیم فرمایا۔ایک دن
حضرت خضر علیہ السلام نےتشریف
لاکرآپ سےفرمایا کہ
’’اگرخداکی
طلب ہےتودنیاکوچھوڑو،ہندوستان جاؤاورشیخ علاؤالدین بنگالی
سے
اپنا حصّہ لیں۔‘‘
بیعت وخلافت:
حضرت
شیخ علاؤالدین بنگالی نےآپ کا شان داراستقبال کیا۔آپ کی آمدپرخوشی
کااظہارکیا۔اپنے حلقۂ اِرادت میں آپ کوداخل کیا۔’’جہاں
گیر‘‘ کےلقب سےآپ کوممتازکیااورخرقۂ خلافت سے سرفراز
کیا۔
شجرۂ طریقت:
1.
فخرِ کائنات ِ محسنِ انسانیت سرور ِ
دوجہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
2.
حضرت سیّدنا مولیٰ علی مرتضیٰ
3.
حضرت خواجہ حسن بصری
4.
حضرت خواجہ عبد الواحد ابن زید
5.
حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض
6.
حضرت خواجہ سلطان ابراہیم اَدْہَم
7.
حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ
8.
حضرت خواجہ امین الدین ہبیرۃ البصری
9.
حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری
10.
حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی
11.
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی
12.
حضرت خواجہ محمد بن ابو
احمد چشتی
13.
حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی
14.
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی
15.
حضرت خواجہ حاجی شریف
زندنی
16.
حضرت خواجہ عثمان ہارونی
17.
حضرت خواجۂ خواجگان غریب نواز سُلطان الہند مُعین الدین حسن چشتی اجمیری
18.
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اوشی
19.
حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر
20.
حضرت خواجہ سلطان المشائخ محبوب الٰہی نظام الدین
اولیا ء
21.
حضرت خواجہ عثمان اخی سراج الحق والدّین آئینہ ہند
22. حضرت خواجہ
علا ء الحق والدین گنج
نبات
23. حضرت غوث العالم محبوب ِ یزدانی مخدوم سلطان سیّد اشرف جہانگیر سمنانی
تصانیفِ
جلیلہ:
1. رسالہ مناقبِ اصحابِ کاملین و
مراتبِ خلفائے راشدین
2. رسالہ غوثیہ
3. بشارۃ الاخوان
4. ارشادالاخوان
5. فوائد الاشرف
6. اشرف الفوائد
7. رسالہ بحث وحدۃ
الوجود
8. تحقیقاتِ عشق
9. مکتبوباتِ اشرفی
10. اشرف الانساب
11. مناقبِ السادات
12. فتاوائے اشرفی
13. دیوانِ اشرف
14. رسالہ تصوف و اخلاق
(بزبانِ اردو)
15. رسالہ حجۃ الذاکرین
16. بشارۃ المریدین رسالۃ
قبریہ
17. کنزالاسرار
18. شرح سکندر نامہ
19. سرالاسرار
20.
شرح عوارف المعارف
21. شرح فصول الحکم
22.
قواعدالعقائد
23.
تنبیہ الاخوان
24.
تفسیر نور بخشیہ
25.
رسالہ در تجویز طعنۂ یزید
26.
بحرالحقائق
27.
نحوِ اشرفیہ
سیرت ِمبارک:
آپ جامعِ علومِ ظاہری و باطنی تھے۔آپ نے چارخانوادوں سے
فیض حاصل کیا۔آپ علم،عبادت، مجاہدہ، زُہدوتقویٰ، حلم،جودوسخا،تحمل اوربردباری میں
بے نظیرتھے۔آپ صاحبِ کشف و کرامت بزرگ تھے۔ آپ فرماتےہیں:
’’جب
سالک عقائدواصطلاحِ صوفیہ سے واقف ہوگیاتواس کےلیے ضروری ہےکہ زیادہ وقت محفلِ
توحیدمیں صرف کرےاورمثل بگلے کے بیٹھا رہے۔‘‘
آپ سےپوچھاگیاکہ بگلےکی طرح بیٹھنےسےکیا مراد ہے، تو آپ نےجواب دیا:
’’بغیرتلاش
کےپانا، بغیر دیکھے ہوئے دیدارہوجانا۔‘‘
ایک اور مقام پر آپ فرماتےہیں:
’’بعض
لوگوں کایہ خیال ہےکہ نوافل پڑھناخدمتِ خلق سےبہترہے، اُن کایہ خیال غلط ہے،کیوں
کہ خدمت کاجواثرقلب پرپڑتاہے، وہ ظاہر ہے۔ دونوں کےنتیجےپرنظرکرتےہوئے یہ تسلیم
کرنا پڑتا ہے کہ خدمتِ خلق نوافل پڑھنےسےبہترہے۔‘‘(تذکرہ اولیائے پاک وہند، ص125)
وِصالِ پُرملال:
آپ نے27؍ محرم 808ھ کواس جہانِ فانی سے سفرِ دارِ
آخرت فرمایا۔
مزار ِ پُر اَنوار:
آپ کامزارِپُرانوارکچھوچھہ شریف میں مرجعِ خاص
وعام ہے۔
