ابن بحینہ۔ بحینہ ان کیو الدہ کا نام ہے اور ان کے والد کا نام مالک ہے۔ قرش ہیں بنی نوفل بن عبد مناف سے۔ انک ا صحابی ہونا ثابت ہے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ابن مندہ اور ابو نعیمنے یی لکھا ہے کہ یہ بنی نوفل بن عبد مناف سے ہیں جو کوئی اس کو دیکھتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ان کا نسب اسی خاندان سے ہے حالانکہ خود ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کے بھائی عبداللہ بن بحینہ کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ یہ بنی مطلب بن عبد مناف کے حلیف تھے (اس وجہ سے انکی طرف منسوب ہوگئے نہ یہ کہ ان کا نسب اس خاندان میں ہے) اس سے ابو عمرکے قول کو تصحیح ہوتی ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ ماں کی طرف ان کو ہم نے اس وجہے منسوب کیا کہ یہ بہ نسبت باپ کی نسبتکے ماںکی نسبتس ے زیادہ مشہور ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ایاس بن خلدہ بن مخلد بن عامر بن زریق بن عامر بن زریق انصاری خزرجی زرقی۔ بدر میں اور احد میں شریک تھے یہ ابن اسحاق اور موسی بن عقبہ اور واقدی اور ابو معشر کا قول ہے۔ اور عبداللہ بن محمد بن عمارہ نے کہا ہے کہ ان کا نام جبر ہے بیٹِہیں ایاس کے اور یہ جبیر ذکوان بن عبد قیس بن خلدہ کے چچازاد بھائی ہیں۔ خلدہ یسکون لام ہے اور مخلد بضم میم و فتح خاء و لام مشدد ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ربیعہ خارث۔ ان کا ذکر ہشام بن عروہ کی حدیث میں ہے جو انھوں نے بواسطہ اپنے والد کے (ام المومنین) عائشہ رضی اللہ عنہا سے رویت کی ہے کہ وہ کہتی تھیں جبیب بن حارث رسول خدا ﷺ کے حضور میں آئے اور انھوںنے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں ایک شخص ہوں کہ بے حد گناہ کرتا ہوں حضرت نے فرمایا تو اے حبیب اللہ عزوجل کے سامنے توبہ (٭توبہ کے معنی رجوع کرنا دل میں یہ ارادہ کر کے کہ اب میں اس گناہ کو کبھی نہ کروں گا اس کا اظہار بعجز والجاع جناب باری عز کے بارگاہ میں کرنا توبہ ہے۔ پھر چاہے گناہ کر لے مگر س وت ارادہ نہ ہو۔ صحابہ کے قلوب کا پاک ہونا اس رویت اور اس کیمثل اور روایتوں سے معلوم ہوتا ہے جہاں ان سے کوئی لغزش ہوئی فورا ان کو تنبہگ ہوت تھا دل چونکہ آئینہ کی طرف صاف تھے اس لئے ذرا سا بھی غبار موجب تکدر ہو جاتا تھا حضرت اغر رضی اللہ کا بھی قصہ اسی کے قریب قریب ہے کہ ان سے زنا صادر ہوگئی تھی بعد ک۔۔۔
مزید
یہ ایک دوسرے جبلہ ہیں نسب ان کا بھی نہیں بیان کیا گیا۔ ہمیں ابو موسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن حارث اپنی کتاب میں خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حسین بن احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن خثیمہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابن اصہانی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں شریک نے ابو اسحاق سے انھوں نیایک اور شخص سے جن کا نام انھوں نے اپنے چچا سے جبلہ نقل کیا تھا روایت کر کے خبر دی وہ کہتے تھے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ جب میں اپنے بستر پر (سونے کے لئے) جائوں تو کیا کہوں آپنے فرمایا قل یایھا الکافرون پرھ لیا کروں کیوں کہوہ شرک سے (اپنے پڑھنے والے کی) برائت (٭اس سورت میں آیہ کریمہ لااعبد ماتعبدون (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے کافروں جن معبودان باطل کی تم پرستش کرتے ہو ان کی میں پرستش نہیں کرتا) بہت سراہت سے اپنے پڑھنے ولے کو شرکس ے بری کر رہی ہے پس اگر سوتے وقت۔۔۔
مزید
ان کا نسب نہیں بیان کیا گیا۔ یہ صحابی ہیں۔ محمد بن سیرین نے رویت کی ہے کہ کسی شہر میں ایکصحابی تھے ان کا نام جبلہ تھا انھوں نے ایک شخص کی بی بی اور اسی شخص کی بیٹی کیاتھ جو دوسری بی بی سے تھی یکدم نکاح کر لیا تھا ایوب نے کہا ہے کہ حسن البصری اس بات کو مکروہ سمجھت یتھے کہ کسی کی بی بی اور بیٹی کے ساتھ نکاح کیا جائے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مالک بن جبلہ بن صفارہ بن دراع بن عدی بن دار بن بانی بن حبیب بن نمارہ بن لخم۔ لخمی داری۔ تمیم داری کے گروہ سے ہیں نبی ﷺ کے حضور میں بیلہ دار کے لوگوں کے ہمراہ آئے تھے اس وت جب کہ آپ تبوک سے واپس آرہے تھے۔ انکا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ابی کرب بن قیس بن حجرہ بن وہب بن ربیعہ بن معاویہ اکرمیں کندی۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے گئے تھے ان کے ہمراہ دو ہزار پانچ سو آدمی (قبیلہ) عطاء کے تھے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن شراحیل۔ حارثہ بن شراحیل بن عبدالعزی کے بھائی ہیں۔ انکا تذکرہ ابن مندہ نے علیحدہ تذکرہ میں لکھا ہے اور ان کا نسب عذرہ بن زید لات بن رفیدہ بن ثور بن کلب تک پہنچایا ہے پس اس صورت میں یہ زید بن ہارثہ کے چچا ہو جائیں گے۔ بیان کیا گیا ہے کہ حارث (قبیلہ نہان ( جو شاخ ہے قبیلہ طے کی) کی ایک خاتونس ے نکاح کیا تھا ان سے جبلہ اور اسماء اور زید پیدا ہوئے اس کے بعد ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور ان لوگوں نے اپنا دادا کے یہاں تربیت پائی اور وہی حدیث بیان کیہے جو جبلہ ابن حارثہ کیتذکرہ میں گذر چکی۔ ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض راویوںکو وہم ہوگیا ہے اور انھوںنے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ جبلہ چچا ہیں زید کے لہذ ا انھوںنے تذکرہ میں جبلہ عم زید بیان کیا ہے مگر جو شخص اصل قصہ میںگور کرے گا وہ سمجھ لے گا کہ یہ وہم ہے کیوں کہ قصہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حارثہ نے قبیلہ طے کی ایک خاتون سے جو بنی بنہان سے تھ۔۔۔
مزید
ابن سعید بن اسود بن سلمہ بن حجر بن وہب بن ربیعہ بن معاویہ اکرمیں۔ نبی ﷺ کے پس وفد بن کے گئے تھے ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حارثہ۔ زید بن حارثہ بن شراحیل کلبیکے بھائی ہیں ان کا نسب اسامہ بن زید کے تذکرہ میں گذر چکا ہے اور عنقریب زید کے تذکرہ میں انشاء اللہ آئے گا۔ نبی ﷺ کے حضور یں اپنے والد حارثہ کیہمراہ آئے تھے اس وقت نبیﷺ مکہ میں تھے۔ ان کا سن (اپنے بھائی) زید سے زیادہ تھا۔ حارثہ اپنے بیٹے زید کے پاس رہ گئے اور جبلہ لوٹ گئے۔ پھر دوبارہ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے اور اسلام لائے۔ ہمیں عمر بن محمدبن معمر بن طبرز و وغیرہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو القاسم بن حصین نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیںابو طالب یعنی محمد بن محمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو اسحاق یعنی ابراہیم بن محمدبن یحیی مزکی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہیں احمد بن حمدون بن رستم نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ولید بن عمرو بن سکین نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیںعمرو بن نضر نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے ابو عمرو شیبانی سے انھوں نے ابن حا۔۔۔
مزید