الخزاعی: یہ وہی صاحب ہیں، جنہوں نے ابو سفیان کو غزوہ احد کے موقعہ پر دوبارہ مدینے پر حملہ آور ہونے سے روکا تھا۔ عبد اللہ بن عمر نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن اسحاق سے یہ روایت سُنی کہ عبد اللہ بن ابو بکر بن محمد عمرو بن حزم نے بیان کیا، کہ معبد الخزاعی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حمراء الاسد میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ نبو خزاعہ کے وہ تمام افراد جو مسلمان ہوگئے اور جو ابھی مشرک تھے۔ وہ سب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر خواہ تھے۔ ان کا میلان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا اور وہ آپ سے کوئی بات نہیں چھپاتے تھے۔ معبد جو ابھی تک مشرک تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے: ’’اے محمد (صلعم) جو تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پیش آئی بخدا ہمیں اس سے بڑا دُکھ ہوا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ آپ سے اس بات میں در گُزر کرے۔ حضور ۔۔۔
مزید
بن قیس بن صخر اور ایک روایت میں معبد بن وہب بن قیس صخر آیا ہے۔ ایک روایت میں معبد بن قیس بن صیفی بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمۃ انصاری السلمی: یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: معبد بن قیس بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ۔ ان کے بھائی کا نام عبد اللہ تھا۔ اس روایت کے رو سے معبد غزوۂ احد میں بھی شریک تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مخرمہ بن قلع بن حریش بن عبد الاشہل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ احد میں موجود تھے۔ ابو عمر نے مختصراً اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن میسرۃ السلمی: اس میں کچھ شبہ ہے۔ ابو عمر نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن نباتہ: ان کا تعلق بنو غنم بن دو دان سے تھا۔ انہوں نے مدینے کو ہجرت کی۔ ان سے کوئی روایت مروی نہیں۔ ابن اسحاق سے مروی ہے کہ ابو غنم وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے بالا جماع حضور اکرم کے ساتھ مدینے کو ہجرت کی۔ جن میں معبد بن نباتہ بھی تھے۔ ابو نعیم نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کی کہ ان کا نام منقذ بن نباتہ ہے۔ متاخرین میں ابن مندہ کا قول ہے کہ معبد سے مراد منقذ بن نباتہ ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن وہب العبدی: یہ بنو عبد القیس سے تھے۔ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ اور بریرہ بنت زمعہ سے جو ام المومنین سودہ کی بہن تھیں۔ بیا ہے گئے تھے۔ غزوۂ بدر میں یہ دو تلواروں سے مصروف پیکار تھے۔ حضور نے سُن کر فرمایا۔ مجھے بنو عبد القیس کے جوانوں پر رحم آتا ہے، لیکن وہ خدا کی زمین میں اس کے شیر ہیں۔ اس حدیث کو طالب بن حجیر نے ہو والعصری سے انہوں نے معبد سے روایت کی۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ضمرہ بن فیض بن منقذ بن وہب بن بداء بن غاضرہ حبشہ بن کعب بن عمر: بروایت ہشام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھے۔ اشتری نے ان کا ذکر، الاستیعاب کے حاشیے پر ابو عمر کے ترجمے میں کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عبد سعد بن عامر بن عدی بن مجدعۃ بن حارثہ بن حارث الانصاری حارثی: غزوہ اُحد میں مع اپنے بیٹے تمیم بن معبد کے شریک تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ بن قیس بن صخر اور ایک روایت میں معبد بن وہب بن قیس صخر آیا ہے۔ ایک روایت میں معبد بن قیس بن صیفی بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمۃ انصاری السلمی: یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: معبد بن قیس بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ۔ ان کے بھائی کا نام عبد اللہ تھا۔ اس روایت کے رو سے معبد غزوۂ احد میں بھی شریک تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم قرشی ہاشمی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمزاد تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے۔ مگر انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ یاد نہیں رہا تھا۔ ان کی والدہ ام الفضل بنتِ حارث تھیں۔ یہ صاحب حضرت عثمان کے عہدِ خلافت میں افریقہ میں شہید ہوئے تھے۔ ان کی فوج کے کماندار عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
الہمدانی: ابو احمد عسکری نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور باسنادہ فضل بن علاء کوفی سے، انہوں نے ثور بن یزید سے انہوں نے خالد بن معدان سے انہوں نے معدی کرب سے روایت کی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب مَیں گھر میں داخل ہوتا ہوں۔ تو ازحد پریشان ہوتا ہوں۔ آپ نے فرمایا، کسی شریف عورت سے شادی کرلو۔ اس نے اس نصیحت پر عمل کیا اور پریشانی جاتی رہی۔ ۔۔۔
مزید