ابن کعب بن زید بن عاصم۔کنیت ان کی ابوالحارث ہے۔بنی مازن بن نجارسے ہیں۔انصاری ہیں خزرجی ہیں ۔غزوۂ بدر میں شریک تھے ۔بدر کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مال غنیمت کی حفاظت کے لیے مقررکیاتھا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہےاورابونعیم نے کہا ہے کہ بعض لوگ ان کو عبداللہ بن کعب بن عاصم کہتے ہیں ابن مندہ نے لکھا ہے کہ ان کی وفات ۳۳ھ میں ہوئی حضرت عثمان نے ان کے جنازہ کی نماز پڑھائی۔ابن مندہ نے ان کا نسب اس طرح بیان کیا ہے عبداللہ بن کعب بن عاصم بن مازن بن نجار غرضیکہ کئی نام انھوں نے درمیان سے حذف کردیے ہیں۔۔۔۔
مزید
ابن غالب لیلی۔کبار صحابہ سے ہیں۔انھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲ھ میں ایک لشکر کے ہمراہ بھیجاتھا ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن غالب لیلی۔کبار صحابہ سے ہیں۔انھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲ھ میں ایک لشکر کے ہمراہ بھیجاتھا ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمرو ابو قطبتہ الانصاری خزرجی سلمی: ان کا ذکر کنیتوں کے عنوان کے تحت آئے گا۔ یہ ہشام بن کلبی کا بیان ہے۔۔۔۔
مزید
بن عمیر یا زید بن عمیر: یہ اس مکتوب کے شاہد ہیں، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علاء بن حضرمی کو لکھ کر دیا تھا اور ایک مہم پر روانہ کیا تھا۔ ابو موسیٰ نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن قیس سعید بن قیس کے بھائی تھے۔ بقولِ جعفر وہ اولین مہاجرین سے ہیں۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن قیس بن ہانی بن حجر بن شرحبیل بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ الاکرمین الکندی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ یہ کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مالک ابو سیرہ: ان کے ایک لڑکے کا نام سبرہ تھا، اور دوسرے کا عبد الرحمان ہم کنیتوں میں ان کا ذکر کریں گے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مالک ابو سیرہ: ان کے ایک لڑکے کا نام سبرہ تھا، اور دوسرے کا عبد الرحمان ہم کنیتوں میں ان کا ذکر کریں گے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مزین بن قیس بن عدی بن امیہ بن خدارہ بن عوف بن حارث بن خزرج: یہ واقدی کا قول ہے، لیکن ابن اسحاق، موسی بن عقبہ اور ابن قداح نے ان کا نام زید لکھا ہے۔ ابو عمر نے اسی روایت کو درست قرار دیا ہے۔ ۔۔۔
مزید