بن انس: ایک روایت میں محمد بن انس بن فضالہ ہے اور ہم اس نام پر محمد بن انس کے تحت بحث کر چکے ہیں ابو نعیم نے اس کی اس طرح تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابن منیع نے اِن کا ذکر صحابہ میں کیا ہے: حالانکہ وہ تابعی ہیں ابن مندہ نے ان کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
یہ صاحب اپنے بھائی حصن کے ساتھ قادسیہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ہم ان کا نسب اِن کے باپ کے ترجمے میں بیان کریں گے دونوں بھائی لاولد مرے۔ ابن الکلبی نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن اسود بن عباد بن غنم بن سواد: حضور اکرم نے ان کا نام محمد رکھا تھا۔ فتح مکّہ کے موقعہ پر موجود تھے۔ اس کی تخریج ابو موسیٰ نے کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن سحیم بن مستورد بن عامر بن عدی بن کعب بن نضلہ: یہ صحابی فتح مکّہ میں موجود تھے ابو موسیٰ نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ان کا نام محمد رکھا اور گھٹی دی۔ یہ ابن القداح کا بیان ہے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ہم ان کا نسب ان کے بھائی محرز کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ دونوں ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے اور ان کے والد نضلہ انصار کے حلیف تھے۔ ابن اسحاق نے دونوں بھائیوں کی ہجرت کی تصدیق کی ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ہم ان کا نسب ان کے بھائی محرز کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ دونوں ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے اور ان کے والد نضلہ انصار کے حلیف تھے۔ ابن اسحاق نے دونوں بھائیوں کی ہجرت کی تصدیق کی ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کا تعلق انصار سے ہے اور مندرجہ ذیل حدیث، جو ان سے مروی ہے، کا مخرج اہلِ مصر اور اہلِ خراسان تھے: کَالِئُی المَرُأَۃِ والدَّیُنَ الَّذِیْ لَا یُؤدی: ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔
مزید
جو انصار کے حلیف تھے۔ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا تذکرہ کیا ہے۔۔۔۔
مزید