شیخ ابو الحسین احمد نوری
نام : احمد
کنیت: ابو
الحسین
لقب: نوری
مقامِ ولادت:
آپ
کی ولادت باسعادت بغداد عراق میں ہوئی۔ ’’شیخ
ابو الحسین نوری‘‘ کےنام سے معروف ہیں۔
سلسلہ نسب :
شیخ احمد بن محمد بن الفتوری علیہم
الرحمہ۔آپ کے والد ماجد بغشور افغانستان کے رہنے والے تھے۔ جو ہرات اور مرو کے درمیان کاعلاقہ ہے۔پھر افغانستان سےبغداد کی طرف ہجرت
فرمائی۔
نوری کہنے کی وجہ :
آپ کو نوری اس لیے کہا جاتا ہے کہ
رات کی تاریکی میں گفتگو فرماتے تو منہ سے نور کی کرنیں ظاہر ہوتیں،جن سے سارا ماحول روشن ہوجاتا تھا۔
آپ نورِ کرامت سے لوگوں کے دلوں کے
حالات معلوم کرلیتے،آپ صحراء میں ایک خانقاہ
میں رہا کرتے تھے،لوگ آپ کی زیارت کو جاتے تو آپ کی جائےمقام سےنورکی شعاعیں دیکھتے جو آسمان کو چھوتیں۔اندھیری
رات میں آسانی کےساتھ اس مقام پر پہنچ جاتےتھے۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ولادت باسعادت بغداد کے شہر میں ہوئی، بغداد شہر اس وقت علم وفن کااوراسلامی علوم کاگہوارہ تھا، بڑےبڑے
علماء ومحدثین ومفسرین اور صوفیاء موجود تھے، اسی مرکزِ علم وفن میں آنکھ کھولی۔مختلف
شیوخ سےعلمی وروحانی استفادہ کیا،آپ کاشماروقت کےجید علماء وصوفیاء میں ہوتا تھا۔
بیعت وخلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ شیخ سری
سقطی رحمۃ اللہ علیہ کےمرید وخلیفہ تھے۔اسی طرح جنید
بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کےرفیق ِ خاص تھے۔حضرت شیخ احمد بن احمد جواری رحمۃ اللہ
علیہ سےبھی ملاقات ہے۔ان کےعلاوہ بکثرت مشائخ سےملے ہیں۔
سیرت وخصائص:
پیشوائے اربابِ طریقت،امام ِ شریعت،شیخ
المشائخ،امام الآئمہ،بانیِ سلسلہ عالیہ نوریہ شیخ ابو الحسین نوری رحمۃ اللہ علیہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کاشمار
کباراولیاء کرام اور صوفیاءِ عظام میں ہوتا ہے۔
مشائخ و صوفیہ آپ کو’’ امیر القلو ب‘‘ کے لقب سے
یاد کیا کرتے تھے۔بعض صوفیاء آپ کو ’’قمر الصوفیاء‘‘اور ’’طاؤس العباد‘‘ کے نام سے
پکارتے تھے ۔آپ نے شیخ سری سقطی قدس سرہ سے خرقہ خلافت پایا تھا
اور حضرت شیخ احمد حواری کی مجالس سے بھی استفادہ کیا، آپ جنید
بغدادی کے معاصر تھے خود مجتہد صاحب مذہب امام طریقت اور سلسلہ نوریہ کے بانی تھے۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابتدائے کار
میں ایک دن میں دریائے دجلہ پر گیا دو کشتیوں کے درمیان کھڑے ہوکر کہنے لگا، جب تک
مجھے ساٹھ سیر کی ایک مچھلی نہ ملے گی میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔دریا سے ایک بہت
بڑی مچھلی اچھلی میں کنارے پر لایا، اور کہا الحمدللہ میرا کام ہوگیا، میں نے یہ
کرامت حضرت جنید بغدادی کو سنائی، تو آپ نے فرمایا اے ابوالحسین اگر مچھلی کی بجائے
اتنا بڑا سانپ نکل آتا اور تجھے ڈس لیتا اور تم مرجاتے تو اس سے کہیں بہتر تھا کہ
تم اپنی کرامت کا فخریہ اظہار کرتے۔
خلیفہ بغداد کا ایک مقرب خلیل صوفیا
کی مخالفت پر کمربستہ ہوا،دربار میں کھڑے ہوکر کہنے لگا۔ امیر المومنین! یہاں ایک
ایسی جماعت پیدا ہوئی ہے جو سُرورگاتی ہےاور رقص کرتی ہے،لوگ ان سے دلچسپی کا
اظہار کرتے ہیں وہ خلاف شرع باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی وجہ سے لوگ اسلام سے
برگشتہ ہو رہے ہیں،اگر آپ ان زندیقوں کے قلع قمع کرنے کا اختیار دیں تو میں اس
فتنہ کو اکھاڑپھینکوں،خلیفہ نے ان لوگوں کو دربار میں طلب کیا، شیخ ابوحمزہ،حضرت شیخ
شبلی،حضرت رقام ،حضرت شیخ ابوالحسین نوری اور شیخ الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے
علاوہ بہت سے صوفیاء حاضرِ دربار ہوئے، رحمۃ اللہ علیہم، خلیفہ نے سب کو قتل کرنے
کا حکم دیا۔
جلّاد نے سب سے پہلےشیخ رقام کی
گردن اڑانی چاہی مگرحضرت نوری کودکرآگےبڑھےاور اپنی گردن پیش کردی، مسکراتے اور
ہنستے ہوئے موت کے سامنے کھڑے ہوگئے،اہل دربار آپ کی اس جرأت پر دنگ رہ گئے،
لوگوں نے کہا، اللہ کے بندے تلوارکا لحاظ
نہیں کیا کرتی کہ میرےآگےکون ہے،آپ نے فرمایا میرا طریقۂ تصوف توایثار ہے، یہی میری
دنیا کی عزیز ترین چیزہے،میں اپنی زندگی کے چند لمحات اپنے بھائی پر نثار کرنا
چاہتا ہوں حالانکہ میں اس زندگی کو آخرت کے ہزار سال سے قیمتی جانتا ہوں۔
خلیفہ نے سنا جلّاد کو کہا ہاتھ روک
لو،مجھے علماء وقت سے فتویٰ لینے دو،قاضیِ شہر کو بلایا گیا قاضی نے کہا ان سب میں
سے کامل علوم حضرت جنید ہیں، ابو الحسین تو
دیوانہ مزاج انسان ہیں،ان سے شرعی مسئلہ کیا پوچھوں،حضرت جنید بغدادی نے قاضی سے
پوچھا، حضرت بیس دینار پر زکوٰۃ کتنی دی جائے گی،حضرت شبلی نے بڑھ کرجواب دیا کہ
ساڑھے بیس دینارقاضی نے پوچھا کوئی شرعی دلیل،آپ نے فرمایا، سیّدنا صدیق اکبر رضی
اللہ عنہ کے پاس چالیس ہزار دینار تھےآپ نے سب کے سب دے دیے، اور اپنے پاس کچھ نہ
رکھا۔ ہم صوفیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اتباع میں بیس کے بیس دیں گے۔
قاضی نے کہا کہ آدھا دینار کیا ہے؟ حضرت شبلی نے فرمایا یہ کفارہ ہے اس بات کا کہ
بیس دینار اپنے پاس جمع کیوں کیے رکھے،قاضی نے خلیفہ کی طرف منہ کرکے کہا، اگر یہ
لوگ زندیق اورملحد ہیں، تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ آج عالم اسلام میں کوئی بھی موحد
نہیں ہے،خلیفہ اپنے تخت سے نیچے اترا، صوفیاء کو احترام سے ملا اور کہنے لگا میرے
لائق کوئی خدمت ہو تو حاضر ہوں، صوفیاء نے کہا بس ایک تکلیف دیں گے کہ آج کے بعد
ہم سب کو اپنی مقبولیت سے دور رکھیے ، اور پھر کبھی دربار میں طلب نہ کریں خلیفہ
رونے لگا، اور بے پناہ احترامات کے ساتھ الوداع کہنے دور تک پا پیادہ باہر آیا۔
ایک دن ابو الحسین
نوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص حاضر
ہوا ،آپ اور وہ شخص دونوں رونے لگے،کچھ وقت گزرا تو وہ شخص رخصت ہوا، حاضرین مجلس
نے پوچھا یا حضرت یہ کون شخص تھا،آپ نے فرمایا یہ ابلیس تھا،وہ اپنی خدمات اور
قربت الی اللہ کے واقعات بیان کرکے رو رہا تھا اور اسے اللہ کی بارگاہ سے محرومی
پر رونا آتا تھا ، میں اس کی باتیں سن کر رو رہا تھا، کہ جب اتنا قریب ترین
دھتکارا جاسکتا ہے، تو دوسرا کون ہے جو دم مارسکے ۔ایک دن آپ دریائے دجلہ میں نہا
رہے تھے ایک چور آگے بڑھا آپ کے کپڑے اٹھا کر بھاگ نکلا ابھی تھوڑی دور گیا تھا کہ
ا س کا ہاتھ سوکھ گیا واپس آیا جس جگہ سے کپڑے اٹھائے تھے لار کھے، ابوالحسین نوری
نے دعا کی، اے اللہ اس چور نے میرے کپڑے لوٹا دیے ہیں، تو بھی اس کے بازو کو
توانائی بخش دے۔ وہ اسی وقت صحت یاب ہوگیا۔ (روض الریاحین،ص295)
ایک بار بغداد کی مارکیٹ میں آگ
بھڑک اٹھی سینکڑوں مکانات جل گئے، لاکھوں کی جائیداد راکھ ہوگئی، دو رومی غلام جو
نہایت حسین و جمیل تھے، آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آگئے، ان کے مالک کو وہ بہت پیارے
تھے، اس نے اعلان کیا، آج جو ان دو غلاموں کو بچائے گا اسے دو ہزار دینار خالص
انعام دوں گا، کسی کو جرات نہ ہوتی تھی کہ بھڑکتے ہوئے شعلوں میں آگے بڑھے اتفاقاً
ابوالحسین
نوری وہاں سے گزر رہے تھے، آپ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا، اور آگ میں قدم
رکھ کر آگے بڑھے بچوں کو آگ کے شعلوں سے لے آئے، اُس نے آپ کی خدمت میں دو ہزار دینا
رپیش کیےمگر آپ نے لوٹادیے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے دنیا کی دولت قبول نہ کرنے کی
وجہ سے مجھے یہ انعام دیا ہے۔
ایک دن ابو الحسین
نوری رحمۃ اللہ علیہ نےایک شخص کو دیکھا
کہ جس کا گدھا مرگیا تھا اور زور دار ژالہ باری ہورہی تھی وہ شخص بہت گھبرایا ہوا
تھا، حضرت آگے بڑھے اور گدھے پر قدم رکھ کر فرمانے لگے، اُٹھ اور اس شخص کو اپنی
منزل پر پہنچا،اس شخص نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور چلتا بنا۔
آپ کی اکثر زندگی بغداد میں گزری،علم
شریعت میں یگانہ روزگار تھے،نوریہ کا سلسلۂ طریقت آپ کے نام سے موسوم ہوا،شاعری میں
ممتاز مقام کے مالک تھے،آپ کی ظاہری زندگی پابند شریعت تھی۔ شرع کے نفاذ میں خلیفہ
ٔوقت کے شراب خانہ کو توڑ پھوڑ دیا،خلیفہ نے پوچھا تم ایسا کرنے والے کون ہو،فرمایا
میں محتسب ہوں،پوچھا تمہیں کس نے محتسب بنایا،فرمایا جس نے تجھے خلیفہ بنایا، طریقت
میں معارف الٰہیہ بیان کرتےتھے۔
خواجہ فریدالدین عطار نے تذکرہ اولیاء
میں حضرت سیّد علی ہجویری داتا گنج بخش لاہوری نے کشف المحجوب میں صاحب رسالہ قشیریہ
اور طبقات شعرانی نے آپ کو ہدیۂ تحسین پیش کیا ہے، آپ کا سلسلہ طریقت صدیوں تک
عراق، ایران میں مقبول و محبوب رہا۔
وصال:
آپ کاوصال پر ملال 24/شوال المکرم295ھ مطابق 17 جون 912 کوبغداد میں
ہوا۔
آپ کےوصال پر سیدالطائفہ حضرت جنید
بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا:نوری
کےانتقال سےآدھا علم جاتا رہا۔
(نفحات الانس:94)
ماخذ ومراجع: خزینۃ الاصفیاء۔سکینۃ
الاولیاء۔نفحات الانس۔فیضانِ صوفیاء۔
شیخ ابو الحسین احمد نوری
نام : احمد
کنیت: ابو
الحسین
لقب:
مقامِ ولادت:
آپ
کی ولادت باسعادت بغداد عراق میں ہوئی۔ ’’شیخ
ابو الحسین نوری‘‘ کےنام سے معروف ہیں۔
سلسلہ نسب :
شیخ احمد بن محمد بن الفتوری علیہم
الرحمہ۔آپ کے والد ماجد بغشور افغانستان کے رہنے والے تھے۔ جو ہرات اور مرو کے درمیان کاعلاقہ ہے۔پھر افغانستان سےبغداد کی طرف ہجرت
فرمائی۔
نوری کہنے کی وجہ :
آپ کو نوری اس لیے کہا جاتا ہے کہ
رات کی تاریکی میں گفتگو فرماتے تو منہ سے نور کی کرنیں ظاہر ہوتیں،جن سے سارا ماحول روشن ہوجاتا تھا۔
آپ نورِ کرامت سے لوگوں کے دلوں کے
حالات معلوم کرلیتے،آپ صحراء میں ایک خانقاہ
میں رہا کرتے تھے،لوگ آپ کی زیارت کو جاتے تو آپ کی جائےمقام سےنورکی شعاعیں دیکھتے جو آسمان کو چھوتیں۔اندھیری
رات میں آسانی کےساتھ اس مقام پر پہنچ جاتےتھے۔
تحصیلِ علم:
آپ کی ولادت باسعادت بغداد کے شہر میں ہوئی، بغداد شہر اس وقت علم وفن کااوراسلامی علوم کاگہوارہ تھا، بڑےبڑے
علماء ومحدثین ومفسرین اور صوفیاء موجود تھے، اسی مرکزِ علم وفن میں آنکھ کھولی۔مختلف
شیوخ سےعلمی وروحانی استفادہ کیا،آپ کاشماروقت کےجید علماء وصوفیاء میں ہوتا تھا۔
بیعت وخلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ شیخ سری
سقطی رحمۃ اللہ علیہ کےمرید وخلیفہ تھے۔اسی طرح جنید
بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کےرفیق ِ خاص تھے۔حضرت شیخ احمد بن احمد جواری رحمۃ اللہ
علیہ سےبھی ملاقات ہے۔ان کےعلاوہ بکثرت مشائخ سےملے ہیں۔
سیرت وخصائص:
پیشوائے اربابِ طریقت،امام ِ شریعت،شیخ
المشائخ،امام الآئمہ،بانیِ سلسلہ عالیہ نوریہ شیخ ابو الحسین نوری رحمۃ اللہ علیہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کاشمار
کباراولیاء کرام اور صوفیاءِ عظام میں ہوتا ہے۔
مشائخ و صوفیہ آپ کو’’ امیر القلو ب‘‘ کے لقب سے
یاد کیا کرتے تھے۔بعض صوفیاء آپ کو ’’قمر الصوفیاء‘‘اور ’’طاؤس العباد‘‘ کے نام سے
پکارتے تھے ۔آپ نے شیخ سری سقطی قدس سرہ سے خرقہ خلافت پایا تھا
اور حضرت شیخ احمد حواری کی مجالس سے بھی استفادہ کیا، آپ جنید
بغدادی کے معاصر تھے خود مجتہد صاحب مذہب امام طریقت اور سلسلہ نوریہ کے بانی تھے۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابتدائے کار
میں ایک دن میں دریائے دجلہ پر گیا دو کشتیوں کے درمیان کھڑے ہوکر کہنے لگا، جب تک
مجھے ساٹھ سیر کی ایک مچھلی نہ ملے گی میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔دریا سے ایک بہت
بڑی مچھلی اچھلی میں کنارے پر لایا، اور کہا الحمدللہ میرا کام ہوگیا، میں نے یہ
کرامت حضرت جنید بغدادی کو سنائی، تو آپ نے فرمایا اے ابوالحسین اگر مچھلی کی بجائے
اتنا بڑا سانپ نکل آتا اور تجھے ڈس لیتا اور تم مرجاتے تو اس سے کہیں بہتر تھا کہ
تم اپنی کرامت کا فخریہ اظہار کرتے۔
خلیفہ بغداد کا ایک مقرب خلیل صوفیا
کی مخالفت پر کمربستہ ہوا،دربار میں کھڑے ہوکر کہنے لگا۔ امیر المومنین! یہاں ایک
ایسی جماعت پیدا ہوئی ہے جو سُرورگاتی ہےاور رقص کرتی ہے،لوگ ان سے دلچسپی کا
اظہار کرتے ہیں وہ خلاف شرع باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی وجہ سے لوگ اسلام سے
برگشتہ ہو رہے ہیں،اگر آپ ان زندیقوں کے قلع قمع کرنے کا اختیار دیں تو میں اس
فتنہ کو اکھاڑپھینکوں،خلیفہ نے ان لوگوں کو دربار میں طلب کیا، شیخ ابوحمزہ،حضرت شیخ
شبلی،حضرت رقام ،حضرت شیخ ابوالحسین نوری اور شیخ الطائفہ حضرت جنید بغدادی کے
علاوہ بہت سے صوفیاء حاضرِ دربار ہوئے، رحمۃ اللہ علیہم، خلیفہ نے سب کو قتل کرنے
کا حکم دیا۔
جلّاد نے سب سے پہلےشیخ رقام کی
گردن اڑانی چاہی مگرحضرت نوری کودکرآگےبڑھےاور اپنی گردن پیش کردی، مسکراتے اور
ہنستے ہوئے موت کے سامنے کھڑے ہوگئے،اہل دربار آپ کی اس جرأت پر دنگ رہ گئے،
لوگوں نے کہا، اللہ کے بندے تلوارکا لحاظ
نہیں کیا کرتی کہ میرےآگےکون ہے،آپ نے فرمایا میرا طریقۂ تصوف توایثار ہے، یہی میری
دنیا کی عزیز ترین چیزہے،میں اپنی زندگی کے چند لمحات اپنے بھائی پر نثار کرنا
چاہتا ہوں حالانکہ میں اس زندگی کو آخرت کے ہزار سال سے قیمتی جانتا ہوں۔
خلیفہ نے سنا جلّاد کو کہا ہاتھ روک
لو،مجھے علماء وقت سے فتویٰ لینے دو،قاضیِ شہر کو بلایا گیا قاضی نے کہا ان سب میں
سے کامل علوم حضرت جنید ہیں، ابو الحسین تو
دیوانہ مزاج انسان ہیں،ان سے شرعی مسئلہ کیا پوچھوں،حضرت جنید بغدادی نے قاضی سے
پوچھا، حضرت بیس دینار پر زکوٰۃ کتنی دی جائے گی،حضرت شبلی نے بڑھ کرجواب دیا کہ
ساڑھے بیس دینارقاضی نے پوچھا کوئی شرعی دلیل،آپ نے فرمایا، سیّدنا صدیق اکبر رضی
اللہ عنہ کے پاس چالیس ہزار دینار تھےآپ نے سب کے سب دے دیے، اور اپنے پاس کچھ نہ
رکھا۔ ہم صوفیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اتباع میں بیس کے بیس دیں گے۔
قاضی نے کہا کہ آدھا دینار کیا ہے؟ حضرت شبلی نے فرمایا یہ کفارہ ہے اس بات کا کہ
بیس دینار اپنے پاس جمع کیوں کیے رکھے،قاضی نے خلیفہ کی طرف منہ کرکے کہا، اگر یہ
لوگ زندیق اورملحد ہیں، تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ آج عالم اسلام میں کوئی بھی موحد
نہیں ہے،خلیفہ اپنے تخت سے نیچے اترا، صوفیاء کو احترام سے ملا اور کہنے لگا میرے
لائق کوئی خدمت ہو تو حاضر ہوں، صوفیاء نے کہا بس ایک تکلیف دیں گے کہ آج کے بعد
ہم سب کو اپنی مقبولیت سے دور رکھیے ، اور پھر کبھی دربار میں طلب نہ کریں خلیفہ
رونے لگا، اور بے پناہ احترامات کے ساتھ الوداع کہنے دور تک پا پیادہ باہر آیا۔
ایک دن ابو الحسین
نوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص حاضر
ہوا ،آپ اور وہ شخص دونوں رونے لگے،کچھ وقت گزرا تو وہ شخص رخصت ہوا، حاضرین مجلس
نے پوچھا یا حضرت یہ کون شخص تھا،آپ نے فرمایا یہ ابلیس تھا،وہ اپنی خدمات اور
قربت الی اللہ کے واقعات بیان کرکے رو رہا تھا اور اسے اللہ کی بارگاہ سے محرومی
پر رونا آتا تھا ، میں اس کی باتیں سن کر رو رہا تھا، کہ جب اتنا قریب ترین
دھتکارا جاسکتا ہے، تو دوسرا کون ہے جو دم مارسکے ۔ایک دن آپ دریائے دجلہ میں نہا
رہے تھے ایک چور آگے بڑھا آپ کے کپڑے اٹھا کر بھاگ نکلا ابھی تھوڑی دور گیا تھا کہ
ا س کا ہاتھ سوکھ گیا واپس آیا جس جگہ سے کپڑے اٹھائے تھے لار کھے، ابوالحسین نوری
نے دعا کی، اے اللہ اس چور نے میرے کپڑے لوٹا دیے ہیں، تو بھی اس کے بازو کو
توانائی بخش دے۔ وہ اسی وقت صحت یاب ہوگیا۔ (روض الریاحین،ص295)
ایک بار بغداد کی مارکیٹ میں آگ
بھڑک اٹھی سینکڑوں مکانات جل گئے، لاکھوں کی جائیداد راکھ ہوگئی، دو رومی غلام جو
نہایت حسین و جمیل تھے، آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آگئے، ان کے مالک کو وہ بہت پیارے
تھے، اس نے اعلان کیا، آج جو ان دو غلاموں کو بچائے گا اسے دو ہزار دینار خالص
انعام دوں گا، کسی کو جرات نہ ہوتی تھی کہ بھڑکتے ہوئے شعلوں میں آگے بڑھے اتفاقاً
ابوالحسین
نوری وہاں سے گزر رہے تھے، آپ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا، اور آگ میں قدم
رکھ کر آگے بڑھے بچوں کو آگ کے شعلوں سے لے آئے، اُس نے آپ کی خدمت میں دو ہزار دینا
رپیش کیےمگر آپ نے لوٹادیے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے دنیا کی دولت قبول نہ کرنے کی
وجہ سے مجھے یہ انعام دیا ہے۔
ایک دن ابو الحسین
نوری رحمۃ اللہ علیہ نےایک شخص کو دیکھا
کہ جس کا گدھا مرگیا تھا اور زور دار ژالہ باری ہورہی تھی وہ شخص بہت گھبرایا ہوا
تھا، حضرت آگے بڑھے اور گدھے پر قدم رکھ کر فرمانے لگے، اُٹھ اور اس شخص کو اپنی
منزل پر پہنچا،اس شخص نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور چلتا بنا۔
آپ کی اکثر زندگی بغداد میں گزری،علم
شریعت میں یگانہ روزگار تھے،نوریہ کا سلسلۂ طریقت آپ کے نام سے موسوم ہوا،شاعری میں
ممتاز مقام کے مالک تھے،آپ کی ظاہری زندگی پابند شریعت تھی۔ شرع کے نفاذ میں خلیفہ
ٔوقت کے شراب خانہ کو توڑ پھوڑ دیا،خلیفہ نے پوچھا تم ایسا کرنے والے کون ہو،فرمایا
میں محتسب ہوں،پوچھا تمہیں کس نے محتسب بنایا،فرمایا جس نے تجھے خلیفہ بنایا، طریقت
میں معارف الٰہیہ بیان کرتےتھے۔
خواجہ فریدالدین عطار نے تذکرہ اولیاء
میں حضرت سیّد علی ہجویری داتا گنج بخش لاہوری نے کشف المحجوب میں صاحب رسالہ قشیریہ
اور طبقات شعرانی نے آپ کو ہدیۂ تحسین پیش کیا ہے، آپ کا سلسلہ طریقت صدیوں تک
عراق، ایران میں مقبول و محبوب رہا۔
وصال:
آپ کاوصال پر ملال 24/شوال المکرم295ھ مطابق 17 جون 912 کوبغداد میں
ہوا۔
آپ کےوصال پر سیدالطائفہ حضرت جنید
بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا:نوری
کےانتقال سےآدھا علم جاتا رہا۔
(نفحات الانس:94)
ماخذ ومراجع: خزینۃ الاصفیاء۔سکینۃ
الاولیاء۔نفحات الانس۔فیضانِ صوفیاء۔
